کراچی میں مکھیوں کی افزائش نسل کے لیے ہر سہولت موجود ہے

بد قسمتی سے پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ناقص بلدیاتی نظام کے باعث مکھیوں اور مچھروں کی افزائش نسل کے لیے ہر قسم کی سہولت موجود ہے۔

کوڑا کرکٹ پر بیٹھنے والی مکھی اور پیٹ کی بیماریاں پھیلانے والی بَلو فلائی کی بہتات نے اہلیانِ کراچی کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہوا ہے

کراچی کے شہری ان دنوں بند کمروں میں بھی محفوظ نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم جہاں جاتے ہیں مکھیاں ہمارے ساتھ چلتی ہیں، ہمارے ساتھ کھاتی پیتی ہیں، یہاں تک کہ ہم سوتے ہیں تو سرہانے بیٹھ کر ہمیں دیکھتی ہیں۔ گاڑی کے شیشے بند کریں تو اندر رہ جاتی ہیں، انہیں بھگانے کے لیے شیشے کھول دیں تو اور مکھیاں آجاتی ہیں۔ چائے کے کپ کا تو طواف کرتی ہیں، ٹی وی دیکھیں تو اس پر چپک جاتی ہیں، کھلی فزا میں لمبی سانس لیں تو ایک نہ ایک مکھی اندر چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کراچی ائیرپورٹ پر راشتےداروں سے پہلے مکھیاں استقبال کرتی ہیں۔ آخر کیا چاہتی ہیں یہ ہم سے؟ کراچی میں کیوں اور کہاں سے آئی ہیں اتنی مکھیاں؟؟؟

ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ایک لاکھ 20 ہزار سے بھی زائد مکھیوں کی اقسام موجود ہیں لیکن کراچی میں پچھلے چند ہفتوں میں ملیریا اور ڈینگی کے مچھر، ہاؤس فلائی یعنی کوڑا کرکٹ پر بیٹھنے والی مکھی اور پیٹ کی بیماریاں پھیلانے والی بَلو فلائی کی بہتات نے اہلیانِ کراچی کو شدید مشکلات میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایسے مقامات جہاں کھانے پینے کی اشیا سے بننے والا کوڑا کرکٹ یا پھر نامیاتی مادہ یعنی آرگینک مےٹر جیسے کہ فضلہ یا گوبر موجود ہو اور کھلی نالیاں جہاں سیوریج کی گندگی جمع ہو، مکھیوں کی افزائشِ نسل کے لیے بہترین ماحول فراہم کرتے ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں ناقص بلدیاتی نظام کے باعث مکھیوں اور مچھروں کی افزائش نسل کے لیے ہر قسم کی سہولت موجود ہے جیسے کہ ہر محلے کی ہر گلی کے کونے میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر، سڑکوں پر عید الاضحی کے بعد قربانی کے جانوروں کی باقیات، حالیہ مون سون بارشوں کے بعد جگہ جگہ کھڑا ہوا خون آلود پانی اور ابلتے ہوئے گٹر سے سڑکوں پر سیوریج کا پانی۔

ہر سال بلدیاتی اداروں کی جانب سے عید الاضحی کے بعد جراثیم کش کیمیکل یعنی چونے کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا ماحول میں نمی ہونے کے باعث چونے کی افادیت کم ہوجاتی ہے اس لیے اس سال عید الاضحی اور بارشوں کے فوراً بعد جراثیم کش سپرے ہونا ضروری تھا۔ دس دن گزر جانے کے بعد جب سڑکوں پر جانوروں کی باقیات سڑ چکی تھیں اور مکھیوں کی تعداد میں حیرت انگیز اضافہ ہو گیا تب میئر کراچی وسیم اختر نے لوگوں سے لی ہوئی عطیات کے ذریعے جراثیم کش سپرے کا کام شروع کیا جس کے تحت 40 گاڑیاں استعمال کی جا رہی ہیں لیکن پانچ گاڑیاں ایک ضلع میں بھیجی جاتی ہیں جو کچھ دیر سپرے کر کے وہاں سے روانہ ہو جا تی ہیں۔

ڈی ایم سی وسطی کے چئیرمین ریحان ہاشمی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کراچی کے صرف چند علاقوں میں چھ ماہ قبل سپرے ہوا تھا جس کے بعد اب مہم کا آغاز ہوا ہے۔ جب ریحان ہاشمی سے یہ پوچھا کہ کیا کراچی میں ہونے والا جراثیم کش سپرے صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی گائیڈلائنز کے مطابق ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے ڈاکٹرز جرمنی کی کچھ سرٹیفائڈ دوائیاں اور لوکل سپرے استعمال کررہے ہیں اور کے ایم سی اپنے طریقے کار کے مطابق یہ مہم چلا رہی ہے۔

مکھیوں کی افزائش روکنے کا صحیح طریقہ

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی تحقیق کے مطابق مکھیوں کو کیمیکل یعنی کیڑے مار دوا یا مکینیکل ذرائع جیسے ٹریپ، چپچپا ٹیپ یا بجلی کے کرنٹ لگنے والی  گرڈ سے مارا جاسکتا ہے۔ تاہم  ماحولیاتی صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کو بہتر بنا کر ہی دیرپا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق مکھیوں کی افزائش کے تدارک کے لیے کوڑا ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہیے تاکہ مکھیوں کو افزائش کے لیے کم سے کم جگہ ملے۔ سب سے ضروری بات کوڑے دان کو پلاسٹک کی چادریں یا دیگر فلائی پروف مواد سے ڈھانپنا چاہیے۔  اس عمل سے مکھیوں کو انڈے دینے سے روکا جاسکتا ہے کیونکہ کچرا سڑ جانے کے عمل میں پیدا ہونے والی حرارت مکھیوں کو انڈے دینے کے لیے درکار ہوتی ہے اور یہ حرارت نہ ملنے کی صورت میں مکھیوں کی افزائش رک جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نہ صرف یہ بلکہ عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کی گائڈلائنز کے مطابق گرم ممالک میں کچرا ہفتے میں کم از کم دوبار جمع کیا جانا چاہیے۔ تاہم کچرا جمع کرنے اور نقل و حمل کے نظام کی عدم موجودگی میں اسے خاص طور پر کھودے گئے گڑھے میں جمع کیا جاسکتا ہے۔ کم از کم ہفتے میں ایک بار گڑھوں کو مٹی کی تازہ پرت سے ڈھانپنا چاہیے تاکہ کوڑے میں مکھیوں کی افزائش کو روکا جاسکے۔

سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کراچی کی ڈپٹی ڈائریکٹر الماس سلیم سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ ڈبلیو ایچ او کی ان گائڈلائنز کے مطابق کراچی میں مکھیوں اور مچھروں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ کے ایم سی کا کام ہے اور وہ اس کے لیے سپرے کروا رہے ہیں۔ خصوصاً مکھیوں کی افزائش کو روکنے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کچھ نہیں کر رہی۔

ان کا کہنا تھا کی کراچی میں روزانہ 14 ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے جس میں سے نو ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائٹس لے جایا جاتا ہے۔

مکھیوں کی افزائش سے صحت کو خطرہ

عالمی اداراہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق مکھیاں رینگتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے بیماری پیدا کرنے والے حیاتیات یعنی مختلف قسم کے بیکٹیریا اور وائرس کو اٹھا لیتی ہیں۔ وہ حیاتیات جو مکھی کی بیرونی سطحوں پر قائم رہتے ہیں وہ صرف چند گھنٹوں کے لیے زندہ رہ سکتے ہیں، لیکن جو کھانے میں پائے جاتے ہیں وہ مکھی کی آنت میں کئی دن زندہ رہ سکتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ مکھیاں گندگی اور صاف ستھری اشیا پر ایک ہی طرح سے اپنا فضلہ چھوڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں۔

جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر سو سے زائد مریض ایمرجنسی میں آرہے ہیں۔

 سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اس بار مکھیوں کی کثرت کی وجہ سے ڈائریا، ٹٓائیفائیڈ، گیسٹروانٹرائٹس اور مچھروں کی وجہ سے ملیریا، ڈینگی اور چکن گنیا کے کافی کیسز آرہے ہیں۔ گندے پانی کی وجہ سے وائرل ہیپاٹائٹس اے اور ای بھی کافی پھیل رہا ہے اور آنکھوں کے انفیکشن اور کھانسی نزلہ زکام کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

جے پی ایم سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کی لوگوں کو بھی اپنی صحت کا خیال کرنا چاہیے، لوگ جگہ جگہ کچرا نہ پھینکیں، کثرت سے ہاتھ دھوئیں، گھر میں پانی ابال کر پیئں تاکہ اس طرح کی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

دوسری جانب مکھیوں کی افزائش سے جراثیم کش ادویات فروخت کرنے والے دکانداروں کی چاندی ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکھیوں سے نجات کے لیے جہاں فنائل کی فروخت میں اضافہ ہوا وہیں سب سے زیادہ کیمیکل لگی چینی بھی فروخت ہونے لگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں سب سے زیادہ کیمیکل والی چینی فروخت کی جارہی ہے مکھیوں کی بہتات کی وجہ سے کیمیکل والی چینی کی قلت ہوگئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان