خیبر پختونخوا میں سرکاری گیسٹ ہاؤس کھولنے کا اصل فائدہ کسے ہو گا؟

نتھیاگلی میں گورنر ہاؤس میں رہائش کے چارجز یومیہ 40 ہزار روپے، وزیراعلیٰ ہاؤس کے لیے 24 ہزار جبکہ پولیس ہاؤس میں قیام کے اخراجات 18 ہزار روپے سے شروع ہوتے ہیں۔

نتھیا گلی میں گورنر ہاؤس(سوشل میڈیا)

مئی 2013 اور جولائی 2018 کے عام انتخابات سے قبل تحریک انصاف نے انتخابی منشور کے ذریعے عوام سے تحریری و کلامی طور پر وعدہ کیا تھا کہ طرز حکمرانی کم خرچ بنایا جائے گا۔ اس سلسلے میں دیگر اقدامات کے ساتھ سرکاری گیسٹ ہاؤسز کا بوجھ اتارنے کا ذکر  بھیکیا جاتا رہا۔ 2013 سے 2018  تک کی پانچ سالہ مدت میں خیبرپختونخوا میں حکومت سازی اور اگست 2018 سے قومی و صوبائی سطح پر حکومتیں بنانے کے بعد اس وعدے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔

ان وعدوں کو  پورا کرنے میں آخر چھ سال سے زائد کا عرصہ لگا ہے! کیا اِسے دیر آید درست آید قرار دینا چاہیے؟  جب سرکاری گیسٹ ہاؤسز کے اخراجات کا بوجھ سرکاری خزانے پر جوں کا توں برقرار ہے اور ان کاعوام کے لیے کھولا جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ ان گیسٹ ہاؤسز سے آمدنی ہوگی کیونکہ اصل مسئلہ انتظامی ہے۔

 سرکاری اداروں میں مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے امکانات وہ صوابدیدی و غیرصوابدیدی اختیارات ہیں جن کی موجودگی میں کسی بھی قسم کی حکمت عملی کی خاطر خواہ انداز میں کامیابی یقینی نہیں ہے۔

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کی رونقیں موسم گرما کی تعطیلات اور عید کے تہوار کے دوران عروج پر ہوتی ہیں جسے ’ٹورسٹ سیزن ‘ کہا جاتا ہے۔ اس سیزن کے  اختتام پر وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر صوبائی محکمہ سیاحت نے فیصلہ کیا ہے کہ پرفضا مقامات پر مختلف حکومتی اداروں کے زیرانتظام گیسٹ ہاؤسز کو عوام کے لیے کھول دیا جائے۔ یہ حکمت عملی خیبرپختونخوا میں سیاحت کی ترقی کا حصہ ہے جس سے متعلق 20 اگست کو وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں وزیراعلیٰ محمود خان ،وزیر سیاحت عاطف خان، چیف سیکرٹری محمد سلیم، سیکرٹری ٹورازم کامران رحمان و دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں غور ہوا۔

وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا کہ مجموعی طور پر 99 گیسٹ ہاؤسز آئندہ ماہ کے آغاز سے قبل کھول دیے جائیں گےاور اگرچہ یہ وعدہ کسی حد تک پورا کر دیا گیا ہے لیکن پہلی بات یہ ہے کہ ٹورسٹ سیزن کا اختتام ہو چکا ہے اور دوسری کہ  گیسٹ ہاؤسز میں فی رات قیام کی جو قیمت مقرر کی گئی ہے وہ عام آدمی (ہم عوام) کی قوت خرید سے زیادہ ہے جبکہ مالی طور پر مستحکم افراد کے لیے یہ قیمت انتہائی کم رکھی گئی ہے جو اس سے قبل ’پرل کانٹی نینٹل ہوٹل‘ یا دیگر نجی ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں کئی گنا زیادہ ادائیگیاں کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مثال کے طور پر خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام نتھیاگلی میں گورنر ہاؤس میں رہائش کے چارجز یومیہ 40 ہزار روپے، وزیراعلیٰ ہاؤس  کے لیے 24 ہزار جبکہ پولیس ہاؤس میں فی رات قیام کے اخراجات 18 ہزار روپے سے شروع ہوتے ہیں۔

صوبائی وزارت کے مطابق خیبرپختونخوا میں موجود 174سرکاری ریسٹ ہاؤسز کھولے جائیں گے جن میں سے پہلے مرحلے میں 27، دوسرے مرحلے میں 47جبکہ تیسرے مرحلے میں باقی ماندہ 100ریسٹ ہاؤسز کی ترتیب بنائی گئی ہے۔ تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز بیک وقت نہیں کھولے جا رہے جس کی منطق سوائے سیاسی حکمرانوں اور افسرشاہی پر مبنی فیصلہ سازوں کی ذاتی ترجیحات کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے۔

 یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ 70 برس سے زیراستعمال سرکاری عمارتوں کو ’قابل استعمال‘ بنانے پر بھی اخراجات کیے جا رہے ہیں جن کی تفصیلات موجود نہیں، البتہ ہنگامی بنیادوں پر کام کی وجہ سے محمکہ سیاحت کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ریسٹ ہاؤسز کی تزئین و آرائش ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔

سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں قیام کے اخراجات عام آدمی (اکثریت) کی قوت خرید سے زیادہ رکھنے کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت (کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ) ریونیو  کمانا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریسٹ ہاؤسز جن سے سیاسی حکمران اور افسر شاہی 70 برس سے زائد عرصے ’مفت استفادہ‘ حاصل کرتی رہی لیکن جب انہیں عوام کے لیے کھولنے کا مرحلہ آیا تو ایسی قیمت مقرر کی گئی ہے جو عام آدمی کی برداشت سے باہر ہے!

عوام کی منتخب کسی سیاسی حکومت کی ترجیح عوام ہونے چاہیئں لیکن اقتدار و اختیار حاصل ہونے کے بعد غیرمحسوس انداز سے فاصلے خلیج کی صورت بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ سیاحتی مقامات سے استفادہ کرنے والوں کی اکثریت کم مالی وسائل  کے ساتھ سفر کرتی ہے۔ جہاں ان کا  استقبال قیام و طعام کی اضافی قیمتوں کے ساتھ ایک ایسے ماحول سے ہوتا ہے جس میں صارفین کے حقوق کا تحفظ سب سے کم رہتا ہے۔

حکومتی گیسٹ ہاؤسز سے عام آدمی کو فائدہ نہیں لیکن اگر سیاحتی مقامات پر ناجائز منافع خوری کا علاج کیا جائے، سیاحوں کو لوٹنے والوں کا قبلہ درست کیا جائے اور اشیائے خوردونوش کے معیار کے ساتھ ان کے نرخناموں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو یہ احسان عظیم ہوگا۔

 ایک عام آدمی تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کسی سیاحتی مقامات پر چند راتیں بسر کرے گا۔ ایک دن کی سیاحت کرنے والوں نے کئی مقامات کی سیر کرنی ہوتی ہے۔ وہ کھانے پینے کا بیشتر سامان گھر سے لے کر چلتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی لٹیروں کے ہاتھ لگنا ایک معمول بن چکا ہے۔

تبدیلی صرف اس بات کا نام نہیں کہ خواص کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ یہ خواص جو اس سے قبل حکومتی گیسٹ ہاؤسز و سہولیات سے استفادہ حاصل کرتے تھے اب مختلف انداز سے سرکاری وسائل استعمال کریں گے لیکن مسئلہ تواس عام آدمی کا ہے جس کے بارے میں بہت کم سوچا جاتا ہے۔

 خیبرپختونخوا کے میدانی علاقوں میں عرصہ تین ماہ کے لیے تعلیمی ادارے بند ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں بچے صرف موسمی شدت کے باعث سکول نہیں جاتے جبکہ بالائی خیبرپختونخوا  میں گلیات کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سمر کیمپ بنا کر تدرس و تدریس کے سلسلے کو بنا تعطل جاری و ساری رکھا جا سکتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں ہوگا کہ کسی ایک بھی گیسٹ ہاؤس  کو سمر سکول کالج یا یونیورسٹی بنا کر علم دوستی کا مظاہرہ کیا جائے؟

 

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ