مختلف رنگوں میں بننے والی بلوچی چادر سردی کا توڑ

بلوچستان میں سردی کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف رنگوں میں تیار کی گئی ثقافتی شال یا چادر کی خرید و فروخت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

بلوچستان میں سردی کے آغاز کے ساتھ ہی ثقافتی شال یا چادر کی خرید و فروخت بھی شروع ہو گئی ہے۔ مختلف رنگوں سے تیار کی گئیں یہ شالیں ان دنوں مارکیٹ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

سردیاں آتے ہی کوئٹہ کے بازاروں میں بلوچی شال یا بلوچی اجرک کے خریدار بڑھنے لگے جاتے ہیں۔ یہ شال بلوچستان کے لوگوں کو زیادہ تر کوئٹہ ہی میں ملتی ہیں۔

ظہیر خان بھی بلوچی شال کی خریداری کے لیے کوئٹہ کے لیاقت بازار میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’میں کوہلو بارکھان سے اس چادر کی خریداری کے لیے آیا ہوں، کیونکہ سردی کا موسم ہے اور ہم سردیوں میں اس چیز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔یہ ہمارا بلوچی کلچر ہے اس لیے ہم اس چادر یا شال کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔‘

شال بلوچی زبان کا لفظ جس کی معنی ’چادر‘ ہے جبکہ پشتو میں چادر کو ’پٹو‘ یا ’ٹکرائی‘ کہا جاتا ہے، جسے سردی سے بچنے کے علاوہ یہاں کے لوگ بطور ثقافت بھی استعمال کرتے ہیں۔

مختلف رنگوں سے بنی ان چادروں پر ہاتھ سے کی گئی کشیدہ کاری سے ثقافتی جھلک بھی نمایاں ہوتی ہے۔

کوئٹہ کے دکاندار محمد بلال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس چادر کا تھرپارکر میں استعمال زیادہ ہونے کے باعث اسے تھر شال کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ’تاہم بعد میں بلوچستان میں اسے بلوچی شال کا نام دیا گیا۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہ شال زیادہ تر سردی میں یہاں کے لوگ استعمال کرتے ہیں، بلوچی شال گرم دھاگے سے بنی ہوتی ہے۔ اون سے بھی تیار کی جاتی ہے۔‘

ان کے مطابق ’ویلویٹ سے بنی یہ شالیں زیادہ مہنگی اور اچھی کوالٹی کی ہوتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محمد بلال نے بتایا کہ ’یہ شال مردوں کے علاوہ خواتین بھی پہنتی ہیں۔ اس لیے سردی کے شروع ہوتے ہی ہمارے پاس گاہکوں کا آنا شروع ہو جاتا ہے۔

’بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگ ان کی خریداری کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’شال کی خریداری سے ان کو سیزن میں اچھا منافع ہوتا ہے۔‘

اس چادر یا شال کو بلوچستان میں نہ صرف بلوچ پہنتے ہیں بلکہ پشتون، سندھی اور اب ملک کے دیگر علاقوں میں پسند کیا جاتا ہے۔

ضلع جھل مگسی سے آئے محمد خطاب بھی شال کی خریداری کرنے بازار آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’بلوچی شال کو لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور سردی سے بچاؤ کے لیے بہترین چیز ہے۔‘

دکاندار محمد عمران کا کہنا ہے کہ ’جتنی سردی بڑھتی ہے اتنا ہی اس شال کی طلب اور ضرورت بڑھ جاتی ہے اور بازاروں میں خریداروں کا رش لگا رہتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی آرٹ