’ڈھائی چال‘ انڈیا کے پروپیگنڈے کا جواب ہے: ڈائریکٹر

آٹھ دسمبر کو ریلیز ہونے والی یہ فلم انڈین ایجنٹ کلبھوشن یادو کے گرد گھومتی ہے، جس میں شمعون عباسی، عائشہ عمر اور ہمایوں اشرف نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔

نئی پاکستانی فلم ’ڈھائی چال‘ کے ڈائریکٹر تیمور شیرازی کا کہنا ہے کہ اب تک انڈیا میں جتنی بھی فلمیں بنی ہیں، جن میں پاکستان کا منفی چہرا دکھایا گیا ہے، ’ان سب کا جواب فلم ڈھائی چال سے دیں گے۔‘

کراچی میں فلم ’ڈھائی چال‘ کے ٹریلر لانچ کی تقریب کا انعقاد منگل کو کیا گیا، جس میں فلم کی کاسٹ نے میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

اس تقریب میں فلم کا ڈھائی منٹ دورانیے کا ٹریلر دکھایا گیا، جس سے اندازہ ہوا کہ فلم کا موضوع رومانوی نہیں بلکہ ایکشن سے بھرپور ہے۔

یہ فلم انڈین ایجنٹ کلبھوشن یادو کے گرد گھومتی ہے، جس میں اداکارہ عائشہ عمر اور شمعون عباسی مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

فلم کی دیگر کاسٹ میں عدنان شاہ ٹیپو، تقی احمد، سلیم معراج، ہمایوں اشرف، عریض چوہدری، فراز مری، جمال گیلانی، پاکیزہ خان و دیگر شامل ہیں۔

’ڈھائی چال‘ میں خفیہ ایجنٹ کا کردار نبھانے والے اداکار ہمایوں اشرف نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا: ’ایک رات میں ہی فیصلہ کیا کہ فلم میں کام کرنا ہے یا نہیں۔  فلم کو اس لیے سائن نہیں کیا کہ میں پیسے کما سکوں بلکہ اس لیے سائن کیا کہ فلم حقیقت پر مبنی ہے، ہم نے کچھ بھی جھوٹ نہیں لکھا۔‘

’ہمارا تو کبوتر بھی انڈیا میں انتہائی مطلوب ہوجاتا ہے‘

ہمایوں اشرف کا کہنا تھا کہ ’ہم نے یہ تاثر دینے کی کوشش نہیں کی کہ پڑوسی ملک ہمارا دشمن ہے۔ جب انڈیا فلمیں بناتا ہے تو ان میں بہت سی جھوٹی باتیں اور کہانیاں ہوتی ہیں۔ ہم نے کبھی یہ سوچ کر فلم نہیں بنائی جو کسی کے مخالف ہو۔ ہر کسی کے جذبات ہوتے ہیں اور ہم نے بھی بہت سی ایسی فلمیں دیکھیں، جو پاکستان مخالف بنائی گئیں لیکن ہم نے کیا کر لیا، ہمارا تو کبوتر بھی انڈیا میں انتہائی مطلوب ہوجاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فلم کا ڈائیلاگ: ’ہم بالی وڈ نہیں ہیں جہاں کلائمیکس میں تم لوگ ہر جنگ جیت جاتے ہو،‘ اشارہ کر رہا ہے کہ فلم دلچسپ ضرور ہے تاہم کلبھوشن یادو کے حقیقی قصے پر مبنی ہے۔

ہمایوں اشرف نے فلم کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا: ’جانے کا وقت ہوگیا کلبھوشن، ممبئی نہیں اسلام آباد۔‘

انڈین جاسوس کلبھوشن یادو ان دنوں پاکستان میں زیر حراست ہیں۔ اس فلم میں لاپتہ افراد اور کلبھوشن کی کہانی کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس حوالے سے ہمایوں نے بتایا: ’فلم بنانے کے دوران ہمیں کہیں نہ کہیں جان کا خطرہ بھی محسوس ہوا لیکن پاکستان کے امن کے لیے اور ملک کے لیے فلم میں کام کیا تو جان کی پروا نہیں ہوئی۔‘

بقول ہمایوں اشرف: ’میں پہلے بھی کوئٹہ جا چکا ہوں لیکن  ڈھائی چال کی شوٹ کا تجربہ بہترین رہا۔ ہم نے بلوچستان کے ایسے مقامات پر شوٹنگ کی جو پہلے نہیں دیکھے تھے، جس کے بعد اندازہ ہوا کہ کوئٹہ اور بلوچستان بہت خوبصورت ہیں۔ بہت مہمان نواز ہے اور وہاں کے لوگ بہت پیار کرتے ہیں۔ وہاں سے متعلق جو تاثر بنا ہوا ہے کہ آپ کوئٹہ یا بلوچستان نہیں جاسکتے وہ غلط ہے۔‘

 صحافی کے کردار کے لیے ورکشاپس لیں: عائشہ عمر

فلم میں عائشہ عمر کو ایک صحافی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اپنے کردار کو نبھانے کے لیے انہوں نے ریسرچ کی اور ورکشاپس لیں تب جا کر صحافی کے کردار کو نبھایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ وہ فلم میں ایک صحافی کا کردار ادا کرتی دکھائی دیں گی، ’جو بلوچستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کو بے نقاب کرتی ہے۔‘

عائشہ عمر نے بتایا کہ ’فلم کے دوران منفی آٹھ ڈگری کے سرد موسم میں بھی کام کیا، جس میں ڈائیلاگز کی ادائیگی مشکل سے کی اور جسم سردی سے کپکپا رہا تھا۔‘

ایسی فلم جس کا تعلق پاکستان کے امن سے ہو تو بطور پاکستانی آپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں عائشہ عمر نے کہا کہ اس میں ڈر اور فخر دونوں عناصر شامل ہوتے ہیں۔

’ڈر اس لیے کہ جب آپ کوئی ایسا کردار ادا کریں جس میں خطرہ ہو تو ڈر لگتا ہے۔ بہت سی متنازع فلموں میں کام کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ سب گھوم پھر کر میرے پاس آجاتا ہے۔ یہ فخر کی بات ہے کہ آپ ملک کے لیے جو کردار نبھا سکتے ہیں، اس میں آپ کا کردار ہے۔‘

انہوں نے فلم کی کہانی اور اپنے کردار کے حوالے سے مزید بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ شائقین کو فلم کی کہانی بہت اچھی لگے گی، فلم میں بلوچستان میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کی وجہ سے وہاں پیدا ہونے والے کشیدہ حالات کو دکھایا گیا ہے۔

ہدایت کار تیمور شیرازی کی فلم کی کہانی فرحین چوہدری نے لکھی ہے جب کہ اسے ڈاکٹرعرفان اشرف نے پروڈیوس کیا ہے۔

فلم کا نام  ’ڈھائی چال‘ کیوں رکھا گیا؟

اس سوال کے جواب میں فلم کے ڈائریکٹر تیمور شیرازی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ڈھائی چال اس لیے ہے کیونکہ یہ سپائی (جاسوسی) تھریلر ہے جیسے شطرنج کے گیم میں ہوتا ہے، مطلب ڈھائی چال گھوڑے کی چال کو کہتے ہیں، جس میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہم انڈین فلموں کے جواب میں اپنا موقف رکھیں اور دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرہ سامنے لائیں۔‘

فلم کے پرو ڈیوسر عرفان اشرف نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’انڈیا بہت پروپیگنڈا کرتا ہے جبکہ بلوچستان سیاحت کے لیے اہم جگہ ہے، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے فلم کی شوٹنگ کی گئی تاکہ سیاحت کو فروغ ملے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’عام طور پر اس طرح کی فلموں کو پاکستانی سینیماؤں میں پذیرائی نہیں ملتی۔ فلم کو بنانے میں حکومت کی طرف سے تعاون نہیں ملا جس کی وجہ سے بلوچستان میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، فلم میں مسئلہ کشمیر کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

 ڈھائی چال میں شمعون عباسی کے کردار کو مبہم رکھا گیا ہے، اسے ٹریلر سے سمجھنا ناممکن ہے۔ یہ فلم آٹھ دسمبر کو سینیما گھروں کی زینت بنے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم