میت والے گھر پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے پر پولیس افسر کو سزا

برطانوی پولیس افسر آوی مہاراج نے اُس وقت پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کیں جب وہ ایک گھر کی، جہاں ایک لڑکے کی موت ہوئی تھی، حفاظت کے لیے تعینات تھے

لندن میٹروپولیٹن پولیس کے افسر آوی مہاراج (بشکریہ پی اے)

برطانیہ میں ایک بچے کی موت پر غمزدہ خاندان کے ٹیلی ویژن اکاؤنٹ کے ذریعے پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے والے پولیس افسر کو 12 ماہ قید سزا سنا دی گئی۔

آوی مہاراج نامی پولیس افسر نے جنوبی لندن کے ایک گھر میں ٹیلی ویژن اکاؤنٹ سے چار پورن فلموں کے لیے ادائیگی کی۔ فروری 2018 میں ایک 14 سالہ لڑکے کی موت ہوئی تھی جو اس گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

مقدمے کی سماعت ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں ہوئی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس افسر کی اس حرکت سے لڑکے کے والد نے یہ سمجھا کہ ان کا بیٹا اپنی موت سے قبل پورن فلمیں دیکھ رہا تھا۔

لندن میٹروپولیٹن پولیس کے افسر آوی مہاراج ارلزفیلڈ کے علاقے میں ڈیوٹی کرتے تھے۔ جب انہوں نے پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کیں، اُس وقت وہ اُس گھر کی حفاظت کی پر مامور تھے جہاں لڑکے کی موت ہوئی تھی۔

وہ تدفین کا انتظام کرنے والے عملے کا انتظار کر رہے تھے جسے لڑکے کی لاش لینے آنا تھا۔ اس انتظار کے دوران انہوں نے خاندان کا ورجن میڈیا اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے 26.96 پاؤنڈ کی ادائیگی کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد انہوں نے اپنی حاضری کے ریکارڈ میں بھی جعل سازی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ اس گھر سے دو گھنٹے پہلے روانہ ہو گئے تھے حالانکہ ان کی روانگی کا اصلی وقت دو گھنٹے بعد کا تھا۔ انہوں نے ایسا اپنی حرکت پر پردہ ڈالنے کے لیے کیا۔

جج ڈیبرا ٹیلر نے آوی مہاراج کو سزا سناتے ہوئے کہا: ’ایسے حالات میں آپ کی جانب سے غیرشائستہ رویے کا مظاہرہ اچھی سوچ رکھنے والے افراد کو بہت برا لگا ہوگا۔‘

لڑکے کے والد گراہم ملر نے ایک خط میں کہا مہاراج کی حرکت سے ابتدائی طور پر ان کے بیٹے کی وہ ساکھ ’متاثر‘ ہوئی جو ان کے ذہن میں تھی۔

انہوں نے مزید کہا اس سے’مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں اپنے ہی بیٹے کو نہیں جانتا تھا۔‘

ملر کو سارے معاملے کا اُس وقت پتہ چلا جب انہوں نے ورجن میڈیا سے رابطہ کیا، جہاں سے انہیں فلمیں ڈاؤن لوڈ کیے جانے کا وقت بتایا گیا۔

پراسیکیوٹر گریگور میکنلے کے مطابق ورجن میڈیا سے حاصل کیے گئے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ رات 11 بجے سے 11 بج کر 42 منٹ کے دوران چار پورن فلمیں ڈاؤن لوڈ کی گئیں، جن میں ہر ایک کی قیمت 6.49 پاؤنڈ بنتی ہے۔

میکنلے کے مطابق مہاراج نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ رات 11 بج کر 58 منٹ پر اُس گھر سے چلے گئے تھے لیکن حقیقتاً پولیس کی گاڑی صبح ایک بج کر 44 منٹ تک گھر کے باہر موجود رہی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ مہاراج نے ابتدا میں پولیس کے پوچھنے پر الزامات سے انکار کیا۔

میکنلے نے کہا: ’مہاراج نے پولیس افسروں کو پہلے سے لکھا گیا بیان دیا جس میں انہوں نے الزام کی تردید کرتےہوئے لڑکے کے گھر کے محفوظ ہونے پر سوال اٹھایا اور کہا گھر کا عقبی دروازہ غیر محفوظ تھا۔‘

تاہم، اس کے باوجود 16 جولائی کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں ان پر غلط بیانی کی بنیاد پر دھوکہ دہی کی فرد جرم عائد کی گئی اور مہاراج نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس میں ملوث تھے۔

مہاراج کے وکیل ایڈمنڈ گرٹ نے معاملے کی سنگینی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ مہراج نے ’انتہائی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے ملرخاندان سے معذرت کی۔‘

’مہاراج کو احساس ہے کہ انہوں نے ممکنہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر گھٹیا رویے کا مظاہرہ کیا۔ اخبار ’ایوننگ سٹینڈرڈ‘ میں رپورٹ شائع ہوئی کہ ملر خاندان نے مہاراج کو معاف کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ان کو اس سے اپنی عزت افزائی کا احساس ہے لیکن ساتھ ہی اپنے کیے پر شرمندگی بھی ہے۔‘

عدالت کو بتایا گیا مہاراج پر فرد جرم عائد ہونے سے ان کا پولیس سروس میں کیریئر ’ہمیشہ کے لیے ختم‘ ہو جائے گا۔

گرٹ نے کہا کہ نو ستمبر کو مقدمے کی ایک خصوصی سماعت ہوگی اور مہاراج کی پولیس سے برطرفی ’ناگزیز‘ ہے۔

جج ڈیبرا ٹیلر نے مہاراج کو 12 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

جب جولائی میں مہاراج کو مجرم قرار دیا گیا تھا تو اُس وقت انڈپینڈنٹ آفس فار پولیس کنڈکٹ کے ریجنل ڈائریکٹر سال نسیم نے کہا تھا: ’پولیس افسر مہاراج کا رویہ دل دہلا دینے والا تھا اور مزید بری بات یہ تھی کہ انہیں اُس مکان کی حفاظت پر مامور کیا گیا تھا جس کا مالک موقعے پر موجود نہیں تھا۔ پولیس افسر کی حرکات نہ صرف دھوکہ دہی پر مبنی ہیں بلکہ انہوں نے اس خاندان کو بھی بے حد تکلیف پہنچائی جو اپنے بیٹے کی اچانک موت کے معاملے میں غمگین تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے افسوس ہے متعلقہ خاندان کو بچے کی اندوہناک موت سے پیدا ہونے والی صورتحال میں اس قسم کے حالات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔‘

اس رپورٹ میں پریس ایسوسی ایشن کی معاونت شامل ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ