’چھ سال سے بلاناغہ شہید بیٹے کی تصاویر شیئر کر رہا ہوں‘

ایس پی (ر) امتیاز سرور کہتے ہیں فیس بک پر میرے بیٹے کیپٹن سلمان سرور کا پیج میرے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مجھے سکون ملتا ہے۔

ایس پی (ر) امتیاز سرور کی اپنے بیٹے کیپٹن سلمان سرور کے ساتھ تصویر(فیس بک)

فیس بک پر ایک پیج ایسا ہے جہاں ایک والد ایس پی (ر) امتیاز سرور گذشتہ چھ برس سے بلاناغہ اپنے اکلوتے بیٹے کی تصاویر پوسٹ کر رہے ہیں۔ 

سرور کہتے ہیں ’فیس بک پر میرے بیٹے کا پیج میرے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں مجھے سکون ملتا ہے، میں دن میں اس پیج کو گھنٹوں بیٹھ کر دیکھتا رہتا ہوں‘۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے امتیاز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ’کیپٹن سلمان سرور شہید — اَور بریو لائن نامی اس فیس بک پیج کو 14 ہزار لوگ پسند کرتے ہیں۔‘

کیپٹن سلمان سرورنے مئی 2013 میں دہشت گردوں کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن المیزان میں رضاکارانہ طور پر خدمات پیش کیں اور  ضلع خیبر میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے جان دی۔

ایس پی [ر] امتیاز سرور نے انڈپینڈینٹ اردو کو بتایا سلمان ٹیکسلا میں اس وقت جنرل ایاز سلیم کے سٹاف آفیسر مقرر ہوئے، مگر جب وہاں سے پوسٹنگ کے آرڈر آئے تو انہوں نے اصرار کر کے اپنی پوسٹنگ ’آپریشن المیزان‘ میں کروا لی۔ 

امتیاز سرور کے مطابق، سلمان نے آپریشن کے دوران سو سے زیادہ دشمنوں کو ٹھکانے لگایا اور کئی کو گرفتار کیا، دہشت گردوں نے ان کا نام 'لال شاہ' رکھا ہوا تھا او وہ ان کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ 

امتیاز سرور نے بتایا 2013 کے انتخابات کے دوران آپریشن المیزان کی شدت کو کچھ روز کے لیے کم کیا گیا اور سلمان کو میدان جنگ سے واپس چیک پوسٹ بھیج دیا گیا کیونکہ یہاں ان کی جان کو خطرہ تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 14 مئی 2013 کو چیک پوسٹ پر حملے میں سلمان کو سینے میں تین گولیاں لگیں لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور زخمی حالت میں 90 منٹ تک لڑتے رہے۔ بعد ازاں ہسپتال میں آپریشن ٹیبل پر دم توڑ گئے۔

27 سالہ سلمان کے والد کا کہنا ہے ’یوں لگتا ہے جیسے اللہ نے سلمان کو اسی دن کے لیے چنا تھا۔‘ 

سلمان کے بغیر چھ برس کس طرح گزرے؟ اس سوال پر وہ کچھ دیر خاموش رہے جیسے خود کو سنبھال رہے ہوں، پھر کچھ توقف سے بولے: یہ چھ برس نہیں ہیں، ہمارے لیے چھ ہزار سال ہیں جن میں گھنٹے بھی ہیں، منٹ بھی اور سیکنڈ بھی۔

’بس آپ یہ اندازہ لگا لیں کہ ہر سیکنڈ میں ہم ان کو یاد کرتے ہیں۔ کچھ لمحوں میں ہم ان پر فخر کر کے خوش ہوتے ہیں اور کچھ لمحے شدید درد اور تکلیف کے ہیں۔ کبھی وہ فخر بن کر سامنے رہتے ہیں اور کبھی گہرا دکھ بن کر،  ہر روز ایسے ہی چلتا رہتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا ’یہ فیس بک پیج سلمان کی شہادت کے بعد فوج نے بنایا تھا اور مجھے ان کے والد کی حیثیت سے اس کا ایڈمن مقرر کیا گیا، مگر کچھ عرصہ بعد میں نے فوجی حکام سے اس بات کی اجازت لے لی کہ میری اجازت کے بغیر اس پیج پر کوئی اور پوسٹ نہیں کر سکتا۔‘

’بس مئی 2013 سے اب تک میں یہی کر رہا ہوں۔ سارا دن سلمان کی تصاویر دیکھتا ہوں، انہیں پوسٹ کرتا ہوں جس سے میں دلی سکون محسوس کرتا ہوں۔‘

سلمان کی والدہ نے بھی اپنے لیے ایک راہ فرار تلاش کی ہوئی ہے۔ انہوں نے 2013 سے اب تک ہلاک ہونے والے تمام فوجیوں کے خاندانوں کی ایک کمیونٹی بنا رکھی ہے، جس میں متاثرہ مائیں آپس میں رابطے میں رہتی ہیں۔

اس کے علاوہ کسی کی برسی یا سالگرہ ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ سب ایک جگہ اکٹھے ہوں۔

امتیاز سرور کہتے ہیں چھ ستمبر کا دن دراصل سرحدوں پر بیٹھے ہمارے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کا دن ہے۔

’وہ لوگ سرحد پر اپنی جان ہتھیلی پر لے کر بیٹھے ہیں اور ہمیں انہیں بتانا چاہیے کہ قوم اپنے شہدا سے کس حد تک محبت کرتی ہے تاکہ ان کا حوصلہ بلند رہے اور وہ دل و جان سے ملک و قوم کی حفاظت کریں۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی