’احتساب میں یک طرفہ جھکاؤ کا تاثر تباہ کن‘

کسی کی آواز یا رائے دبانے کا نتیجہ بد اعتمادی کی صورت میں سامنے آتا ہے اور بے چینی پیدا ہوتی ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ (تصویر: سپریم کورٹ آف پاکستان)

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ سیاسی انجینیئرنگ کے لیے احتساب کےعمل میں یک طرفہ جھکاؤ کا تاثر تباہ کن ہے۔

نئے عدالتی سال کے آغاز پر ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تا کہ احتساب کے عمل کی ساکھ متاثرنہ ہو۔‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی اچھی بات ہے لیکن غیرجانبداری کے بغیرایسا کرنا معاشرے کے لیے زیادہ مہلک ہوگا۔

میڈیا کی زبان بندی کے حوالے سے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اختلاف رائے کو دبانے کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کسی کی آواز یا رائے دبانے کا نتیجہ بد اعتمادی کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس سے بے چینی پیدا ہوتی ہے جو جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کم مدت کے سیاسی فائدے کے لیے آئینی حقوق پر سمجھوتہ کرنا درست نہیں ہے۔ جمہوریت میں اختلاف اور برداشت کے بغیر جبرکا نظام قائم ہوجاتا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ اس کےخطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔‘

چیف جسٹس نے گزشتہ عدالتی سال میں پیش آنے والی مایوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 17 جنوری کو انہوں نے مقننہ اور انتظامیہ سے کہا تھا کہ عدالتی نظام کی تنظیمِ نو پر غور کرکے تین سطحوں پر مشتمل نظام متعارف کرایا جائے لیکن بدقسمتی سے اس ضمن میں ابھی تک کچھ نہیں کیا گیا۔ حتیٰ کہ ریاستی اداروں کے اندر موجود مسائل کی نشاندہی کے لیے اداروں کے درمیان ڈائیلاگ کی تجویز پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اب تک لاپتہ افراد کے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سپریم جوڈیشل کونسل میں زیرِ التوا کیسز کے حوالے سے چیف جسٹس نے کہا کہ ’اس وقت کونسل کے پاس نو شکایات اور ریفرنس زیر التوا ہیں جن میں دو صدارتی ریفرنس بھی شامل ہیں۔ ان نو ریفرنسز میں سے چار ریفرنس صدارتی ریفرنسز سے پہلے آئے جن میں سے ایک پر کارروائی روک دی گئی ہے۔‘

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’جہاں تک دو صدارتی ریفرنسز کا تعلق ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل پہلے ہی ان پر کارروائی کر رہی ہے جبکہ صدارتی ریفرنسز آنے کے بعد تین شکایات آئیں جن پر پیش رفت ہوئی ہے۔‘

دو صدارتی ریفرنسز سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا کے خلاف ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی مشکل ترین کام ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کے استعمال کا مسئلہ حل کرنے کے لیے آئندہ فل کورٹ ریفرنس تک مسودہ تیارکر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’سوموٹو کا اختیارقومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا۔ کسی کے مطالبے پر لیا گیا نوٹس ازخود نوٹس نہیں ہوتا۔ سوموٹو سے عدالتی گریز زیادہ محفوظ اور کم نقصان دہ ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان