مریم نواز بغیر اختیارات کے نائب صدر رہ سکتی ہیں

الیکشن کمیشن پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی نائب صدر کا عہدہ مشروط طور پر رکھ سکتی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق مریم نواز  قائم مقام صدر نہیں بن سکتیں اور نہ ہی اختیارات کا استعمال کرسکتی ہیں (پی ایم ایل این)

الیکشن کمیشن پاکستان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پارٹی کی نائب صدر کا عہدہ مشروط طور پر رکھ سکتی ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف دائر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

یہ دوسری مرتبہ تھا کہ الیکشن کمیشن نے پارٹی کی نائب صدارت رکھنے سے متعلق کیس میں فیصلہ محفوظ کیا، اس سے قبل یکم اگست کو یہ فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا اور اسے 27 اگست کو سنانے کا کہا گیا تھا۔ تاہم ای سی پی نے غیرمعمولی اقدام اٹھاتے ہوئے اس فیصلے کو موخر کردیا تھا اور دونوں فریقین کے وکلا سے کہا گیا تھا کہ وہ اس میں مدد کریں کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں آیا سزا یافتہ شخص کے سیاسی جماعت کےصدر کا عہدے رکھنے پر عائد پابندی کا اطلاق نائب صدر پر بھی ہوتا ہے یا نہیں ؟

الیکشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق مریم نواز نائب صدارت کا عہدہ مشروط طور پر رکھ سکتی ہیں جبکہ قائم مقام صدر نہیں بن سکتیں اور نہ ہی اختیارات کا استعمال کرسکتی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ ن لیگ کے نائب صدر کا عہدہ بظاہر غیر فعال ہے، اس لیے مریم نواز نائب صدارت کا عہدہ رکھ سکتی ہیں۔

‎تحریک انصاف کے وکیل حسن مان نے دلائل میں کہا تھا کہ سیکشن 203 کو آرٹیکل 62 اور 63 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے۔ رائے حسن نواز پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے عہدے سے اسی اصول پر فارغ ہوئے، جو شخص رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے نااہل ہے وہ پارٹی عہدہ کے لیے بھی نااہل ہے۔

‎وکیل ن لیگ بیرسٹر ظفر اللہ نے موقف اختیار کیا کہ کئی پارٹیوں کے سربراہ صدر، کچھ کے چیئرمین یا امیر ہوتے ہیں، مگر اصل چیز تو اختیار اور طاقت ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

درخواست گزاروں کا موقف اور سماعت:

حکمران جماعت پی ٹی آئی کے تین پارلیمانی سیکرٹریز نے الیکشن کمیشن میں مریم نواز کو پارٹی نائب صدارت کےعہدے سے ہٹانے کی درخواست دائر کی تھی۔ جن میں پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون انصاف ملیکہ بخاری، پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی کنول شوزف، ریلوے کے پارلیمانی سیکرٹری فرخ حبیب اور ایم این اے جویریہ ظفر شامل تھے۔

انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ مریم نواز کو سپریم کورٹ نے سزا سنائی ہے اور انہیں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا جا چکا ہے لہذا نااہل کوئی بھی پارٹی عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا اس لیے مریم نواز کو مسلم لیگ ن کی نائب صدارت سے ہٹایا جائے۔

‎واضح رہے کہ تین مئی کو مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اپنے بیٹے حمزہ شہباز کے علاوہ مریم نواز کی بھی پارٹی کے نائب صدر کی حیثیت سے منظوری دی تھی۔

‎جس کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان دیا تھا کہ پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ایک مجرم کو پارٹی کا عہدہ دینے کے فیصلے کو چیلنج کرے گی۔ اس حوالے سے نو مئی کو پی ٹی آئی کے اراکین نے ایک درخواست دائر کی۔

دوسری جانب وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے مریم نواز کی نائب صدارت برقرار رکھنے کا فیصلہ چیلنج کرے گی۔

فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ’سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ ہے کہ سزا یافتہ شخص کسی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا، اس فیصلے میں مانا گیا ہے کہ مریم نواز سزا یافتہ ہیں اور وہ کسی جلسے جلوس اور سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، فیصلے میں نائب صدر کےعہدے کو غیرفعال کہا گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست