کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔۔۔

لوگ جہاں ملتے ہیں ایک دوسرے سے یہی پوچھتے ہیں سال ہوگیا اس حکومت کا آگے کتنا چلنا ممکن ہے۔

فی الحال تو نون لیگ اور جے یو آئی ایک دوسرے کے پلڑے تول رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تبدیلی آخر چاہتا کون ہے؟(اے ایف پی)

اسلام آباد میں آج کل کئی افواہیں گردش میں ہیں۔ اس شہر کا موسم ہی کچھ ایسا ہے بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اس شہر کے باسیوں کو بھی کوئی ایک رُت زیادہ دیر بھاتی نہیں ہے۔ آج کل اسلام آباد میں موسم کی تبدیلی کی باتیں ہیں۔

لوگ جہاں ملتے ہیں ایک دوسرے سے یہی پوچھتے ہیں سال ہوگیا اس حکومت کا آگے کتنا چلنا ممکن ہے۔ اکتوبر نومبر میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا مولانا فضل الرحمان واقعی اپنا دھرنا لا کر اسلام آباد بٹھا دیں گے؟ ایک طرف تو خبریں ہیں کہ حکومت مولانا صاحب کو رام کرنے کی کوششوں میں ہے اور اس کا بیڑا پیروں کے پیر شاہ محمود قریشی کے سپرد ہے۔ دیکھیے دم درود شاہ صاحب کا چلتا ہے یا مولانا کا وظیفہ۔

فی الحال حکومت کی سرتوڑ کوشش ہے کہ کسی بھی صورت اکتوبر کا دھرنا رکوایا جا سکے۔ فی الحال جمیعت علماء اسلام نے اس دھرنے کی کوئی واضح تاریخ بھی نہیں دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان حکومت کے منانے سے کیوں مان جائیں۔ عمران خان کی مولانا کے متعلق جو گفتگو اور رائے رہی ہے وہ اس قدر تلخ ہے کہ بظاہر ممکن نظر نہیں آتا کہ مولانا حکومتی کوششوں کی بیل منڈھیر چڑھنے دیں۔

اکتوبر کے دھرنے کو لے کر حکومتی حلقوں میں سراسیمگی تو ضرور موجود ہے لیکن حکومتی اراکین پارلیمان سے بات چیت میں ایک غیر محسوس اطمینان سا بھی نظر آتا ہے۔ یہ وہی ’غیبی امداد‘ کا اطمینان ہے جو حال ہی میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے موقع پر نظر آیا تھا۔ تب بھی آخری وقت تک حکومتی حلقوں میں کھلبلی تھی لیکن عمران خان کو کہیں نہ کہیں اعتماد بھی تھا اور اس اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچنے دی گئی تھی۔ تب بھی حکومتی اراکین پارلیمان اور تحریک انصاف کے اہم رہنما بالواسطہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے مایوس ہونے کے بعد مولانا فضل الرحمان کے در پر پہنچے تھے لیکن مولانا نے حکومت کو این آر او دینے سے انکار کر دیا تھا۔ بعد میں نتیجہ کیا نکلا وہ آج تک ایک معمہ ہے نہ سمجنے کا نہ سمجھانے کا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن اس بار صورت حال مختلف یوں ہے کہ بحران پارلیمان کے اندر نہیں بلکہ باہر براجمان ہونا چاہتا ہے۔ اس بار نمبر گیم پارلیمانی اراکین کی نہیں بلکہ عوام کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان تو کہتے ہیں کہ وہ دھرنے کے لیے 15 لاکھ لوگ جمع کر لیں گے لیکن حقیقتاً یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ مولانا البتہ اگر 50 ہزار سے ایک لاکھ لوگ بھی جمع کر کے دھرنا دے دیں تو حکومت کے لیے خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس وقت ملک میں حالات واقعی ایسے ناگزیر ہیں کہ عمران خان کی حکومت گرائی جائے؟ پیپلز پارٹی نے تو فی الحال محفوظ طریقہ اپنایا ہے جو کہ وقتی حالات کے تحت موزوں نظر آتا ہے کہ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو۔ یہی طریقہ پیپلز پارٹی نے پانامہ کیس میں بھی اپنایا تھا اور حتمی نتیجہ دیکھتے ہوئے پینترا بدل لیا تھا۔

مسلم لیگ نون کا معاملہ پیپلز پارٹی سے مختلف ہے۔ پارٹی اس وقت گومگو کی کیفیت کا شکار ہے کیونکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ نون لیگ اس سلسلے کو بھی نہیں توڑنا چاہتی اور مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی وزنی دھمکی بھی حسبِ ضرورت بقدرِ مقدار استعمال کئے رکھنا چاہتی ہے۔ اسے نون لیگ کی ڈبل گیم کہیں، وکٹ کی دونوں جانب کھیلنا کہیں، سیاسی منافقت کہیں کا کچھ بھی۔۔۔۔ لیکن سیاست، جنگ اور محبت میں سب جائز ہوتا ہے اور سب چلتا ہے۔

عین ممکن ہے کہ نون لیگ بھی محض دھرنے کی سیاسی و اخلاقی حمایت تک محدود ہو کر رہ جائے۔ مولانا صاحب کے لیے بندے اکٹھے کرنا مسئلہ نہیں۔ ان کے لیے اس دھرنے کا سیاسی پارلیمانی جواز مہیا کرنا ہے۔ فی الحال تو جے یو آئی (ف) کی پارلیمان میں وہ نمائندگی نہیں رہی کہ تبدیلی کے مطالبے کا جواز پیش کر سکے اس کے لیے جے یو آئی کو سیاسی تگڑی آکسیجن درکار ہے۔ مسلم لیگ نون وہ سیاسی پارلیمانی جواز پیش کر سکتی ہے اور نون لیگ میں روایتی طور پر دھرنوں کی سیاست والے ڈٹے رہنے والے دن رات جم کر بیٹھے رہنے والے کارکنان کا کال بھی ہے۔

فی الحال تو نون لیگ اور جے یو آئی ایک دوسرے کے پلڑے تول رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تبدیلی آخر چاہتا کون ہے؟ کیا پاکستان میں روایتی طور پر حکومتیں بنانے اور گرانے والے عمران خان سے جی بھر چکے ہیں؟ تمام حقائق کو مدِنظر رکھا جائے تو فی الحال اس کا جواب نفی میں ہے۔ یہ ادراک مقتدر حلقوں کو بھی ہے کہ صورت حال انتہائی نازک ہے۔ معیشت چل نہیں رہی، احتساب کا سرپٹ گھوڑا بھی ہانپنے لگا ہے، ملکی و عالمی چیلنجز بھی گھمبیر ہیں لیکن ان سب کے باوجود تاحال ناکامی کی خاک سر میں نہیں ڈالی جا سکتی ہے۔

تو پھر تبدیلی آخر چاہتا کون ہے؟ کیا پاکستان میں ایسا چمتکار ہونا بھی کبھی ممکن ہے کہ مقتدر حلقوں کی حمایت اور پشت پناہی کے بغیر تبدیلی کی کوئی تحریک، کوئی لانگ مارچ، کوئی دھرنا کامیاب ہو جائے؟ تو کیا مولانا فضل الرحمان یہ تاریخ بدل سکتے ہیں؟ کیا مولانا کا دھرنا کامیاب ہو سکتا ہے؟ کامیابی کی صورت میں اگلا نتیجہ کیا ہو گا اور ناکامی کی صورت میں کیا ہو گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب فی الحال خود مولانا کے پاس بھی نہیں۔

یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں نون لیگ، پیپلز پارٹی کو کسی براہِ راست غیر جمہوری اقدام کا خطرہ ہے اور اسی لیے پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ دونوں جماعتیں کسی بھی سیاسی تحریک کی قیادت کسی بھی مذہبی جماعت کے ہاتھ میں نہیں دینا چاہتیں۔ بھلے مولانا صاحب آصف زرداری کے کتنے ہی سگے دوست کیوں نہ ہوں، بلاول بھٹو زرداری کبھی اس کے حامی نہ ہوں گے۔ یہی سوچ نون لیگ میں بھی ہے۔

ان تمام عوامل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور کچھ موسم کی بدلتی ہوا کا رخ بھی بھانپتے ہوئے فی الحال ایسا نظر آتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا دھرنا یا تو منسوخ یا مؤخر ہو جائے۔ موجودہ حالات کے تناظر میں صائب فیصلہ بھی یہی ہو گا کہ مولانا فضل الرحمان دھرنے کو موزوں حالات تک مؤخر کر دیں تاکہ بھرپور سیاسی جواز اکٹھا کر سکیں۔ لیکن تب تک عین ممکن ہے کہ نون لیگ کے لیے حالات اچھے خاصے ’موزوں‘ ہو چکے ہوں کیونکہ کوٹ لکھپت کی کچھ خفیہ کچھ اعلانیہ کچھ اندھیرے کچھ اجالے میں کچھ اچانک کچھ طے شدہ ملاقاتیں بہت کچھ کہہ رہی ہیں کہ ہو نہ ہو ’کچھ تو ہے جس کی پردا داری ہے‘ ۔۔۔۔ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں صورت حال مولانا صاحب پر بھی اور قوم پر بھی واضح ہو جائے گی۔۔۔۔

رات دن گردش میں ہیں سات آسماں

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ