خورشید شاہ بھی نیب کے شکنجے میں

نیب راولپنڈی نے رکن اسمبلی اور پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کو بنی گالا کے قریب واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا، ان پر آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام ہے۔

خورشید شاہ  پر ایمنسٹی پلاٹ غیر قانونی طور پر اپنے نام منتقل کرنے اور پٹرول پمپس، ہوٹل اور دوسرے کاروبار اور جائیدادیں ملازمین کے نام بے نامی کے طور پر رکھنے کے الزامات ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

قومی احتساب بیورو (نیب) نے بدھ کی شام سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما سید خورشید شاہ کو کرپشن کے الزامات کے تحت اسلام آباد سے گرفتار کر لیا۔

رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کو نیب راولپنڈی کے اہلکاروں نے بنی گالا کے قریب واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا، جس کی تصدیق نیب اسلام آباد کی جانب سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے ذریعے کی گئی۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ پر آمدن سے زیادہ اثاثے رکھنے کے الزامات ہیں۔ ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز گذشتہ مہینے کے آغاز میں ہوا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیب ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی رہنما کے خلاف تحقیقات نیب سکھر کے حکام کر رہے ہیں۔

گرفتاری کے بعد انہیں نیب راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں سے انھیں سکھر لے جایا جائے گا۔

نیب ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خورشید شاہ کو کل (جمعرات کو) جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے نیب عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ان پر ایمنسٹی پلاٹ غیر قانونی طور پر اپنے نام منتقل کرنے اور پٹرول پمپس، ہوٹل اور دوسرے کاروبار اور جائیدادیں ملازمین کے نام بے نامی کے طور پر رکھنے کے الزامات ہیں۔

سید خورشید شاہ مسلم لیگ ن کے گذشتہ دورِ حکومت میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے جبکہ اس سے قبل وہ پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران وفاقی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

گرفتاری کی مذمت

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے ایم این اے خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے حکومت کی جانب سے ’سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش‘ قرار دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے خورشید شاہ کی گرفتاری کو ’پولیٹیکل انجینیئرنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’حکومت حزب اختلاف کے فرنٹ لائن کے رہنماؤں کو ایک ایک کرکے گرفتار کر رہی ہے۔ ایسا حکومتی رویہ مارشل لا کے دور میں بھی نہیں دیکھا گیا۔‘

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’خورشید شاہ کی گرفتاری سے ثابت ہوا کہ احتساب کے عمل کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’تحریک انصاف کی حکومت پیپلز پارٹی کو ڈرانے اور دھمکانے کی خاطر احتساب بیورو کو استعمال کر رہی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ’حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نیب کے ذریعے گرفتار کروا لیا جاتا ہے۔‘

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سندھ کے وزیر بلدیات ناصر شاہ نے بھی خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کی۔

پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان نے الزام لگایا کہ خورشید شاہ کی گرفتاری سے قبل سپیکر قومی اسمبلی کو اطلاع نہیں دی گئی۔

دوسری جانب نیب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’آج کے دن جب تمام اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کشمیر پر پارلمینٹیرینز کانفرنس میں شامل ہیں تو حکومت نے ایک سینئیر پارلیمنٹیرین کو گرفتار کر لیا۔‘

احسن اقبال نے کہا کہ انہوں نے سپیکر اسد قیصر سے سید خورشید شاہ کی گرفتاری کا معلوم کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

دوسری طرف وفاقی وزیر برائے سمندری حیات علی زیدی نے خورشید شاہ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’نیب ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’کرپشن الزامات کے تحت کسی بھی گرفتاری میں حکومت کا کسی بھی طرح ہاتھ نہیں ہے۔ وزیر اعظم عمران خان شفاف احتساب کے حامی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست