کاش سمارٹ فون ایجاد ہی نہ ہوتے

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان نسل سمارٹ فونز کے بے تحاشہ استعمال کے باعث ہفتے میں صرف سات گھنٹے ہی باقاعدہ آرام کر پاتے ہیں۔

 ’موبائل فونز اور ان میں موجود دیگر فنکشنز کے باعث ہم اکثر آرام کرتے وقت بھی ’سوئچڈ آن‘ رہتے ہیں۔‘

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نوجوان نسل سمارٹ فونز کے بے تحاشہ استعمال کے باعث ہفتے میں صرف سات گھنٹے ہی باقاعدہ آرام کر پاتے ہیں۔

اس سروے، جس میں دو ہزار افراد نے شرکت کی، میں بتایا گیا کہ 18 سے 34 سال عمر تک کے بیشتر شرکا کو مصروف زندگی کے باعث ایک دن میں خود کے لیے 60 منٹ سے بھی کم وقت ملتا ہے۔

سروے میں شامل دس میں سے چھ شرکا کا کہنا تھا کہ مسلسل اپنے فونز کو چیک کرنے کی وجہ سے وہ حقیقی آرام حاصل نہیں کر پائے جبکہ دس میں سے ایک کا کہنا تھا کہ وہ دس منٹ تک اپنے سمارٹ فون کو دیکھے بِنا نہیں رہ سکتے۔

دس میں سے نو نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انہیں کوئی نیا پیغام یا نوٹیفیکیشن موصول نہیں ہوا وہ پھر بھی اپنا موبائل خوامخواہ آن کر لیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سروے کو منعقد کرنے والی تنظیم ’ٹریٹ ویل‘ کے ایک ترجمان نے کہا: ’ہمارے آرام کے وقت کو نظرانداز کرنے سے ہم پر حقیقی نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم یہ آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں لہذا آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ یہ (نقصان) ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اکثر ایسا ہوتا ہےکہ ہم کسی اور کو تحفہ خریدنے کے لیے کہہ دیتے ہیں یا اپنا دیگر بوجھ بانٹنے کے لیے۔ یہ چیز ہمیں عادات تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔‘

بیشتر شرکا نے آرام کرنے کے لیے جدوجہد کی بات کی جبکہ ان کے پاس کرنے لے لیے کوئی کام بھی نہیں تھا۔ ہر تیسرے شخص کا کہنا تھا کہ انہیں ذمہ داریاں نہ ہونے کے باوجود دباؤ کا سامنا ہے۔

86 فیصد شرکا نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش سمارٹ فون کبھی ایجاد ہی نہ ہوئے ہوتے تا کہ ان کے لیے آرام کرنا آسان ہو جاتا۔

ٹریٹ ویل کے ترجمان نے کہا: ’موبائل فونز اور ان میں موجود دیگر فنکشنز کے باعث ہم اکثر آرام کرتے وقت بھی ’سوئچڈ آن‘ رہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق