خاتون کو کاٹنے والا پراسرار کیڑا: ہاتھ پاؤں کٹوانے پڑے

خاتون نے اخبار سوینڈن ایڈورٹائزر کو بتایا ’میری جلد کالی ہو رہی تھی۔ جتنا وہ اسے صاف اور انفیکشن ختم کرنے کی کوشش کرتے اتنا اس میں اضافہ ہوتا۔ اس لیے ہسپتال میں آٹھ ماہ میں میرے 60 آپریشن ہوئے۔‘

تین سال پہلے خاتون کا وزن 99 کلوگرام کے قریب تھا۔ انہوں نے چھ ہفتے کے دورانیے پر مشتمل وزن میں کمی کے پروگرام پر عمل شروع کر دیا اور اب ان کے وزن میں 42 کلوگرام کی کمی ہوئی ہے۔ (ایس ڈبلیو این ایس)

برطانیہ میں ایک خاتون کو باغ میں کام کے دوران کسی پراسرار کیڑے کے کاٹ لیا جس کے بعد ان کی دونوں ٹانگیں اور ہاتھوں کی انگلیاں پوروں سے کاٹ دی گئیں تاکہ اس بیماری کو پھیلنے سے روکا جا سکے جو ان کا گوشت ختم ہونے کا سبب بن رہی تھی۔

سوزن بٹری کا تعلق ویلٹ شائر کے علاقے ہائی ورتھ سے ہے۔ ان کی جان بچانے کے لیے 60 آپریشنوں کی ضرورت پڑی۔ وہ فلوکی علامات اور الٹیوں کی وجہ سے اچانک بیمار پڑ گئی تھیں۔

68 سالہ خاتون کو ہاتھ کی پشت پر کسی کیڑے نے کاٹ لیا تھا جس کے بعد وہاں گومڑ سا ابھر آیا تھا۔ خاتون نے سمجھا کہ گومڑ جلد ہی ختم ہو جائے گا اور وہ اس بارے میں بھول گئیں۔

ابتدائی طور پر ڈاکٹروں کو شبہ ہوا کہ سوزن بٹری کسی نامعلوم شے سے الرجی کا شکار ہوئی ہیں۔ خاتون کو ان کے خاوند نے ہسپتال پہنچایا تھا۔ لیکن جب اگلے روز ان کے خاوند واپس چلے گئے تو علاج کے لیے ڈاکٹروں نے ٹیکہ لگا کر انہیں بے ہوش کر دیا۔ انہیں تین ہفتے تک بے ہوشی کی حالت میں رکھا گیا اورسوینڈن گریٹ ویسٹرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ان کے علاج کی سرتوڑ کوشش کی لیکن خاتون کی حالت بگڑتی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آخرکار انہیں ہوش میں لایا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے پیروں کی انگلیاں کاٹنی پڑیں گی۔ پانچ روز بعد انہیں ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھا کہ کیڑے نے ان کے سرمیں کاٹا تھا۔ کئی ٹیسٹوں کے باوجود انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ کاٹنے والے حشرات میں سے اس بیماری کی ذمہ دار کون سی قسم ہے۔

معمر خاتون خون کی انفیکشن میں مبتلا ہو چکی تھیں اورگوشت خور نیکروٹائزنگ فیسائیٹس نامی بیماری کی وجہ سے ان کی کھال کا رنگ ہو رہا تھا۔

خاتون نے اخبار سوینڈن ایڈورٹائزر کو بتایا ’میری جلد کالی ہو رہی تھی۔ جتنا وہ اسے صاف اور انفیکشن ختم کرنے کی کوشش کرتے اتنا اس میں اضافہ ہوتا۔ اس لیے ہسپتال میں آٹھ ماہ میں میرے 60 آپریشن ہوئے۔‘

’مجھے وہ دن یاد ہے جب انہوں نے کہا کہ انہیں میری ٹانگیں کاٹنی ہوں گی۔ میں نے صرف اپنے آپ سے بات کی۔ ’اچھا! انہیں آگے بڑھنا چاہیے ورنہ میں مر جاؤں گی۔ اور میں صرف اتنا چاہتی تھی کہ جتنی جلدی اور جس قدر ہو سکے میری زندگی معمول پر آ جائے۔‘

خاتون کی ٹانگیں اورہاتھوں کی انگلیوں کا اگلا حصہ کاٹنے کے لیے انہیں برسٹل منتقل کر دیا گیا۔

ٹانگیں کٹنے کے بعد سوزن بٹری مصنوعی ٹانگوں کی مدد سے چل پھر سکتی ہیں اور ہفتے میں دو بارورزش کے لیے جمنازیم جاتی ہیں۔

انفیکشن سے پہلے ڈاکٹروں نے انہیں خبردار کیا تھا کہ ان کا وزن زیادہ ہے اور انہیں شوگر کی  ٹائپ ٹو بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔

تین سال پہلے خاتون کا وزن 99 کلوگرام کے قریب تھا۔ انہوں نے چھ ہفتے کے دورانیے پر مشتمل وزن میں کمی کے پروگرام پر عمل شروع کر دیا اور اب ان کے وزن میں 42 کلوگرام کی کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے باغبانی کا شوق پھر سے پورا کرنا شروع کر دیا ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ  اب وہ انفیکشن کے خطرے سے کہیں زیادہ آگاہ ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی صحت