چین: ہزاروں کے ہجوم میں سے ایک شخص کو پہچاننے والا کیمرا ایجاد

یہ کیمرا ہجوم میں کھڑے افراد کو الگ کرنے کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو ریئل ٹائم ٹریکنگ نظام کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اس طرح یہ کیمرا چین کے نگرانی کے پہلے سے وسیع نیٹ ورک کے لیے ایک کارآمد آلہ بن سکتا ہے۔

10 جنوری 2019 کو  امریکی شہر لاس ویگس میں کنسیومر الیکٹرونکس شو  کے دوران  کمپنی ہورائزن روبوٹکس کے سٹال پر   ایک ہجوم پر مصنوعی  ذہانت اور  چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی  کا لائیو   شو (اےایف پی)

چین میں سائنسدانوں نے ایک انتہائی طاقتور کیمرا تیار کیا ہے جو لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں بھی کسی ایک شخص کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پانچ سو میگا پکسل کا کیمرا فیوڈن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے چین کی اکیڈمی آف سائنسز کے چینگ چن انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔

کیمرے کی دیکھنے کی طاقت انسانی آنکھ سے پانچ گنا زیادہ طاقتور ہے تاہم یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریزولیوشن والا کیمرا نہیں ہے۔ 2018 میں پانچ سو 70 میگا پکسل کا ایک کیمرا چلی کی ایک رصدگاہ میں کام میں لایا گیا تھا تاہم اس کا مقصد آسمان میں دور دراز کی کہکشائیں دیکھنا تھا۔ 

دوسری جانب چین میں بنائے گئے کیمرے کا مقصد نگرانی ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے کیمرے کے ’فوجی مقاصد، قومی دفاع اور عوام کے تحفظ‘ کے لیے استعمال کو سراہا ہے۔

یہ کیمرا ہجوم میں کھڑے افراد کو الگ کرنے کے لیے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو ریئل ٹائم ٹریکنگ نظام کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اس طرح یہ کیمرا چین کے نگرانی کے پہلے سے وسیع نیٹ ورک کے لیے ایک کارآمد آلہ بن سکتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چین میں اس وقت 17 کروڑ سی سی ٹی وی کمرے کام کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 12 افراد کے لیے ایک کیمرا ہے۔

چین اپنی آبادی پر نظر رکھنے کے لیے دنیا میں نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے مزید جدید ترین سافٹ ویئراور ہارڈ ویئر متعارف کرانے والا ہے۔

گذشتہ سال چین نے چلنے کے انداز کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا آغاز کیا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی 50 میٹر تک کے فاصلے سے محض چلنے کے انداز سے لوگوں کی شناخت کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتی ہے۔

نگرانی کے ایک اور انداز کے تحت ہجوم پر فاختہ کی طرح کے ڈرونز کے ذریعے نظر رکھی جاتی ہے۔ اس نہام نہاد ’سپائی برڈ‘ (جاسوس پرندہ) پروگرام کے تحت ڈار کی شکل میں پرواز کرنے والے روبوٹ پرندوں سے کام لیا جاتا ہے۔ ان روبوٹوں میں طاقتور کیمرے لگے ہوتے ہیں تاکہ زمین پر لوگوں کی خفیہ طریقے سے نگرانی کی جا سکے۔

چین میں سرایت کر جانے والا نگرانی کا نیٹ ورک چین کے سماجی ساکھ کے نظام سے منسلک ہے۔ اس نظام کے تحت شہریوں کی رویے کی بنیاد پر درجہ بندی کی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس نظام کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے کیونکہ اس کے تحت ریاست قوانین یا روایات سے ہٹنے والے افراد پر پابندیاں لگا سکتی ہے کہ وہ کہاں رہیں یا کہاں جائیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی محقق مایا وینگ نے اس نظام کے بارے میں اپنے ایک بلاگ میں لکھا: ’خریداری کی عادتوں سے لے کر آن لائن تقریر تک شہریوں کی رویے کی بنیاد پر درجہ بندی کر کے حکومت مسائل سے پاک معاشرہ تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جن لوگوں کے نمبر کم ہوں گے انہیں سرکاری ملازمت حاصل کرنے سے لے کر بچوں کو مرضی کے سکول میں داخل کرانے تک ہرمعاملے میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی