’اب کتابوں کی جگہ برقعے تقسیم ہوں گے‘

مردان کے ایک سابق ضلعی کونسل رکن کی جانب سے طالبات میں شٹل کاک برقعوں کی تقسیم کے سوشل میڈیا پر چرچے ہیں اور لوگ اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

مردان میں  ضلعی کونسل کے سابق رکن مظفر شاہ نے دو دن قبل چینہ رستم کے مڈل سکول میں سرکاری فنڈ سے 90 برقعے خرید کر طالبات میں تقسیم کیے، جن پر 90 ہزار روپے کا خرچہ آیا ہے۔ (تصویر: ابوبکر صدیق)

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان کے علاقے رستم میں ضلعی کونسل کے ایک سابق رکن نے طالبات میں 90 شٹل کاک برقعے تقسیم کرکے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز کردیا ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے صحافی ابوبکر صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلعی کونسل کے سابق رکن مظفر شاہ نے دو دن قبل چینہ رستم کے مڈل سکول میں سرکاری فنڈ سے 90 برقعے خرید کر طالبات میں تقسیم کیے، جن پر 90 ہزار روپے کا خرچہ آیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مظفر شاہ نے علاقے کے دیگر سکولوں میں بھی ایسے ہی شٹل کاک برقعے تقسیم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ ایک ہی رنگ سے ان کی بطور طالبات پہچان ہو سکے۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے مظفر شاہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’مجھے غریب طلبہ و طالبات کی مدد کرنے کے لیے تقریباً پانچ لاکھ روپے سرکاری فنڈ ملا تھا تاکہ ان کی یونیفارم اور دوسری ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ اس فنڈ میں سے ڈھائی لاکھ روپے لڑکیوں کے اور ڈھائی لاکھ روپے لڑکوں کے سکول کے لیے مختص تھے۔‘

جب مظفر شاہ سے سوال کیا گیا کہ انہوں نے طالبات کے لیے برقعوں کا انتخاب کرکے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش تو نہیں کی کیونکہ اس علاقے میں خواتین دیگر طرح کا پردہ بھی کرتی ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’رستم میں خواتین برقع پہنتی ہیں، اسی لیے طالبات نے خود اس کا مطالبہ کیا تھا۔‘

اگر مردان میں پردے کی بات کی جائے تو حقیقت میں یہاں کی خواتین کی پہچان سفید چادر ہے۔ چونکہ مردان کے اکثر علاقوں میں مہمند قوم بھی آباد ہے لہذا مہمند خواتین برقعوں کا استعمال کرتی ہیں۔

دوسری جانب اگر مردان اور صوبے کے دیگر علاقوں میں پردے کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ایک صدی پہلے تک پشتون خواتین میں پردے کا کوئی خاص تصور ہی نہیں تھا۔

 پشتون تمدن و تاریخ کے ماہر محمد ایاز خان نے اس حوالے سے کہا: ’پشتون اسلام سے زیادہ قبائلی روایات کی پیروی کرتے رہے ہیں۔ اسی لیے چاہے وزیر ہوں یا محسود، مہمند ہوں یا یوسفزئی، زمانہ قدیم میں ان تمام قبیلوں کی خواتین میں سرے سے پردے کا رواج  نہیں تھا۔ البتہ اگر کسی دور افتادہ علاقے میں جانا پڑ جاتا تو یہ خواتین کسی بھی رنگ کی ایک چادر اوڑھ لیا کرتی تھیں۔‘

ایاز خان کے مطابق: ’دراصل پشتون خواتین میں پردے کا رواج ہندوؤں کے براہمن اور کشتریا خاندانوں سے آیا ہے۔ کیونکہ وہ کسی اچھوت ذات کا اپنی خواتین کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے۔‘

سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے

دوسری جانب مردان کے سکول میں برقعوں کی تقسیم کے معاملے کو سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین پر کسی طرح کا بھی ڈریس کوڈ مسلط کرنا پتھر کے دور میں جانے کے مترادف ہے۔

ایک صارف نے لکھا: ’اب کتابوں کی جگہ برقعے تقسیم ہوں گے۔‘

بعض صارفین کاموقف تھا کہ اگر برقع پر خواتین یا علاقہ مکینوں کو کوئی اعتراض نہ بھی ہو، پھر بھی سرکاری سطح پر ایسے کام  کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس سے دوسرے خیالات اور عقائد رکھنے والے لوگوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

ایک صارف نے لکھا: ’نیا پاکستان بن رہا ہے۔‘

کچھ صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔ کسی نے کہا: ’صوبائی حکومت نے برقعے تو تقسیم کردیے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ اس طرح طالبات بغیر کسی کی نظروں میں آئے کلاس میں سو سکیں گی۔‘

ایک خاتون نے خیال ظاہر کیا کہ لڑکیوں میں برقعے تقسیم کرنے کی بجائے لڑکوں اور مردوں کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وہ اپنی ذہنیت تبدیل کریں۔

حال ہی میں خیبر پختونخوا کی حکومت کو سکولوں میں عبایا لازمی قرار دینے پر بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل