پنجاب کے مستحق مریض دربدر: بیت المال کے فنڈ ختم

پاکستان بیت المال کی جانب سے غریب مریضوں کو مفت علاج کے لیے مختص لاہور، گجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ کا بجٹ ختم ہوگیا جس سے مریضوں کا علاج بھی رک گیا جبکہ نئی درخواستیں بھی موصول نہیں کی جا رہیں۔

فنڈز نہ ہونے کے باعث مستحق مریض علاج کے حصول کے لیے پریشان ہیں (اے ایف پی)

پاکستان بیت المال کی جانب سے غریب مریضوں کو مفت علاج کے لیے مختص لاہور، گوجرانوالا، فیصل آباد اور سیالکوٹ کا بجٹ ختم ہوگیا جس سے مریضوں کا علاج بھی رک گیا جبکہ نئی درخواستیں بھی موصول نہیں کی جا رہیں۔

محکمہ بیت المال کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان بیت المال کا بجٹ کم ہونے کے باعث پنجاب کے چار شہروں کا مالی سال کے فنڈز تین ماہ میں ختم ہو گئے جس کے باعث موذی امراض میں مبتلا مستحق مریضوں کو بیت المال سے رقوم دینے کا عمل بند کردیا گیا جبکہ نئے مستحق مریضوں کے لواحقین کے کیس بھی وصول نہیں کیے جا رہے۔ 

غریب مریضوں کی صورتحال

فنڈز نہ ہونے کے باعث مستحق مریض علاج کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔ بیت المال ذرائع کے مطابق لاہور سے اس سال ساڑھے تین سو سے زائد مستحق مریض حکومتی امداد سے مختلف ہسپتالوں میں مہلک امراض کا علاج کرا رہے تھے۔

گوجرانوالا میں پونے تین سو، فیصل آباد کے تین سو جبکہ سیالکوٹ کے سوا تین سو کے قریب غریب مریض علاج کی سہولت حاصل کر رہے تھے۔ فنڈز بند ہونے سے نہ صرف پہلے سے زیر علاج مریضوں کا علاج متاثر ہوا بلکہ نئے مریضوں کو بھی یہ سہولت میسر نہیں رہی۔

دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے مریض اور ان کے لواحقین بیت المال کے دفاتر اور ہسپتالوں کے درمیان پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس معاملہ پر کئی متاثرین نے وزیر اعظم پورٹل پر شکایات بھی بھجوائی ہیں لیکن فل الحال فنڈز جاری نہ ہوئے۔ مستحق مریضوں کے لواحقین نے وزیر اعظم عمران خان سے اس معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے کہ مستحق افراد کے لیے پاکستان بیت المال سے علاج و معالجہ کے لیے رقوم جاری کرنے کے خصوصی احکامات دیے جائیں۔

فنڈز کے اجراء میں مشکلات کیوں؟

ذرائع نے بتایا کہ مالی سال 2019/20 کے لیے پاکستان بیت المال کا بجٹ کم و بیش ساڑھے پانچ ارب روپے مختص کیا گیا۔ جس کے پیش نظر ملک بھر میں پاکستان بیت المال کے زیرانتظام چلنے والے دفاتر کے لیے رقم مختص کر دی گئی، اس سلسلے میں پنجاب میں بھی 36 اضلاع کا الگ الگ بجٹ رکھا گیا لیکن 32 اضلاع سے مستحق مریضوں کی علاج و معالجہ کے لیے مالی امداد کی درخواستیں کم آنے کی وجہ سے فنڈز اکاؤنٹس میں پڑے ہیں تاہم پنجاب کے بڑے شہروں لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے مستحقین کی تعداد زیادہ تھی جنہوں نے پاکسان بیت المال سے مدد کے لیے رجوع کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے مستحق مریضوں کے علاج و معالجہ کے لیے کم و بیش ساڑھے چار کروڑ روپے، گوجرانوالہ کے لیے اڑھائی کروڑ روپے جبکہ سیالکوٹ کے لیے پونے تین کروڑ روپے سالانہ بجٹ رکھا گیا مگر لاہور، گوجرانوالہ، سیالکو ٹ اور فیصل آباد کے لیے مختص رقم تین ماہ میں ہی ختم ہوگئی چونکہ ان چار شہروں سے مریضوں کی تعداد زیادہ آگئی اور رقم کم مختص کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئندہ نو ماہ کے لیے بھی بیت المال سے مستحق مریضوں کے علاج و معالجہ کے لیے رقم کا انتظام کرنے کے پیش نظر کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی گئی۔

ڈائریکٹر بیت المال پنجاب شہاب اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مستحق مریضوں کے لیے مذکورہ چار بڑے شہروں کے مستحق مریضوں کے علاج معالجہ کے لیے فنڈز ختم ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال فنڈز مختص کرتی ہے لیکن ان کا اجرا ہر تین ماہ بعد کیا جاتا ہے۔ معمول کے مطابق تین ماہ کا عرصہ گزرنے سے پہلے ہی فنڈز جاری ہو جاتے ہیں لیکن اس سہ ماہی کے گزر جانے کے باوجود فنڈز جاری نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر بیت المال وفاقی دفتر کو آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک فنڈز منتقل نہیں ہوئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کب تک مریضوں کی مشکلات ختم ہوں گی جس پر انہوں نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا امید ہے ایک ہفتہ تک فنڈز مل جائیں گے فنڈز موصول ہوتے ہی تمام رجسٹرڈ مریضوں کے علاج کی رقوم ہسپتالوں کو منتقل کر دی جائیں گی اور نئی درخواستیں بھی اسی وقت موصول کریں گے۔

معروف صحافی نوید چوہدری کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے 'احساس سیلانی لنگر' سکیم کا افتتاح تو کر دیا ہے، اس پروگرام کے تحت وہاں نادار اور ضرورت مند افراد کو مفت کھانے کی سہولت بھی مہیا کی جا رہی ہے لیکن مستحق مریضوں کو ادویات اور علاج مہیا کرنے والا ایک بہترین نظام بالکل معطل ہو چکا ہے۔ لنگر پروگرام کو ملک بھر میں پھیلانے کی ترجیحات کی بجائے علاج معالجے پر حکومت کا فوکس ہونا چاہئیے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی صحت