میں نے ’کم عمری میں صحت مند بڑھاپے‘ کے اس سفر کا آغاز اس لیے کیا کہ میں تقریباً کم عمری میں ہی موت کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ اپنی 39 ویں سالگرہ کے دن مجھے ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ مجھے تیز بخار تھا اور میرے گردے اور جگر کام کرنا چھوڑنے لگے تھے۔
میں مکمل جسمانی اور ذہنی تھکن کا شکار ہو چکی تھی۔ میں اپنے مریضوں اور خاندان کی دیکھ بھال میں اتنی مصروف رہی کہ خود کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ میرا جسم جواب دے رہا تھا اور اچانک مجھے اپنی موت کا سامنا کرنا پڑا۔
سچ یہ ہے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں اگلے دن اپنے بچوں کو دیکھ بھی پاؤں گی یا نہیں؟ اور میں انہیں ماں کے بغیر چھوڑنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔ یہ تجربہ میری زندگی بدل دینے والا ثابت ہوا اور اسی نے میرے طرزِ زندگی میں مکمل تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ میں نے عہد کیا کہ جتنا ممکن ہو سکے، اتنی طویل اور صحت مند زندگی گزاروں گی اور ایسے سفر پر نکل پڑی جو میری صحت اور توانائی میں اضافہ کرے۔
کئی برس گزرنے کے بعد میں نے جدید ٹیسٹوں کے ذریعے اپنی عمر کا حساب لگایا جو میرے خلیات اور مدافعتی نظام کی اصل کیفیت کو جانچتے ہیں۔ نتائج سے پتہ چلا کہ میرا دل، دماغ، میٹابولزم اور مدافعتی نظام 20 سالہ فرد کی طرح کام کر رہے ہیں۔
اب مجھے سرطان، دل کے امراض، ذیابیطس اور ڈیمنشیا ہونے کا خطرہ بہت کم ہے۔ بات صرف زیادہ جینے کی نہیں بلکہ بہتر اور صحت مند جینے کی ہے۔ اسی لیے میں نے دوسروں کی مدد کو بھی اپنا مشن بنا لیا ہے۔ یہ وہ معمول ہے جو میں ہر روز اپناتی ہوں۔
صبح
5:50
میں دن کا آغاز پانچ اسٹریچز سے کرتی ہوں، ہر ایک کو 50 سیکنڈ تک تھامتی ہوں۔ میں اسے ’5:50 لچک کا طریقہ‘ کہتی ہوں۔ سٹریچنگ جسم کے جوڑنے والی بافتوں (ٹشوز) کو نرم اور لچک دار رکھتی ہے۔ پھرتی اور لچک طویل عمر کی علامت ہیں، جب کہ محدود حرکت اور لچک میں کمی، کمزوری اور سوزش کے باعث جلد موت کی پیش گوئی کرتی ہیں۔
6:00
اس کے بعد میں باہر جا کر ایک منٹ قدرتی روشنی لیتی ہوں اور 10 کی سیکنڈ شکرگزاری کے ساتھ دن کے مقصد کا تعین کرتی ہوں۔ صبح کی روشنی میرے جسم کی قدرتی گھڑی کو درست کرتی ہے تاکہ جسم رات اور دن میں فرق جان سکے اور ہارمونز درست انداز میں خارج ہوں۔
باغ میں رہتے ہوئے میں دو منٹ کی چہل قدمی اور 20 سیکنڈ کی تیز دوڑ بھی لگاتی ہوں۔ یہ ایک مختصر مگر مؤثر ورزش ہے جو پٹھوں کو متحرک، لمف کے بہاؤ کو تیز اور دل کی دھڑکن کو بہتر بناتی ہے۔ اسی وقت میں پانی کے تین گھونٹ بھی لیتی ہوں، جو ہر 30 منٹ بعد دہراتی ہوں۔ پانی کی کمی، چاہے صرف دو فیصد ہی کیوں نہ ہو، سوچنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے، اس لیے دن بھر باقاعدہ پانی پینا مجھے یکسو رکھتا ہے۔
6:15
میں کم از کم سات منٹ خاموشی سے سرخ روشنی کے سامنے بیٹھتی ہوں، اور یہ عمل ہر 70 منٹ بعد دہراتی ہوں۔ سرخ روشنی کولیجن کی تیاری اور توانائی بنانے والے نظام کو سہارا دیتی ہے، جب کہ خاموشی دماغ کے یادداشت کے مراکز کو متحرک اور تناؤ کے ہارمون کو کم کرتی ہے۔
زیادہ تناؤ جسم کو مستقل دباؤ کی حالت میں رکھتا ہے، جو وزن بڑھنے، بلڈ پریشر، کمزور مدافعت، نیند کے مسائل اور دل، ذیابیطس اور ذہنی دباؤ کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ یہ خاموش لمحہ میرے جسم اور ذہن کو دن کے لیے تیار کرتا ہے۔
7:00
تعریف کا وقت۔ جسے بھی سب سے پہلے دیکھوں، اس کی تعریف کرتی ہوں، اکثر یہ میرے کتے ہوتے ہیں۔ میں دن میں چار بار تعریف کرتی ہوں۔ ہر بار سیکنڈ لگتے ہیں۔ اس سے تعلق کا ہارمون خارج ہوتا ہے۔ تعلق اور رابطہ طویل عمر کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ عام سی ملاقاتیں بھی زندگی سے اطمینان اور ذہنی و جسمانی صحت کے تحفظ میں مدد دیتی ہیں۔
11:30
میں محدود وقت میں کھانا کھاتی ہوں، یعنی آٹھ گھنٹے کے اندر۔ اس سے دن کے بعد آنتوں کو خود کو ٹھیک کرنے کا وقت ملتا ہے۔ زیادہ دیر کا وقفہ خلیات کی صفائی کے عمل کو بھی متحرک کرتا ہے۔ میرا پہلا کھانا عموماً گیارہ بجے سے دوپہر تک ہوتا ہے، جس میں فائبر اور پروٹین شامل ہوتے ہیں، کیونکہ عمر کے ساتھ پٹھے کمزور ہوتے ہیں اور ان کی صحت بہت ضروری ہے۔
میں دہی اور بیریز کھاتی ہوں۔ دہی آنتوں کے بیکٹیریا کے لیے مفید ہے اور بیریز بڑھاپے کے اثرات کم کرنے والے اجزا رکھتی ہیں۔ اگر گری دار میوے کھاؤں تو بادام، کاجو، پیکان اور ایک برازیل نٹ شامل ہوتا ہے، کیونکہ اس میں دماغ اور یادداشت کے لیے مفید معدنیات پائی جاتی ہیں۔
دوپہر
12:30
کھانے کے بعد چہل قدمی یا ڈنڈبیٹھک کرنے سے خون میں موجود شکر پٹھوں میں جذب ہو جاتی ہے، جس سے ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کھانے کے فوراً بعد کی سرگرمی شکر کی سطح قابو میں رکھنے میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔
مزید طاقت کے لیے میں سیڑھیوں کے پاس ڈمبلز رکھتی ہوں اور اوپر نیچے جاتے ہوئے ورزش کرتی ہوں۔ دن میں سیڑھیاں کتنی بار استعمال ہوتی ہیں، یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔
1:00
میں بیٹھنے اور کھڑے ہونے کے درمیان ردوبدل کرتی ہوں، یعنی ہر نوے منٹ بعد ضرور کھڑی ہوتی ہوں۔ مسلسل بیٹھنا خون میں نقصان دہ چکنائی صاف کرنے والے نظام کو سست کر دیتا ہے، جبکہ باقاعدہ کھڑا ہونا دل کی صحت اور دورانِ خون کو بہتر رکھتا ہے۔
3:00
میں ایک منٹ کے لیے سانس کو آہستہ کر کے فی منٹ چھ سانسیں لیتی ہوں۔ اس سے اعصابی نظام پرسکون ہوتا ہے، تناؤ کم ہوتا ہے اور جسم کی مزاحمت بڑھتی ہے۔ مسلسل دباؤ سوزش بڑھا کر خلیات کو نقصان پہنچاتا اور حیاتیاتی عمر تیز کرتا ہے۔
شام
6:00
میں دن بھر کی دس نعمتوں پر شکر ادا کرتی ہوں۔ شکرگزاری سوزش کم کرتی ہے، نیند بہتر بناتی ہے اور جسم کے حفاظتی نظام کو مضبوط کرتی ہے۔
6:15
میں جلدی کھانا کھاتی ہوں تاکہ کھانے اور سونے میں کم از کم دو سے تین گھنٹے کا وقفہ ہو۔ اس سے جسم رات کی مرمت کے عمل میں داخل ہوتا ہے۔ دیر سے کھانا نیند اور صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ میں اپنی غذائی ترجیحات میں مدد کے لیے ایک مسلسل گلوکوز مانیٹر کے ذریعے وقفے وقفے سے اپنے گلوکوز کی سطح کو ٹریک کرتی ہوں۔ چینی توانائی حاصل کرنے کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے، لیکن چینی کی قسم زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ریفائنڈ چینی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور ٹائپ دو ذیابیطس اور دل کی بیماریوں جیسے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ اس چینی کا انتخاب کریں جو پھلوں میں پائی جاتی ہے، یہ فائبر سے بھرپور ہوتی ہے۔
رات
8:40
میں سونے سے پہلے اسّی منٹ اسکرین سے دور رہتی ہوں تاکہ آٹھ گھنٹے گہری نیند حاصل ہو سکے۔
9:30
خنک، تاریک، پرسکون ماحول، اور ہاتھ میں ایک کتاب۔ میں میلاٹونن کے اخراج کا اشارہ دینے کے لیے روشنیوں اور کمرے کے درجہ حرارت کو کم کر دیتی ہوں۔ پھر، نیلی روشنی روکنے والی عینک لگا کر، میں ایسی تحریر کے چند صفحات پڑھتی ہوں جو ہیجان پیدا کرنے کے بجائے تحریک کا باعث بنیں۔ مطالعہ دماغی لہروں کو سست کرتا ہے، اعصابی نظام کو ’آرام اور ہضم‘ والی پیراسیمپتھیٹک کیفیت کی طرف مائل کرتا ہے، اور سکرین سکرول کرنے کے مقابلے میں دماغ کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
10:00
اچھی نیند جسم کو خلیات کی مرمت، توانائی کی بحالی اور دماغ سے زہریلے مادوں کے اخراج کا موقع دے کر صحت مند بڑھاپے کو فروغ دیتی ہے۔ اپنی زندگی کو نیند کے گرد گھمائیں نہ کہ اس کے برعکس! میں اپنے دماغ اور جسم کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے آج مجھے جو کچھ دیا، پھر انہیں آرام کرنے کا کہتا ہوں کیونکہ مجھے کل دوبارہ ان کی ضرورت ہو گی۔
یہ تمام چھوٹے چھوٹے طریقے اثر انداز ہوتے ہیں، لیکن سب سے بڑا فرق ٹیسٹنگ اور ٹریکنگ سے پڑتا ہے۔ ڈیٹا رنگز سے لے کر گلوکوز مانیٹرز تک، میں اپنے ہارمونز، آنتوں کے مائیکرو بایوم، میٹابولزم، غذائی اجزاء اور وٹامنز کا ٹیسٹ کرتی ہوں... ہم سب جانتے ہیں کہ بہتر کھانا اور متحرک رہنا چاہیے، ہے نا؟ لیکن ٹیسٹنگ آپ کو وہ درستی فراہم کرتی ہے جو صرف آپ کی ذات کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ اگر آپ اعداد و شمار دیکھتے ہیں اور آپ کا تناؤ بہت زیادہ ہے، تو آپ اس کا سدِباب کریں گے۔ یہ ڈیٹا آپ کو ایسی ہدایات دیتا ہے جنہیں آپ نظر انداز نہیں کر سکتے۔
میرا فلسفہ ان وجوہات کی جڑ تک پہنچنے پر مرکوز ہے جو ہمیں بیمار کرتی ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی وقت کی رفتار کو نہیں روک سکتا، لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ کوئی اپنی زندگی کے آخری 20 سال کمزوری اور زوال میں گزارے۔ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو ہم آخری 20 برسوں میں اسی توانائی اور زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ آپ کی حیاتیاتی عمر انا کی تسکین والا کوئی عدد نہیں ہے، بلکہ یہ آپ کی صحت کی پیش گوئی ہے۔ اپنی حیاتیاتی عمر کو کم کر کے، ہم کم تکلیف، زیادہ توانائی اور چستی کے ساتھ اور کم ادویات کے سہارے طویل زندگی جی سکتے ہیں۔ میں اسے ’ینگر ایجنگ‘ کہتی ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ لوگ اپنی صحت کو برقرار رکھیں اور واقعی یہ سمجھنا شروع کریں کہ ان کا اپنا جسم کیسے کام کرتا ہے۔ یہ میرا پختہ مقصد ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ کی زندگی کا کوئی مقصد ہو تو آپ سات سال زیادہ جیتے ہیں؟
بی بی لنچ سے کی گئی گفتگو کے مطابق
© The Independent