وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اتوار کو کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کی تقرری سے متعلق سرکاری نوٹیفیکیشن کے اجرا کا عمل شروع ہو چکا ہے اور (نوٹیفیکیشن) مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے لکھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے غیر ملکی دورے سے واپسی کے بعد چیف آف ڈیفنس سٹاف کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا۔
ان کا بیان پاکستانی میڈیا میں چھپنے والی بعض رپورٹس کے بعد سامنے آیا، جن میں کہا گیا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ باقاعدہ طور پر 27 نومبر کو ختم ہو گیا اور امید تھی کہ اسی دن یا اس کے فوراً بعد سی ڈی ایف کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا جو 30 نومبر تک بھی جاری نہیں ہوا۔
خواجہ آصف نے گردش کرتی افواہوں اور تبصروں کو غیر ضروری، غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔
’اس معاملے پر قیاس آرائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔‘
ایکس پوسٹ میں انہوں نے لکھا: ’سی ڈی ایف کی تقرری کا باضابطہ عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ وزیراعظم پاکستان جلد وطن واپس پہنچ رہے ہیں اور واپسی کے بعد چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن مقررہ وقت پر جاری کر دیا جائے گا۔‘
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اہم قومی تعیناتیوں سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے بے جا ابہام بھی پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ایسی خبروں سے گریز کیا جائے۔
پاکستان میں چیف آف ڈیفنس فورسز کی پہلی تقرری میں تاخیر نے ایک ایسے وقت میں سوالات کو جنم دیا ہے جب ملک کے اعلیٰ دفاعی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل جاری ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے بعد سی ڈی ایف کا نیا عہدہ متعارف کرایا گیا جس نے کئی دہائیوں سے موجود چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی جگہ لے لی۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر کو باضابطہ طور پر ختم ہو گیا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ اسی دن یا اس کے فوراً بعد سی ڈٰ ایف کی تقرری کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو جائے گا۔
اس غیر یقینی میں اضافہ 29 نومبر کو ہوا جب کچھ قانونی ماہرین نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اصل تین سالہ مدت اسی تاریخ کو پوری ہو رہی تھی تاہم پاکستان آرمی ایکٹ میں 2024 کی ترمیم، جس نے سروس چیفس کی مدت ملازمت کو پانچ سال کر دیا اور اس تبدیلی کو ہمیشہ سے موثر تصور کرنے والی ’ڈیمنگ کلاز‘ بھی شامل کی، قانونی ماہرین کی بڑی تعداد کے مطابق نئے نوٹیفکیشن کی ضرورت کو ختم کر چکی ہے۔
اتوار کو ہی پاکستانی دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ’پاکستان کے مؤقف اور زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کی گئی۔‘
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے جمعے کو پاکستان کی حالیہ آئینی ترامیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں اور عسکری احتساب اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ’سنگین خدشات‘ کو جنم دیتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
رواں ماہ کے اوائل میں قانون کا حصہ بننے والی پاکستان کی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کو آئینی مقدمات سننے کا اختیار دے دیا گیا ہے، جو پہلے سپریم کورٹ کے پاس تھا۔ اسی طرح حکومت کو ججوں کے تبادلے کے فیصلے کرنے اور آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نئے عہدے چیفس آف ڈیفنس فورسز پر فائز کر دیا گیا ہے۔ ترمیم میں صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو فوجداری کارروائی اور گرفتاری سے تاحیات استثنیٰ بھی فراہم کیا گیا ہے۔
حالیہ ترمیم کی وضاحت کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے منظور کی جانے والی آئینی ترامیم، پاکستان کے آئین میں درج طریقۂ کار کے مطابق عمل میں لائی گئیں۔
’پاکستان، انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ، فروغ اور پاسداری کے عزم پر مکمل طور پر کاربند ہے، جیسا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں درج ہے۔‘