کوہاٹ میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت: او جی ڈی سی ایل

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں او جی ڈی سی ایل کی جانب سے بتایا گیا کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا۔

کارکن 10 مارچ 2017 کو پاکستان کے شہر گوجرخان میں ایک تیل کے کنویں سے فاضل گیس کو ایگیس پروسیسنگ پلانٹ تک منتقل کرنے کے لیے پائپ لائن بچھا رہے ہیں (روئٹرز)

پاکستان کی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) نے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع ناشپا بلاک سے تیل و گیس کے بڑے ذخائرکی دریافت کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان ذخائر سے یومیہ 4100  بیرل تیل نکالا جا سکے گا جب کہ 10.5ملین مکعب فٹ  گیس حاصل ہو گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم ڈویژن کے امور پر اجلاس جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں او جی ڈی سی ایل کے حکام نے پیٹرولیم و گیس سیکٹر کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ دی اور کوہاٹ میں نئے ذخائر کی دریافت کا انکشاف بھی کیا۔

وزیراعظم نے اجلاس میں ناشپا بلاک میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ نئے ذخائر کی تلاش اور تیل اور گیس کے حصول کے لیے فوری اور جارحانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگی پیٹرولیم درآمدات پر مسلسل انحصار قابلِ عمل نہیں۔

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ اس سال سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو گذشتہ سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس مہیا کی جا رہی ہے۔ آر ایل این جی کے کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے  اور جون 2026 تک 350000 کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کرلیا جائے گا۔ شیوا گیس فیلڈ اور بٹانی گیس فیلڈ کے لیے پائپ لائینز کا ٹھیکہ دیا جا چکا ہے جب کہ کوٹ پالک گیس فیلڈ سے پائپ لائن پر کام جاری ہے۔

اجلاس کی شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔‘

وزیراعظم نے تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل و گیس کی سپلائی چین کی ڈیجیٹائز یشن سے ان مصنوعات کی سمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوگی اور قومی خزانے کو فائدہ پہنچے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم کا معاشی اصلاحات کے پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھانے پر زور

نئے سال کے آغاز پرجمعرات کو ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے  وزارتوں کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کی ہدایت کی، اور اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ڈگمگاتی معیشت کو دوبارہ درست سمت میں لانے کے لیے حکومت کے پرعزم معاشی اصلاحاتی منصوبے کو تیزی سے نافذ کرنا ناگزیر ہے۔

شریف نے بالکل واضح کیا کہ وزارتوں کو قابل عمل حکمتِ عملیوں کے ساتھ واضح اور ٹھوس تجاویز فوری طور پر پیش کرنی ہوں گی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’حکومت اصلاحات کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اب کسی مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ہر وزارت کو اس ایجنڈے کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے ملک کے ریگولیٹری ماحول پر بھی توجہ مرکوز کی اور زور دیا کہ کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانا بدستور ایک ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ سازگار ماحول بنانے کے لیے وسیع ادارہ جاتی اور انتظامی اصلاحات پر زور دیا جو طویل عرصے سے پاکستان کے لیے ایک مستقل مسئلہ رہی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا: ’ہمارے سفارت خانوں کو سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کے لیے پوری طرح تیار ہونا چاہیے اور اس عمل میں حائل کسی بھی غیر ضروری رکاوٹ کو ختم کرنا چاہیے۔‘

 وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معاشی بحالی میں برآمدات کو ایک کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت