برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جمعرات کو بیجنگ میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے جس کا مقصد قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے حساس معاملات میں توازن رکھتے ہوئے قریبی تجارتی تعلقات استوار کرنا تھا۔
یہ 2018 کے بعد کسی برطانوی وزیراعظم کا چین کا پہلا دورہ چین ہے اور یہ ان متعدد مغربی رہنماؤں کے دوروں کا تسلسل ہے جو حال ہی میں بیجنگ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور تیزی سے غیر یقینی رویہ اپنانے والے امریکہ سے رخ موڑ رہے ہیں۔
سٹارمر نے عالی شان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کی۔ سٹارمر، جو ہفتے کے دن تک چین میں ہیں، نے صبح ملک کے تیسرے اعلیٰ ترین عہدےدار ژاؤ لیجی سے بھی ملاقات کی۔
ژاؤ نے کہا کہ ’ہنگامہ خیز بین الاقوامی حالات‘ کے دوران تعلقات ’بہتری اور ترقی کی درست سمت‘ پر گامزن ہیں۔
سٹارمر نے اس دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ’مل کر کام کرنے کے مثبت طریقے تلاش کرنے‘ کا موقع ہے۔
وہ جمعے کو معاشی مرکز شنگھائی جائیں گے جس کے بعد وہ وزیراعظم سنائے تاکائچی سے ملنے کے لیے جاپان میں مختصر قیام کریں گے۔
ڈاؤننگ سٹریٹ نے چین کے دورے کو تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط کرنے کا موقع قرار دیا ہے جب کہ اس دوران انسانی حقوق سمیت پیچیدہ موضوعات پر بھی بات چیت ہو گی۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ اور چین انسانی سمگلروں کے زیر استعمال سپلائی چینز کو نشانہ بنانے کے لیے تعاون کے ایک معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ سٹارمر کے لیے انتہائی حساس ہے، جنہوں نے انسانی سمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے اور آنے والوں کی لہر کو روکنے کا وعدہ کیا ہے جس نے انتہائی دائیں بازو کی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر نے جمعرات کو بیجنگ میں ملاقات کے دوران چینی رہنما شی جن پنگ سے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا ’انتہائی اہم‘ ہے۔
سٹارمر نے کہا کہ ’چین عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے اور یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایک زیادہ پختہ تعلق استوار کریں جہاں ہم تعاون کے مواقع کی نشاندہی کریں، لیکن ان شعبوں پر بھی بامعنی بات چیت کی اجازت دیں جہاں ہمارا اختلاف ہے۔‘
اس موقعے پر چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ان کے ممالک کو جغرافیائی سیاسی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلقات کو ’مضبوط‘ کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’موجودہ بین الاقوامی صورتحال پیچیدہ اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور بڑی عالمی معیشتوں کے طور پر، چین اور برطانیہ کو بات چیت اور تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔‘