جنرل مشرف کا اقتدار پر قبضہ: نیوز روم  کی لمحہ بہ لمحہ کہانی

20 سال قبل جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کیسے ختم کی، نیوز روم میں ڈیوٹی پر موجود ایک صحافی کی زبانی احوال سنیے۔

(اے ایف پی)

11 اکتوبر 1999، پیر کا دن اور روزنامہ نوائے وقت ملتان کا نیوزروم۔

ان دنوں میری ڈیوٹی تین بجے سہ پہر سے دس بجے رات والی شفٹ میں ہوتی تھی۔ ہم نوائے وقت کی پہلی ڈاک کا پرچہ تیارکرتے تھے۔ پہلی ڈاک کے لیے لیڈ سٹوری عموماً آخری وقت تک تبدیل ہوتی رہتی تھی۔ دوسری اورتیسری ڈاک کے درمیان چونکہ وقت کم ہوتا تھا اس لیے ہماری کوشش ہوتی تھی کہ ایسی لیڈ تیار کرکے جائیں جو دوسری ڈاک میں بھی چل جائے۔

گھر سے نکلتے ہوئے مجھے یہ معلوم تھا کہ آج لیڈ سٹوری کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم نوازشریف اُس روز مجاہد علی شاہ اور جاوید علی شاہ کی دعوت پر شجاع آباد آئے ہوئے تھے اور وہاں انہوں نے تین بجے جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ دو تین روز سے یہ بات بھی زیرِ بحث تھی کہ نواز شریف کے گذشتہ دور حکومت کا خاتمہ بھی شجاع آباد کے دورے کے بعد ہوا تھا۔ کیا اس مرتبہ بھی ایسا ہوگا؟

مجھے اندازہ تھا کہ نوازشریف کا جلسہ بہت تاخیر کا شکار بھی ہوا تو چار بجے تک ختم ہو جائے گا اور پہلی ڈاک میں ہی ان کے جلسے کی لیڈ تیار ہوجائے گی جو معمولی ردوبدل کے ساتھ لوکل تک چل جائے گی لیکن مجھے یہ ہرگز معلوم نہیں تھا کہ آج خبر کی تیاری میں صبح کے چار بج جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب مجھے یاد نہیں کہ نوازشریف نے اس روز کیا تقریر کی تھی لیکن مجھے یہ معلوم ہے کہ پانچ ساڑھے پانچ بجے کے قریب میں لیڈ سٹوری بنا چکا تھا۔

شجاع آباد جانے کے لیے نواز شریف خصوصی طیارے کے ذریعے ملتان آئے تھے اور یہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود ان کے طیارے میں ان کے تقریر نویس نذیر ناجی موجود ہیں۔ نوازشریف انہیں طیارے میں ہی چھوڑ کر شجاع آباد چلے گئے تھے تاکہ جب تک وہ واپس آئیں اس وقت تک نذیر ناجی وہ تقریر لکھ لیں جو نوازشریف نے واپس اسلام آباد جا کر کرنی تھی۔

اس وقت تک کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ نواز شریف شجاع آباد روانگی سے قبل جنرل پرویز مشرف کی جگہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ کو ترقی دے کر چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر آئے ہیں۔ پرویزمشرف ملک میں موجود نہیں تھے۔ وہ سری لنکا کے دورے پر گئے ہوئے تھے۔ یہ فیصلہ اتنی عجلت میں اور خفیہ طور پر کیا گیا کہ جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف کے جو بیج لگانے تھے وہ بھی بازار سے خریدنا پڑے۔

نوازشریف اس تقریب کے بعد ملتان آ گئے اور وزیراعظم ہاؤس میں پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ اور ضیاء الدین بٹ کی تقرری کے احکامات تیار کیے جانے لگے جو چار بجے سہ پہر جاری کر دیے گئے۔

جنرل پرویز مشرف کے ساتھ کارگل کے بعد سے نوازشریف کے تعلقات بہت کشیدہ جا رہے تھے لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ معاملات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ نوازشریف انتہائی اقدام اٹھانے والے ہیں۔

شجاع آباد کے جلسے میں نواز شریف نے کوئی چار اور پانچ بجے کے درمیان تقریر شروع کی۔ ابھی وہ آدھی تقریر ہی کر پائے تھے کہ اسلام آباد سے آئے ہوئے ان کے ایک افسر نے ان کے کان میں آکر کوئی بات کی اور یہ بات سنتے ہی نوازشریف تقریر مختصر کرکے فوری طور پر واپس ملتان اور وہاں سے اسلام آباد روانہ ہوگئے۔

شجاع آباد کے صحافیوں نے نواز شریف کے جلسے کی تقریر اور جھلکیاں بنا کر اخبارات کو فیکس کرنا شروع کردیں اور نوائے وقت ملتان کے دفتر میں مجھے وہ خبر موصول ہوگئی جس کے لیے میں ذہنی طور پر پہلے سے تیار تھا۔

نیوز ایڈیٹرعاشق علی فرخ پانچ بجے کے قریب دفتر آئے تو میں نے تیارشدہ لیڈ اُن کے سامنے رکھ دی۔ انہوں نے ایک نظر اس پر ڈالی اور سوال کیا کہ تصویریں کب تک آئیں گی؟ میں ابھی اس سوال کا جواب ہی نہیں دے پایا تھا کہ پانچ بجے کی خبروں کا وقت ہوگیا۔

پانچ بجے کی خبروں میں چند سطروں کی یہ خبر نشر ہوئی کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کو ریٹائر کرکے ان کی جگہ ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے۔ میں جو اُس وقت لیڈ تیار کیے بیٹھا تھا، فوری طورپر نئی خبر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔

یہ ضمیمے کا دور تھا۔ اطلاعات تک رسائی آج کی طرح اتنی تیز نہیں تھی۔ اُس چند سطری خبر سے مجھے ضمیمے کا پورا صفحہ تیار کرنا تھا۔ نوازشریف کی شجاع آباد میں ہونے والی تقریر بھی اسی ضمیمے میں استعمال کرلی گئی۔

آدھے گھنٹے کے اندر ہم نے ضمیمہ چھاپ کر مارکیٹ میں بھیج دیا لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد میں کیا ہو رہا ہے۔ پانچ بجے تک ٹرپل ون بریگیڈ حرکت میں آ چکی تھی اور ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز خود اس آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔

پی ٹی وی، ریڈیو پاکستان اور دیگر نشریاتی اداروں کا کنٹرول فوجی جوانوں نے سنبھال لیا تھا۔ ٹی وی کی نشریات تعطل کا شکار ہوئیں تو یکدم افواہوں کا بازار گرم ہوگیا۔ موبائل فون اُس وقت چند لوگوں کے پاس ہوتے تھے۔ ان کی سروس بھی منقطع کر دی گئی۔ ہوا یہ تھا  کہ پاک فوج نے جنرل ضیاء الدین بٹ کو اپنا سربراہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جوائنٹ چیفس آف دی سٹاف کمیٹی کی جانب سے نوازشریف کی فوجی قیادت کی تبدیلی کی کوشش ناکام بنادی گئی تھی۔

جو ضمیمہ ہم نے مارکیٹ میں بھیجا تھا اس کی فروخت بھی رک گئی۔ معلومات کا واحد ذریعہ اب بی بی سی ٹی وی تھا جو ہم ڈش اینٹینا کے ذریعے مانیٹر کرتے تھے۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ فوجی دستوں نے جنرل مظفرعثمانی کی قیادت میں کراچی ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ پرویز مشرف کا جو طیارہ کولمبو سے آ رہا تھا وہ کراچی کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اسے شیڈول کے مطابق ساڑھے چھ بجے کراچی پہنچنا تھا لیکن کنٹرول ٹاور سے اسے ہدایت کی جا رہی تھی کہ طیارے کا رخ نواب شاہ کی جانب موڑ لیا جائے اور مبینہ طورپر یہ کوشش وزیراعظم کی ہدایت پر اس لیے کی جا رہی تھی کہ پرویز مشرف کو پاکستان پہنچتے ہی حراست میں لے لیا جائے۔

طیارے میں موجود جنرل پرویزمشرف کو صورتحال کا اندازہ ہو گیا تھا۔ انہوں نے پائلٹ کو ہدایت کی کہ وہ کراچی ایئرپورٹ کی جانب ہی پرواز جاری رکھے کہ وہ کراچی ہی اترنا چاہتے تھے۔ پائلٹ نے بتایا کہ طیارے میں صرف سات منٹ کا پیٹرول باقی ہے اور اس صورت میں کوئی حادثہ بھی ہوسکتا ہے لیکن پرویز مشرف نے کراچی اترنے پر اصرار جاری رکھا۔

اسی دوران کنٹرول ٹاور پر پاک فوج کے جوانوں نے صورتحال کو قابو کرلیا اور پرویز مشرف کا طیارہ بحفاظت کراچی اتار لیا گیا۔ طیارہ روکنے کی اس کوشش کو بعد ازاں ہائی جیکنگ کی کوشش قرار دیا گیا اور نواز شریف اس کیس میں سزا یافتہ ہونے کے بعد جلا وطنی پر مجبور کیے گئے۔

رات سوا دس بجے ٹی وی کی نشریات بحال ہوئیں اوروہاں قومی ترانے دکھائے جانے لگے۔ اس دوران پی ٹی وی سینٹر میں فوج کے داخل ہونے کی وہ تصویریں بھی اے ایف پی کے ذریعے اخبارات کوموصول ہوگئی تھیں جن میں فوجی جوان پی ٹی وی سینٹر کا گیٹ پھلانگ رہے ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس میں بھی فوج داخل ہو چکی تھی۔ نوازشریف نے پرویز مشرف کی سبک دوشی کے احکامات واپس لینے اور مستعفی ہونے سے انکار کیا تو انہیں وزیراعظم ہاؤس سے لے جا کر ایک ریسٹ ہاؤس میں نظربند کر دیا گیا۔ وزیراعظم ہاؤس میں موجود دیگر اہلکاروں اور وزرا کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

صدیق الفاروق وزیراعظم ہاؤس کے ایک غسل خانے میں چھپ گئے تھے وہ وہیں بند رہ گئے۔ ٹیلی فون بحال ہونا شروع ہوئے اور نواز حکومت کی برطرفی کی خبر بھی آ گئی۔

یہ سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ فوج نے اقتدار پر پھر قبضہ کر لیا ہے لیکن سرکاری اعلان کا ابھی انتظار تھا اور وہ اعلان خود پرویز مشرف کو کرنا تھا۔

رات دوبجے تک بھی جب پرویزمشرف کی تقریر شروع نہ ہوئی تو عاشق علی فرخ صاحب نے مجھے گھر جانے کی اجازت دے دی لیکن گھر کس نے جانا تھا۔ ایک دوست کی بیٹھک میں ملک عامر ڈوگر سمیت بہت سے سیاسی کارکن اور دانشور تقریر سننے کے لیے جمع تھے اور وہیں نوازحکومت کے خاتمے کی خوشی میں مٹھائی بھی تقسیم ہو رہی تھی۔

میں بھی وہاں پہنچ گیا۔ رات تین بجے پرویزمشرف نے کمانڈو کی وردی میں قوم سے خطاب کیا۔ نواز حکومت کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے خلاف ’سازش‘ ناکام بنانے کا اعلان کیا۔ ابھی انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ انہوں نے کس حیثیت میں حکومت کرنی ہے۔ تقریر میں مارشل لا کا لفظ بھی استعمال نہ کیا گیا، نہ ہی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جیسی کوئی اصطلاح ان کی زبان پر آئی۔

ابھی تو انہیں کسی آئینی ماہر نے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ تخلیق کرنے کا مشورہ بھی نہیں دیا تھا۔ یہ سارے معاملات اگلے دو روز میں آئین کے جادوگر شریف الدین پیرزادہ نے طے کرنا تھے۔ قوم بس یہ جانتی تھی کہ امیر المومنین کے منصب پر فائز ہونے والے نواز شریف سے اسے نجات مل چکی ہے۔ لوگ مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے جیسے انہوں نے بھٹو کی رخصتی اور پھانسی پر تقسیم کی تھیں اور جیسے وہ آئندہ بھی جمہوریت کے خاتمے پر تقسیم کریں گے۔

نوازشریف کی جو لیڈ سٹوری میں نے پانچ بجے تیار کی تھی وہ اگلے روز کے اندرونی صفحات پر سنگل کالم سرخی کے ساتھ شائع کی گئی۔ سرخی یہ تھی: ’نوازشریف کی شجاع آباد میں آخری تقریر۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ