|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 27واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
رات 10 بجے
ایران نے مذاکرات میں سنجیدگی ظاہر کرتے ہوئے 10 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز عبور کی اجازت دی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات میں سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے ’بطور تحفہ‘ آبنائے ہرمز سے پاکستانی پرچم بردار 10 تیل کے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔
ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں تہران کی جانب سے بڑے ’تحفے‘ کے حوالے سے مبہم بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس ہفتے کے دوران پہلے آٹھ بڑے تیل کے جہازوں کو اس اہم پانی کے راستے سے عبور کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ بعد میں دو دیگر جہازوں کو بھی گزرنے دیا گیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران دیا، جس میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی جسے وہ پہلے ایران کی جانب سے بڑا ’تحفہ‘ قرار دے چکے تھے۔
ٹرمپ نے مزید کہا: ’میرا خیال ہے وہ درست تھے، وہ واقعی سنجیدہ تھے، اور میرے خیال میں یہ پاکستانی پرچم بردار جہاز تھے اور آخرکار یہ تعداد 10 ہو گئی۔‘
وائٹ ہاؤس نے جہازوں کی مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وہ ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایک ایسے معاہدے پر آمادہ ہو جو آبنائے ہرمز کی اہم بحری گزرگاہ کو کھلا رکھے اور اس کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کرے۔
امریکی صدر نے منگل کو بھی مبصرین کو حیران کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکہ کو توانائی سے متعلق ایک بڑی رعایت دی ہے، تاہم اس وقت انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی تھی۔
انہوں نے اس موقع پر صحافیوں سے کہا تھا: ’انہوں نے ہمیں ایک تحفہ دیا اور وہ آج موصول ہوا، اور یہ ایک بہت بڑا تحفہ تھا جس کی مالیت بہت زیادہ ہے۔‘
رات 8 بج کر 30 منٹ
ایران نے پاکستانی ثالثی میں جنگ بندی کے لیے امریکی 15 نکاتی منصوبے پر جواب بھیج دیا
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران نے جمعرات کو جنگ بندی کے لیے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے پر ثالث ذرائع کے ذریعے جواب دے دیا ہے اور اب وہ واشنگٹن کے ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے یہ منصوبہ ایران تک پاکستان کے ذریعے پہنچایا گیا ہے تاہم اس کی باضابطہ تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔
تسنیم کی رپورٹ میں ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’ایران کا امریکہ کے پیش کردہ 15 نکات پر جواب گذشتہ رات باضابطہ طور پر ثالث کے ذریعے بھیجا گیا اور اب ایران دوسری جانب کے جواب کا منتظر ہے۔‘
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اے ایف پی
رات 8 بج کر 10 منٹ
سعودی سفیر کی ایران جنگ میں پاکستان کے ’تعمیری کردار‘ کی تعریف
اسلام آباد میں سعودی سفیر نواف بن سعیدالمالکی نے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پرامن مذاکرات کا فروغ علاقائی سلامتی اور استحکام کی حمایت میں پاکستان کے تعمیری کردار اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جمعرات کو ایک ویڈیو پیغام میں سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو پختہ یقین ہے کہ دانشمندی اور بین الاقوامی یکجہتی ہی ان بحرانوں پر قابو پانے کا راستہ ہے اور انسانی اصولوں کی پاسداری سلامتی اور امن برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
سعودی سفیر نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات ان خود مختار ریاستوں کے خلاف بلا اشتعال جارحیت کے مترادف ہیں جو کسی بھی تنازع کا حصہ نہیں ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
’ان افسوسناک حملوں کے نتیجے میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور مقیم افراد سمیت عام شہری جان سے گئے اور زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں رہائشی علاقوں اور اہم شہری تنصیبات بشمول ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو ان خلاف ورزیوں کی سنگینی اور ان کے انسانی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو ان حملوں کا ایک ایسی عالمی شہ رگ بحری گزرگاہ تک پھیلنے کا خدشہ ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس راستے سے نہ صرف بحری جہاز گزرتے ہیں بلکہ پوری دنیا کے مفادات، معاشی استحکام اور توانائی کی حفاظت بھی اسی سے وابستہ ہے۔‘
شام 7 بج کر 25 منٹ
یو اے ای میں میزائل کے ملبے سے پاکستانی شہری سمیت دو افراد جان سے گئے
متحدہ عرب امارات میں جمعرات کو فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایک بیلسٹک میزائل کو کامیابی سے تباہ کیے جانے کے بعد گرنے والے ملبے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری سمیت دو افراد جان سے گئے اور تین زخمی ہو گئے۔
ابوظبی میڈیا آفس کے مطابق واقعے میں جان سے جانے والے دوسرے شخص انڈین شہری ہیں۔
As part of the ongoing follow-up to the previously reported incident caused by falling debris following the successful interception of a ballistic missile by air defence systems, the incident has resulted in the deaths of two individuals of Pakistani and Indian nationality, and…
— مكتب أبوظبي الإعلامي (@ADMediaOffice) March 26, 2026
زخمیوں میں ایک اماراتی، ایک اردنی اور ایک انڈین شہری شامل ہیں جن کی حالت مختلف بتائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ زمین پر گرا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر انحصار کیا جائے اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں سے گریز کیا جائے۔
یہ اس جنگ کے دوران متحدہ امارات میں جان سے جانے والے دوسرے پاکستانی کی موت ہے، پہلے پاکستانی شہری 28 فروری کو پروجیکٹائل کا ملبہ گرنے سے ہی جان سے چلے گئے تھے۔
رواں ماہ کے آغاز پر ایران کے قریب پاکستانی سمندر میں بھی ایک پاکستانی ماہی گیر ایک پروجیکٹائل کا ملبہ کشتی پر گرنے سے جان سے چلا گیا تھا۔
شام 7 بج کر 10 منٹ
ضرورت پڑنے پر وہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں: یمنی حوثی
یمن میں حوثی ملیشیا نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی عسکری صلاحیتوں کی ضرورت پیش آئی تو وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری لڑائی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔
ایک حوثی رہنما نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم ہر آپشن کے ساتھ مکمل طور پر عسکری طور پر تیار ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’جہاں تک زیرو آور (کارروائی کے وقت) کے تعین سے متعلق دیگر تفصیلات کا تعلق ہے، وہ قیادت پر چھوڑ دی گئی ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پیش رفت پر نظر رکھ رہے ہیں اور مناسب وقت آنے پر کارروائی کریں گے۔‘
اگر حوثی اس تنازع میں نیا محاذ کھولتے ہیں تو ایک واضح ہدف یمن کے ساحل کے قریب آبنائے باب المندب ہو سکتی ہے جو بحیرہ احمر میں ایک اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور نہر سویز کی جانب جانے والی سمندری آمد و رفت کو کنٹرول کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران مؤثر طور پر آبنائے ہرمز کو بند کر چکا ہے۔
شام 6 بج کر 15 منٹ
ایران کے اسرائیل پر تازہ حملے، متعدد افراد زخمی
ایران نے جمعرات کو میزائلوں کے متعدد حملے کیے جس کے بعد تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس، حائفہ اور دیگر علاقوں میں سائرن اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
بعد ازاں اسرائیلی حکام نے بتایا کہ ان تازہ حملوں میں متعدد شہری زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق بیشتر میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔
اسرائیلی ایمرجنسی سروس میگن ڈیوڈ ایڈم کے مطابق ایرانی میزائلوں کے گرنے والے ملبے سے کم از کم سات افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ وسطی شہر کفر قاسم اور ایک تل ابیب میں زخمی ہوا۔
فوج نے کہا کہ دن بھر میں سات مختلف لہروں میں میزائل فائر کیے گئے، جس کے باعث مقبوضہ بیت المقدس، حائفہ، تل ابیب اور مغربی کنارے کے کچھ علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔
رپورٹس کے مطابق تل ابیب کے قریب ایک رہائشی عمارت کو تباہ شدہ میزائل کے ملبے سے نقصان پہنچا، جب کہ کفر قاسم میں بھی کئی گھروں اور گاڑیوں کو نقصان ہوا۔
ادھر لبنان سے بھی رات کے وقت راکٹ فائر کیے گئے جب کہ جنوبی لبنان میں جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی مارا گیا۔ اے ایف پی
سہ پہر 4 بج کر 45 منٹ
مذاکرات میں شامل ہوں اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے: ٹرمپ کی ایران کو تنبیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کو متنبہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت میں شامل ہو جائے ’اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘
تہران نے تقریباً چار ہفتوں سے جاری تنازع کو حل کرنے کے لیے امریکی اقدامات کو عوامی طور پر مسترد کر دیا تھا۔
ٹرمپ کا یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے کہا کہ اس نے ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کو قتل کر دیا ہے اور اسے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز کی اہم شپنگ لین کا گلا گھونٹنے کا ’براہ راست ذمہ دار‘ قرار دیا ہے۔
ایران کے ساتھ امریکہ اسرائیل جنگ کے مذاکراتی خاتمے کی امیدیں، جس نے خطے کے بیشتر حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اس وقت بڑھ گئی جب کہا گیا کہ واشنگٹن نے تہران کے لیے امن کا منصوبہ پیش کیا ہے اور اسلامی جمہوریہ کے لیے فریقین کی بات کو مسترد کر دیا۔
لیکن پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعرات کو تصدیق کی کہ اسلام آباد پیغامات کے ذریعے ’امریکہ ایران بالواسطہ بات چیت‘ کی سہولت فراہم کر رہا ہے اور یہ کہ تہران کی طرف سے 15 نکاتی امریکی منصوبے پر ’غور کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’بہتر ہو جائے کہ وہ جلد ہی سنجیدہ ہو جائیں، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کیونکہ ایک بار ایسا ہو جانے کے بعد، پیچھے ہٹنا نہیں ہے اور یہ اچھا نہیں ہو گا۔‘
دن 3 بج کر 45 منٹ
امن، مذاکرات اور تنازعات کے حل کے لیے سعودی عرب کے ساتھ ہم آہنگی ہے: پاکستان
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اسلام آباد کا قریبی برادر ملک ہے اور پاکستان امن، مذاکرات اور تنازعات کے حل کے لیے جو کچھ کرتا ہے ریاض اور دیگر ملکوں کے ساتھ بہت قریبی ہم آہنگی میں کرتا ہے۔
اسلام آباد میں جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک اہم بات چیت کرنے والا اور عرب دنیا کا اہم اور بڑا ملک ہے جس پر حملہ ہوا ہے۔
’اس لیے یقیناً سعودی عرب کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ میں نے ابھی ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیا جو ہمارے وزیر اعظم اور ولی عہد کے درمیان ہوئی۔ اس کے علاوہ ہمارے نگراں وزیر اعظم اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان پہلے کی مصروفیات کا بھی ذکر کیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ ہمارا موقف بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں اصولی ہے۔ یہ کسی ایک ملک کے خلاف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی اور علاقائی دارالحکومتوں میں ہماری پوزیشن کا احترام کیا جاتا ہے۔
دن 3 بج کر 15 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری: اسحٰق ڈار
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے جمعرات کو کہا کہ ’درحقیقت امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کی صورت میں جاری ہے۔‘
انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس تناظر میں امریکہ نے 15 نکات شیئر کیے ہیں جن پر ایران غور کر رہا ہے۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ برادر ممالک ترکی اور مصر سمیت دیگر بھی اس اقدام میں اپنی حمایت فراہم کر رہے ہیں۔
There has been unnecessary speculation in the media regarding peace talks to end ongoing conflict in the Middle East. In reality, US-Iran indirect talks are taking place through messages being relayed by Pakistan. In this context, the United States has shared 15 points, being…
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 26, 2026
نائب وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کے حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔
’پاکستان امن کے فروغ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور خطے سمیت دنیا بھر میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔‘
دن 12 بج کر 25 منٹ
پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا: شہباز شریف
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کے مطابق شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کو یقین دلایا کہ ’پاکستان خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ اور حقیقی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی حمایت کے مضبوط پیغام پر ملائیشیا کے وزیر اعظم کو خراج تحسین پیش کیا۔
’وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملائیشیا کے وزیر اعظم کو امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے برادر خلیجی ممالک اور ایران کے رہنماؤں کے ساتھ ان کی بات چیت سمیت تازہ ترین سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔‘
بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی ’شاندار قیادت‘ کی تعریف کرتے ہوئے ملائیشیا کے وزیراعظم نے انہیں مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی گفتگو سے بھی آگاہ کیا جس میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
’ملائیشیا کے وزیراعظم نے پاکستان کی امن کوششوں میں ملائیشیا کی مکمل حمایت کی پیشکش کی۔‘
دن 11 بج کر 55 منٹ
ایرانی حملے میں 6 اسرائیلی زخمی: طبی حکام
اسرائیلی فوج نے جمعرات کو بتایا کہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کے جواب میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا، جن کے نتیجے میں طبی حکام کے مطابق چھ افراد معمولی زخمی ہوئے اور کچھ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی ایمرجنسی میڈیکل سروس کے ترجمان نے کہا کہ پیرامیڈکس ’چھ افراد کو طبی امداد فراہم کر رہے ہیں جو دھماکے کے اثرات سے معمولی زخمی ہوئے۔‘
صبح 9 بج کر 22 منٹ
ایران کا لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، امریکہ کی تردید
ایران کے پاسدارن انقلاب نے چابہار کے قریب امریکی لڑاکا طیارہ ایف اے 18 مار گرانے کا دعویٰ کیا جس کی امریکہ نے تردید کی ہے۔
FALSE: The Islamic Revolutionary Guard Corps announced a U.S. F/A-18 fighter was struck over Chabahar using new advanced air defense systems.
TRUE: No U.S. fighter aircraft have been shot down by Iran. pic.twitter.com/I25QFjYo0l
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 25, 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر اس خبر کو ’فیک نیوز‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب کوئی امریکی لڑاکا طیارے نہیں گرایا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے نیا اور ایڈوانسڈ دیفنس سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے امریکی لڑاکا طیارہ ایف اے 18 مار گرایا۔
صبح 7 بج کر 40 منٹ
ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ مذاکرات نہیں: ایران
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے دی گئی تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم وہ مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع کو ختم کرنے کے لیے براہِ راست مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عباس عراقچی کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایران کے مطالبات مان لیے جائیں تو تہران جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت پر آمادہ ہو سکتا ہے، باوجود اس کے کہ ابتدائی ردعمل منفی تھا اور ایرانی حکام نے عوامی طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا تھا۔
عراقچی نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ ’ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے مترادف نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’انہوں نے اپنے پیغامات میں کچھ تجاویز پیش کی ہیں جو اعلیٰ حکام تک پہنچا دی گئی ہیں، اور اگر ضرورت پڑی تو ان کی جانب سے مؤقف کا اعلان کیا جائے گا۔‘
چھ علاقائی ذرائع کے مطابق ایران نے ثالثوں کو یہ بھی بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کسی بھی جنگ بندی معاہدے میں لبنان کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔
صبح 7 بج کر 26 منٹ
ایران معاہدے کے لیے بے تاب مگر کہنے سے ڈرتا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر کہا کہ ایران امن مذاکرات میں شامل ہے، اور اشارہ دیا کہ تہران کی جانب سے انکار اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کاروں کو ’اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں مارے جانے کا خوف‘ ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ (ایران) دراصل مذاکرات کر رہے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے حد بے تاب ہیں۔ لیکن وہ یہ بات کہنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں اپنے ہی لوگ مار دیں گے۔
’انہیں یہ بھی خوف ہے کہ ہم انہیں مار دیں گے۔‘
امریکی صدر کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’ہم مذاکرات کا ارادہ نہیں رکھتے۔‘