چیٹ جی پی ٹی سے طبی مشورہ کرنے سے پہلے یہ باتیں ذہن میں رکھیں

آج کل بہت سے مریض اپنی طبی الجھنوں کے حل کے لیے تیزی سے مصنوعی ذہانت کا رخ کر رہے ہیں، لیکن کیا یہ مشورے محفوظ ہیں؟ اور کیا آپ کے سوال پوچھنے کا انداز نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے؟ 

دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ مصنوعی ذہانت سے طبی مشورے لیتے ہیں (انڈی گرافکس/اینواتو)

جب الیگزینڈرا واٹسن کو اپنے دل کی بیماری کے بارے میں کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ سب سے پہلے چیڈ سے رجوع کرتی ہیں۔ یہ ان کے دل کے ڈاکٹر کا نام نہیں بلکہ چیٹ جی پی ٹی کے لیے رکھا گیا ان کا عرفی نام ہے۔ وہ گذشتہ چند برس سے اپنی علامات کی جانچ کے لیے اسے استعمال کر رہی ہیں۔

ان کا مرض بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل ایل ایم یعنی زبان کا بڑا ماڈل غیر ضروری معلومات کو چھانٹ کر صاف اور آسانی سے سمجھ آنے والی معلومات فراہم کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’میں اپنے دل کے ڈاکٹر سے یہ توقع نہیں کر سکتی کہ وہ اتنا وقت نکال کر اس موضوع پر میرے ہر سوال کو تفصیل سے سمجھائیں۔ لیکن مصنوعی ذہانت کے استعمال سے میں کسی بات کی گہرائی میں جا سکتی ہوں اور فرضی صورت حال پر بھی گفتگو کر سکتی ہوں۔ ڈاکٹر بات کو اہمیت نہیں دیتے، گوگل صرف آپ کو ڈراتا ہے، لیکن چیڈ مددگار ہے۔‘

جنوری میں چیٹ جی پی ٹی بنانے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ دنیا بھر میں روزانہ 4 کروڑ سے زیادہ لوگ صحت سے متعلق مشورے کے لیے اس چیٹ بوٹ کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ تعداد دنیا بھر میں چیٹ جی پی ٹی کو بھیجے جانے والے پیغامات کا 5 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔ گذشتہ سال صحت کی سہولتوں کے لیے کام کرنے والے ادارے ہیلتھ واچ کی تحقیق میں پتہ چلا کہ انگلینڈ میں 9 فیصد مرد اور 7 فیصد خواتین طبی سوالات کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں۔

واٹسن کے لیے یہ بات ایک اضافی فائدہ ہے کہ چیٹ بوٹ ان کے گذشتہ پوچھے گئے مسائل کو یاد رکھتا ہے اور یوں انہیں اپنی صحت کی زیادہ مکمل صورت حال سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب وہ صحت سے متعلق کوئی اور سوال پوچھتی ہیں تو یہ دل کے بارے میں ان کے گذشتہ سوالات کا بھی حوالہ دیتا ہ

تاہم وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ ’چیڈ‘ میں خوشامد کرنے کا رجحان ہو سکتا ہے اور وہ ضروری نہیں کہ کڑوی مگر فائدہ مند بات کرے۔ وہ کہتی ہیں، ’یہ چاہتا ہے کہ میں اپنے بارے میں اچھا محسوس کروں۔‘ ان کے مطابق جب انہوں نے کچھ دن پہلے مناسب غذاؤں کے بارے میں پوچھا تو اس نے تقریبا دو سال پہلے ہونے والے آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زیادہ مشقت نہیں کرنی چاہیے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ سن یاس کے دوران انہیں اپنے ساتھ نرمی برتنی چاہیے۔

کیرول ریلٹن بھی اسے استعمال کرنے لگی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’میں زیادہ تر دنوں میں اپنے کام یا سفر کے انتظامات کے لیے چیٹ جی پی ٹی استعمال کرتی ہوں۔ اس لیے طبی معلومات سمیت زندگی کے دیگر معاملات میں بھی اس کا استعمال مجھے فطری لگا۔‘ واٹسن کی طرح انہیں بھی دل کی بیماری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا معمول کا طبی معائنہ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے طبی عملہ صرف فہرست میں خانہ پر کر رہا ہو۔ اس لیے جب انہیں اپنے جسم میں کچھ ایسی تبدیلیاں محسوس ہوئیں جن کے بارے میں وہ یقینی نہیں تھیں تو انہوں نے سب سے پہلے چیٹ جی پی ٹی سے رجوع کیا۔

بین الاقوامی سفر کی منصوبہ بندی کے دوران بھی چیٹ بوٹ ان کے لیے مفید ثابت ہوا۔ اس نے انہیں بتایا کہ اپنی دوائیں ساتھ لے کر سفر کرنے کے لیے ڈاکٹر سے ’سفر کے لیے موزوں‘ ہونے کا تصدیقی خط حاصل کریں۔ اس کا خوش گوار انداز بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’اگر کوئی انسان اتنا ہی باعلم اور خوش اخلاق ہو تو میں سیدھی اسی کے پاس جاؤں گی۔‘

 

چوں کہ یہ معلومات فراہم کر سکتے ہیں، آسانی سے دستیاب ہیں اور حیرت انگیز طور پر انسانوں کی طرح بات کرتے ہیں، اس لیے شاید یہ حیران کن نہیں کہ ہم میں سے اتنے زیادہ لوگ صحت سے متعلق رہنمائی کے لیے مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے سوال کر رہے ہیں۔ یہ ’ڈاکٹر گوگل‘ کے مقابلے میں زیادہ دوستانہ اور کم خوف زدہ کرنے والے محسوس ہو سکتے ہیں اور اپنے عام ڈاکٹر کے مقابلے میں ان تک رسائی بھی آسان ہو سکتی ہے۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر پروگرام طبی مشورے دینے کے لیے نہیں بنائے گئے اور ان کی شرائط و ضوابط میں باریک حروف میں لکھی عبارت عموما صارفین کو یہ بات یاد دلاتی ہے۔ مثال کے طور پر چیٹ جی پی ٹی کی ہدایات میں کہا گیا ہے کہ اسے ’کسی بھی بیماری کی تشخیص یا علاج کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے نہیں بنایا گیا۔‘

لیکن جب ہم کسی چیٹ بوٹ کے ساتھ سوال جواب میں پوری طرح مصروف ہوتے ہیں تو یہ بات آسانی سے بھول سکتے ہیں۔ سٹینفرڈ اور برکلے کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق میں پتہ چلا کہ 2022 سے 2025 کے دوران زبان کے بڑے ماڈلز پر صحت سے متعلق سوالات کے جواب میں دی جانے والی وضاحتوں اور تنبیہات میں نمایاں کمی آئی اور ان کی شرح 26.3 فیصد سے گھٹ کر 0.97 فیصد رہ گئی۔

تمام زبان کے بڑے ماڈلز کی طرح چیٹ بوٹس بھی غلطیاں کرنے اور من گھڑت معلومات دینے کے لیے خاصے بدنام ہیں۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ الفاظ کے انداز کا اندازہ لگا کر حقیقت کے خلاف یا گمراہ کن معلومات پیش کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر گذشتہ سال ایک امریکی طبی جریدے نے 60 سالہ شخص کا معاملہ شائع کیا جس نے چیٹ جی پی ٹی سے مشورہ کرنے کے بعد اپنی خوراک میں نمک کی جگہ سوڈیم برومائیڈ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ برومائیڈز کی زیادہ مقدار جسم میں جانے کے باعث وہ بے بنیاد خوف اور ایسی چیزیں دیکھنے اور سننے لگا جو حقیقت میں موجود نہیں تھیں، جس کے بعد اسے نفسیاتی علاج کے لیے داخل کرنا پڑا۔

اس کے بعد ذاتی معلومات کے تحفظ کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ فوری سہولت کی خاطر اس مسئلے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم اپنی صحت سے متعلق جو معلومات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ بانٹ رہے ہیں، ان کا کیا ہوتا ہے؟ اور ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کیا ہمیں کہیں زیادہ احتیاط سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے؟

اوپن اے آئی نے، شاید توقع کے عین مطابق، اپنے چیٹ بوٹ کو ایسا ’اہم مددگار‘ قرار دیا ہے جو مریضوں کو ’اپنے حق میں آواز اٹھانے‘ اور صحت کے نظام کو سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانے میں مدد دیتا ہے۔ خاص طور پر امریکہ میں، جہاں یہ عمل پیچیدہ اور بکھرا ہوا ہو سکتا ہے۔ جنوری میں کمپنی نے محدود صارفین کے لیے چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ متعارف کرایا۔ اس سہولت کے ذریعے صارفین اپنی صحت کی معلومات، مثلا طبی ریکارڈ یا ایپل ہیلتھ اور مائی فٹنس پال جیسی ایپس کا ڈیٹا، اس سے منسلک کر سکتے ہیں تاکہ گفتگو کے دوران انہیں اپنی ضرورت کے مطابق زیادہ ذاتی نوعیت کے جواب مل سکیں۔

اس وقت کمپنی نے کہا تھا کہ یہ نئی سہولت طبی نگہداشت کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ اس میں مدد دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ کمپنی نے یہ بھی بتایا تھا کہ صحت سے متعلق معلومات کو دوسری چیٹس سے الگ محفوظ کیا جائے گا۔ تاہم ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ سے متعلق زیادہ سخت پابندیوں کی وجہ سے یہ سہولت فی الحال برطانیہ، یورپی اقتصادی علاقے اور سوئٹزرلینڈ میں دستیاب نہیں۔

گذشتہ ماہ سائنسی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں چیٹ بوٹ کو 60 طبی صورت حال میں آزمایا گیا۔ اس دوران مریض کی جنس یا نسل جیسی مختلف معلومات تبدیل کی گئیں اور کبھی طبی ٹیسٹ کے نتائج یا اہل خانہ کے تبصرے بھی شامل کیے گئے۔ محققین نے پتہ لگایا کہ چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ نے ’طبی کتابوں میں بیان کی گئی ہنگامی صورت حال‘ میں تو اچھی کارکردگی دکھائی، جہاں مریضوں نے ایسی واضح علامات بتائیں جنہیں غلط سمجھنے کی گنجائش نہیں تھی، لیکن دوسری صورت حال میں وہ درست رہنمائی نہ دے سکا۔

جن 51.6 فیصد معاملات میں مریض کو فوری طور پر ہسپتال جانے کی ضرورت تھی، ان میں چیٹ بوٹ نے انہیں گھر رہنے یا معمول کی ملاقات کا انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ تحقیق کے سربراہ اشون راماسوامی نے برٹش میڈیکل جرنل سے کہا، ’چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ اس وقت سب سے زیادہ قابل اعتماد ہوتا ہے جب طبی فیصلے کے نتائج کی اہمیت سب سے کم ہو، اور جب درست فیصلے کی سب سے زیادہ ضرورت ہو تو یہ سب سے کم قابل اعتماد ہوتا ہے۔‘

جب دی انڈیپنڈنٹ نے اوپن اے آئی سے رابطہ کیا تو کمپنی نے کہا کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کے نظام کے بارے میں آزاد تحقیق کا خیرمقدم کرتی ہے۔ تاہم کمپنی نے دعوی کیا کہ یہ تحقیق اس بات کی صحیح عکاسی نہیں کرتی کہ لوگ عام طور پر چیٹ جی پی ٹی ہیلتھ کو کس طرح استعمال کرتے ہیں یا اسے حقیقی زندگی کی صورت حال میں کس طرح کام کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ اسے زیادہ بڑے پیمانے پر متعارف کرانے سے پہلے آزمائش اور صارفین کی رائے کی مدد سے پروگرام کی حفاظت اور قابل اعتماد ہونے کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔

یقینا صحت سے متعلق معلومات انٹرنیٹ پر تلاش کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ہم میں سے کون سچائی سے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے کبھی بظاہر معمولی علامت کے بارے میں مزید جاننے کے لیے انٹرنیٹ نہیں چھانا، اور پھر آہستہ آہستہ خود کو یہ یقین نہیں دلا دیا کہ وہ علامت دراصل کسی خوفناک بیماری یا موت کی خبر دینے والی ہے؟

این ایچ ایس کی سابق ڈاکٹر سونیا شموتسکی کہتی ہیں، ’ہم پہلے ڈاکٹر گوگل کی بات کیا کرتے تھے۔ یہ اسی کا زیادہ گفتگو کرنے والا انداز ہے، جس کی وجہ سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ صحت کے کسی حقیقی ماہر سے بات کر رہے ہوں۔‘ ڈاکٹر شموتسکی اب مصنوعی ذہانت پر مبنی صحت کی ٹیکنالوجی کمپنی 32کو کی بانی اور چیف ایگزیکٹو ہیں۔

شموتسکی کہتی ہیں، ’لوگ جس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں وہ نیا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹروں تک رسائی مشکل ہے۔ انتظار کی فہرستیں بہت طویل ہیں، اور یہ صورت حال صرف عام ڈاکٹر سے ملنے کے لیے ہے۔‘ ان کے مطابق کسی ماہر ڈاکٹر سے معلومات حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ ’اس کی وجہ یہ ہے کہ راستے میں اور بھی زیادہ رکاوٹیں ہیں۔ اس لیے یہ بالکل فطری بات ہے کہ لوگ ان معلومات کے لیے انٹرنیٹ کا رخ کریں جنہیں حاصل کرنے میں انہیں مشکل پیش آ رہی ہے۔‘

شموتسکی کہتی ہیں کہ زبان کے کسی بڑے ماڈل سے مشورہ کرنا کسی کتاب میں جواب تلاش کرنے یا گوگل پر معلومات ڈھونڈنے جیسا نہیں۔ گوگل بنیادی طور پر ’کوئی حقیقت تلاش کرکے تیار حالت میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے‘۔ اس کے برعکس زبان کے بڑے ماڈل ’انداز پہچاننے والے‘ نظام ہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں، ’یہ ایسے نظام ہیں جو امکانات کی بنیاد پر کسی سوال کا سب سے ممکنہ جواب تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے اربوں تحریروں سے سیکھا ہے اور الفاظ کے سلسلے میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگلا موزوں ترین لفظ کون سا ہوگا۔‘

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’اگر آپ اس سے کوئی بات پوچھیں تو آپ سو فیصد یقین نہیں کر سکتے کہ وہ بالکل درست حقیقت ہی تلاش کرکے دے گا۔‘ شموتسکی کے مطابق ’اصل تشویش یہی ہے‘۔

اس کے علاوہ زبان کا بڑا ماڈل اس وقت بھی بہت زیادہ مددگار بننے کی کوشش کرتا ہے جب اسے جواب کا پورا یقین نہ ہو۔ شموتسکی کا کہنا ہے کہ یہ نظام درست جواب دینے کے مقابلے میں مددگار نظر آنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق من گھڑت جواب اس وقت سامنے آ سکتے ہیں ’جب زبان کا بڑا ماڈل اپنی معلومات میں موجود خلا کو پر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھیے، غالبا جواب یہ ہے۔‘

آپ اپنا سوال جس انداز میں لکھتے ہیں، اس کا ملنے والے جواب پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ڈیجیٹل کلینک ہیلتھ ہیرو کی قائم مقام چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر کیرولین پائلٹ کہتی ہیں کہ جب آپ چیٹ بوٹ کو کوئی پیغام یا سوال بھیجتے ہیں تو آپ صرف وہ معلومات شامل کرتے ہیں جنہیں آپ اہم سمجھتے ہیں۔ ’اس لیے سوال شروع ہی سے یک طرفہ معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔‘ اس کے علاوہ آپ انجانے میں ایسی اہم معلومات چھوڑ سکتے ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر ضرور پوچھتا۔

وہ وضاحت کرتی ہیں، ’جب میں کسی شخص سے طبی مشورے کے دوران بات کرتی ہوں تو پہلے اسے وہ باتیں بتانے دیتی ہوں جو اس کے خیال میں اہم ہیں۔ لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی سوچ رہی ہوتی ہوں کہ ٹھیک ہے، مگر کیا اسے کوئی اور مسئلہ بھی تھا جس کا اس نے ذکر نہیں کیا؟‘

ان تمام مسائل سے بچنے کے لیے چیٹ بوٹ کی مداح الیگزینڈرا واٹسن کہتی ہیں کہ وہ چیٹ جی پی ٹی سے طبی سوال پوچھتے ہوئے ہمیشہ معلومات کے ذرائع مانگتی ہیں اور جواب کی دوبارہ جانچ کرنے کو کہتی ہیں۔

کیا ڈاکٹروں کو تشویش ہے کہ ’ڈاکٹر چیٹ جی پی ٹی‘ مریضوں کے طبی مشورہ حاصل کرنے کا طریقہ بدل رہا ہے؟ ڈاکٹر پائلٹ کہتی ہیں، ’میں جانتی ہوں کہ بہت سے طبی ماہرین کو یہ بات پسند نہیں، لیکن اگر لوگوں نے خود معلومات حاصل کی ہوں اور چیٹ بوٹ سے پوچھا ہو تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے ان سے بات کرنا، ان کے خوف اور خدشات کو سمجھنا اور یہ جاننا دلچسپ لگتا ہے کہ چیٹ بوٹ نے ان سے کیا کہا۔‘

تاہم ان کے مطابق یہ مریض پر بھی منحصر ہو سکتا ہے۔ اگر کسی شخص نے پہلے ہی اپنے ذہن میں طے کر لیا ہو کہ اسے کون سا مسئلہ ہے تو ممکن ہے کہ انٹرنیٹ نے جس بیماری کا نام بتایا ہو، وہ پہلے ہی اس سے خوف زدہ ہو چکا ہو۔

پروفیسر وکٹوریا زورتزیو براؤن رائل کالج آف جنرل پریکٹیشنرز کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’مریضوں کو اپنی صحت کے بارے میں جاننے کا شوق رکھتے دیکھنا حوصلہ افزا ہے۔‘ لیکن وہ خبردار کرتی ہیں کہ چیٹ بوٹس خطرات سے خالی نہیں۔ وہ وضاحت کرتی ہیں، ’یہ ہمیشہ واضح نہیں ہوتا کہ معلومات کہاں سے لی جا رہی ہیں یا وہ کتنی درست ہیں۔‘ ان کے مطابق اس وجہ سے جواب میں ایسا مواد شامل ہو سکتا ہے جو نہ شواہد پر مبنی ہو اور نہ قابل اعتماد۔

وہ کہتی ہیں کہ ٹیکنالوجی میں مریضوں کی مدد کرنے کی ’بے پناہ صلاحیت‘ موجود ہے۔ ’لیکن اسے ہمیشہ ڈاکٹروں اور صحت کے دیگر ماہرین کے کام کے ساتھ مل کر چلنا اور ان کے کام میں مدد دینا ہوگی۔‘

یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ زبان کے بڑے ماڈلز کو اپنی صحت کی معلومات دینے سے ذاتی معلومات کے تحفظ کے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈربی میں کمپیوٹر سائنس کی لیکچرر ڈاکٹر عائشہ مکر ایسی ٹیکنالوجی کی ماہر ہیں جو اخلاقی اصولوں کے مطابق ذاتی معلومات کو محفوظ رکھتی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’مصنوعی ذہانت کے بہت سے نظام صارفین کی فراہم کردہ معلومات کو انٹرنیٹ پر موجود کمپیوٹر نظاموں میں محفوظ کرتے ہیں، جہاں ماڈلز ان معلومات سے بار بار سیکھ سکتے ہیں۔‘ تاہم اس بات کی ہمیشہ ضمانت نہیں ہوتی کہ اس عمل میں شناخت چھپانے کے سخت اصولوں پر عمل کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ بعض اوقات زبان کے بڑے ماڈل ’معلومات میں موجود انداز کی بنیاد پر حساس ذاتی تفصیلات کا اندازہ لگا سکتے ہیں یا انہیں دوبارہ تشکیل دے سکتے ہیں‘، چاہے صارفین نے اپنی شناخت ظاہر کرنے والی واضح معلومات دینے سے گریز ہی کیوں نہ کیا ہو۔ مکر کے مطابق ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کو بہت کم علم ہوتا ہے کہ پس پردہ ہماری معلومات کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے۔ ’مصنوعی ذہانت کی سب سے معتبر کمپنیاں بھی صارفین کو شاذ و نادر ہی یہ اختیار دیتی ہیں کہ وہ طے کر سکیں کہ صحت سے متعلق ان کی معلومات کتنے عرصے تک محفوظ رکھی جائیں۔‘

اس لیے وہ مشورہ دیتی ہیں کہ چیٹ بوٹس سے ’صرف صحت سے متعلق عمومی رہنمائی حاصل کی جائے، ذاتی طبی مشورہ نہیں جس کے لیے صحت کی تفصیلی معلومات دینا ضروری ہو۔‘

دوسری جانب ڈاکٹر پائلٹ سے ’ہر وقت‘ پوچھا جاتا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت ڈاکٹروں کی جگہ لے لے گی۔ وہ کہتی ہیں، ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ ڈاکٹروں کی جگہ لے گی۔ میرے خیال میں یہ ان کی مدد کرے گی اور وہ اسے مشورے کے ایک آلے کے طور پر استعمال کریں گے۔‘

زورتزیو براؤن کہتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ چاہے کتنا ہی دوستانہ اور خوش کرنے کا خواہش مند کیوں نہ لگے، وہ ایسے طبی ماہر سے گفتگو کی جگہ نہیں لے سکتا جو مریض کو جانتا ہو، اس کی صورت حال سمجھتا ہو اور حفاظت اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کر سکتا ہو۔

 

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت