پی ایس ایل 11 کے لاہور مرحلے کے آٹھ دلچسپ پہلو

جان دار کارکردگیوں سے لے کر تنازعات تک، لاہور میں پی ایس ایل کا مرحلہ کافی دلچسپ رہا۔

دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ ماضی قریب میں کراچی کا خالی سٹیڈیم اس مرتبہ تماشائیوں کو کھینچ پاتے ہیں یا نہیں۔ پشاور زلمی کے بابر اعظم (پشاور زلمی)

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کا موجودہ سیزن پہلے دن سے ہی خبروں کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر روز کوئی نہ کوئی نئی پیش رفت سامنے آ رہی ہے۔

تاہم ان تمام تر چیلنجز کے باوجود چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایونٹ کے انعقاد کو یقینی بنایا اور معیار پر سمجھوتہ نہیں ہونے دیا۔

لیگ کا پہلا مرحلہ لاہور میں اختتام پذیر ہو گیا ہے، جہاں 14 میچ کھیلے گئے۔ ابتدائی شیڈول کے مطابق ان میں سے کچھ مقابلے راولپنڈی، پشاور اور فیصل آباد میں بھی ہونے تھے۔

تاہم امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے باعث بورڈ نے حکومتی کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے میچز کو صرف لاہور اور کراچی تک محدود کر دیا۔ اب بدھ سے باقی 17 میچ کراچی میں کھیلے جائیں گے۔


yes ملتان سلطانز سرفہرست

لاہور مرحلے میں ملتان سلطانز نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ میچوں میں چار فتوحات کے ساتھ آٹھ پوائنٹس حاصل کیے اور پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن سنبھال لی۔

اگرچہ یہ ٹیم نسبتاً نئی ہے مگر موجودہ سکواڈ نے ایشلے ٹرنر کی قیادت میں غیر معمولی کھیل پیش کیا۔

بیٹنگ لائن میں سٹیو سمتھ اور صاحب زادہ فرحان نے بہترین اوپننگ جوڑی ثابت کرتے ہوئے ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔

فرحان شان دار فارم میں ہیں اور پانچ میچوں میں 232 رنز بنا چکے ہیں، جس میں ایک سینچری بھی شامل ہے۔

مڈل آرڈر میں شان مسعود نے ذمہ دارانہ بیٹنگ سے ٹیم کو استحکام دیا جبکہ قاسم اکرم اور عرفات منہاس کی بولنگ نے فتوحات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

مجموعی طور پر ملتان سلطانز ایک متوازن کمبینیشن کے ساتھ ناک آؤٹ مرحلے کی مضبوط امیدوار بن چکی ہے۔


yes سمیر منہاس کی دھوم

رواں سیزن میں ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز سمیر منہاس نے سب کی توجہ حاصل کی ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے اوپنر نے اپنے پراعتماد اور جارحانہ انداز سے متاثر کیا۔

ٹیم کوچز کے مطابق وہ ایک منفرد کھلاڑی ہیں جو دباؤ میں بھی پرسکون رہتے ہیں۔

صرف تین میچوں میں 180 رنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مستقبل کے بڑے کھلاڑی بن سکتے ہیں اور شائقین انہیں پاکستان کرکٹ کے اگلے بڑے نام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔


no حیدرآباد کنگزمین کی مایوس کن کارکردگی

لیگ میں سب سے مایوس کن کارکردگی نئی ٹیم حیدرآباد کنگزمین کی رہی۔ غیر سنجیدہ انتظامیہ اور ناقص حکمت عملی کے باعث ٹیم کسی مربوط یونٹ کا تاثر دینے میں ناکام رہی۔

معاذ صداقت کے علاوہ کوئی کھلاڑی نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ٹیم سلیکشن اور قیادت کے فیصلوں نے بھی سوالات کو جنم دیا۔ کمزور کمبینیشن اور غیر مستقل مزاجی نے ٹیم کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے باعث شائقین میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔


cool فخر زمان پر پابندی— تنازع برقرار

بال ٹیمپرنگ کے الزام میں لاہور قلندرز کے اوپنر فخر زمان کو دو میچز کی پابندی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اس فیصلے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فخر کا مؤقف ہے کہ نہ کوئی واضح ویڈیو ثبوت سامنے آیا اور نہ ہی کوئی ایسی چیز برآمد ہوئی جو گیند میں ردوبدل ثابت کر سکے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس معاملے میں ٹیم مینیجمنٹ کی مکمل حمایت نظر نہیں آئی، جس نے تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


sad نسیم شاہ کا معاملہ

فاسٹ بولر نسیم شاہ کو سوشل میڈیا پر ایک متنازع بیان کے باعث بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ابتدا میں انہوں نے اسے ہیکنگ قرار دیا۔ بعد ازاں ذمہ داری اپنے مینیجر پر ڈال کر معذرت بھی کی، مگر معاملہ ٹھنڈا نہ ہو سکا۔

فی الحال وہ انجری کے باعث لیگ سے باہر ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔


angry ڈسپلن کی خلاف ورزیاں

لاہور قلندرز کے سکندر رضا پر ہوٹل میں غیر متعلقہ افراد کو بلانے کا الزام سامنے آیا، جس کی بورڈ کی جانب سے ممانعت تھی۔

اطلاعات کے مطابق شاہین آفریدی بھی اس معاملے میں شامل تھے، مگر دونوں کو معاف کر دیا گیا، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔


blush خالی سٹیڈیم اور نشریات کا معیار

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کفایت شعاری کے باعث میچز خالی سٹیڈیمز میں کھیلے جا رہے ہیں۔ تاہم اس فیصلے کی افادیت پر بحث جاری ہے۔

مزید برآں، ٹی وی نشریات کے معیار پر بھی شائقین نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

جدید آلات کے عدم استعمال کے باعث تصویر کا معیار متاثر ہوا جبکہ اردو کمنٹری میں بھی تلفظ اور زبان کی خامیاں نمایاں نظر آ رہی ہیں، جو ایک بڑے ایونٹ کے شایانِ شان نہیں۔

دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ ماضی قریب میں کراچی کا خالی سٹیڈیم اس مرتبہ تماشائیوں کو کھینچ پاتے ہیں یا نہیں۔


smileyکراچی مرحلے کا آغاز

تمام ٹیمیں اب کراچی پہنچ چکی ہیں، جہاں بدھ سے لیگ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ نئی پچ اور مختلف کنڈیشنز میں ٹیموں کی کارکردگی ایک نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔

اگرچہ پی ایس ایل اس وقت ان دنوں میں ہو رہی ہے جب انڈیا میں آئی پی ایل بھی جاری ہے، مگر بہتر معیار اور مسابقتی کرکٹ کے ذریعے پی ایس ایل بھی عالمی سطح پر اپنی شناخت مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی کیا کراچی میں بھی اپنی ٹیموں کے لیے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ