مارجن 8 فیصد بڑھایا جائے: پاکستان پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن

وائس پریزیڈنٹ وسیم کیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بڑھتی مہنگائی، آپریشنل اخراجات میں 300 فیصد تک اضافہ، تنخواہوں، بجلی کے بلز، کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز اور لائلٹی پروگرامز جیسے سروس چارجز میں اضافے نے پمپ مالکان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے بڑھتی لاگت اور غیر معمولی اخراجات کے پیش نظر آج حکومت سے پیٹرول پمپ مالکان کے مارجن میں فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین عبدالسمیع خان اور دیگر عہدیداران نے کہا: ’موجودہ معاشی حالات میں کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فی الفور مارجن کو آٹھ فیصد تک بڑھایا جائے کیونکہ موجودہ مارجن شدید مالی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔

پمپ ایسوسی ایشن کے وائس پریزیڈنٹ وسیم کیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بڑھتی مہنگائی، آپریشنل اخراجات میں 300 فیصد تک اضافہ، تنخواہوں، بجلی کے بلز، کریڈٹ کارڈ ٹرانزیکشنز اور لائلٹی پروگرامز جیسے سروس چارجز میں اضافے نے پمپ مالکان کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ عالمی مارکیٹ کے اثرات کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے کم مارجن کو مزید متاثر کیا ہے، جس کے باعث پمپ مالکان کے لیے کاروبار چلانا مشکل ہو گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر مارجن میں اضافہ نہ کیا گیا تو موجودہ حالات میں پیٹرول پمپ چلانا ممکن نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی رابطہ کمیٹی کی جانب سے مارجن میں اضافے کی منظوری تاخیر کا شکار ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے کوئی اقدامات نہ کیے تو ملک بھر میں پیٹرول کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

پیٹرول پمپ ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جہاں ایک جانب حکومت بلوچستان نے فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 280 روپے سے نہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ بلوچستان میں مبینہ طور پر غیر قانونی تیل کی فروخت کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے؟ اگر بلوچستان میں 280 روپے فی لیٹر پیٹرول مل سکتا ہے تو باقی ملک میں کیوں نہیں؟ حکومت کو اس عمل پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان