وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول پر عائد لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس کے بعد آج رات 12 بجے سے پیٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کمی کا اطلاق کم از کم ایک ماہ تک اور پورے پاکستان پر ہو گا۔
جمعرات کو حکومت نے پیٹرول137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر مہنگا کرنے کا اعلان کیا تھا, جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسےمقرر ہو گئی تھی۔ اب وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ خطاب ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور تہران کے جوابی حملوں کے باعث خطے کی صورت حال کشیدہ ہے اور ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے، جس کے باعث بحری جہازوں کی آمدورفت معطل ہے۔
ایشیائی ممالک کی جانب سے خریدے گئے خام تیل کا تقریباً 90 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جو خلیج فارس کو بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ اس آبنائے کی بندش سے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں۔
جمعے کو قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کی غرض سے مختلف سیکٹرز کے لیے سبسڈیز کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں موٹرسائیکلوں کے مالکان کو پیٹرول خریدنے پر ایک لیٹر پیٹرول پر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار اور بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مال بردار گاڑیوں کو سپورٹ کرنے کے لیے 100 روپے فی لیٹر کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی، جبکہ چھوٹے کسانوں کو 1500 روپے فی ایکڑ امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’اسی طرح پاکستان ریلویز کی اکانومی کلاس کا کرایہ نہیں بڑھایا جائے گا۔‘
وزیراعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ آئندہ چھ ماہ کی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کروائے گی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جنگ کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عام آدمی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے قومی وسائل کا بھرپور استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔
بقول شہباز شریف: ’اس مہنگائی نے دنیا کی طاقت ور معیشتوں کی کمر توڑ دی ہے اور پاکستان بھی اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا: ’میں نے ہر روز پاکستانی عوام پر تیل کی قیمتوں کا بوجھ ڈالنا قطعاً مناسب نہیں سمجھا اور اسی لیے ان تین ہفتوں مین خزانے سے 129 ارب روپے خرچ کر کے اس طوفان کو عوام تک پہنچنے نہیں دیا۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی معیشت پر جمعرات کو بھرپور مشاورت کی گئی، جس میں تمام متعلقہ لوگوں نے حصہ لیا اور ایک جامع پروگرام کا اعلان کیا گیا۔
انہوں نے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا: ’آپ نے دیکھا ہو گا کہ دنیا کے کئی ملکوں میں میلوں لمبی قطاریں لگیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوا۔‘