پاکستان نے عازمین حج کی مدد کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز تعینات کر دیے

وزارت مذہبی امور کے مطابق ’188 عازمین کا ہر گروپ ایک گائیڈ کی قیادت میں حج کے مناسک ادا کرے گا۔‘

28 اپریل 2026 کی اس تصویر میں کوآرڈینیٹر مدینہ کاشف حسین، ڈپٹی کوآرڈینیٹر مصباح الرحمٰن کے ہمراہ مدینہ منورہ کے پرنس محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے دورے کے موقعے پر پاکستانی عازمینِ حج کی آمد کے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے (وزارت مذہبی امور فیس بک اکاؤنٹ)

وزارت مذہبی امور نے جمعے کو بتایا ہے کہ پاکستان نے حج کے دوران عازمین کی مدد کے لیے تربیت یافتہ گائیڈز تعینات کر دیے ہیں جبکہ سعودی عرب پہنچنے والے پاکستانی عازمین کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

پاکستانی وزارت مذہبی امور ہر سال حج گائیڈز اور معاون عملہ مقرر کرتی ہے، جو پاکستانی عازمین کو حج کے مناسک ادا کرنے میں مدد کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ وہ اس مقدس سفر کے دوران باخبر اور منظم رہیں۔

مذہبی رہنمائی کے علاوہ، معاون عملہ مکہ اور مدینہ میں عازمین کو انتظامی، طبی اور لاجسٹک مدد فراہم کرتا ہے، تاکہ عازمین آسانی کے ساتھ حج ادا کر سکیں۔

وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان کے وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا، ’وزارتِ (مذہبی امور) نے حج کے لیے گائیڈز کی تربیت اور تقرری مکمل کر لی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’188 عازمین کا ہر گروپ ایک گائیڈ کی قیادت میں حج کے مناسک ادا کرے گا۔‘

وزیر مذہبی امور کے مطابق، مملکت میں موجود ان 160,000 سے زائد پاکستانیوں میں سے 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد سرکاری سکیم کے تحت حج ادا کر رہے ہیں۔

وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ ’حج عازمین کو 7 اور 8 ذوالحجہ کی درمیانی رات منیٰ لے جایا جائے گا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال خوراک، کھانوں اور ٹرانسپورٹ کے بارے میں شکایات کا تناسب ’ایک فیصد سے بھی کم ہے۔‘

سردار محمد یوسف نے پاکستانی عازمین پر زور دیا کہ وہ ملک کے وقار کو مزید بڑھانے کے لیے دورانِ حج نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔

اس سال زیادہ تر پاکستانی عازمین نے سعودی عرب کا سفر مملکت کے ’روڈ ٹو مکہ‘ اقدام کے تحت کیا، جو مسافروں کو پاکستان سے روانگی سے قبل ہی امیگریشن اور کسٹمز کے طریقہ کار کو مکمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا