مجھے شدید صدمہ پہنچا جب میں نے سنا کہ وائٹ ہاؤس (جسے عوام کا گھر بھی کہا جاتا ہے) کو ایک وحشیانہ کھیل، ’الٹی میٹ فائٹنگ چیمپئن شپ‘ (یو ایف سی) کے انعقاد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے موجودہ مکین نے اسے دنیا کا عظیم ترین کھیل قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جنوبی لان کو لاس ویگاس کی طرح تبدیل کر دیا گیا، جہاں نو منزلہ بلند و بالا فولادی محراب نصب کی گئی۔ یہ محراب ایسٹ وِنگ کے اکھاڑے گئے حصے پر سایہ فگن تھی، جہاں ٹرمپ کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا اور بہترین بال روم تعمیر ہونا ہے۔ اسی محراب کے نیچے، ایک پنجرے کے اندر یہ عجیب و غریب تماشا منعقد ہوا۔
یو ایف سی کسی بھی طرح کھیل نہیں کہلا سکتا۔ اس مخلوط مارشل آرٹس مقابلے میں تقریباً کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ مقابلہ کرنے والوں کو سر اور چہرے پر لاتیں مارنے، زمین پر گرے ہوئے حریف کو مکے مارنے اور گلا گھونٹنے والے داؤ استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ فائٹرز اپنے مخالف کو زیادہ سے زیادہ جسمانی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
بعض لوگوں نے اس کھیل کا موازنہ روم کے قدیم ایمفی تھیٹر ’کولوسیم‘ میں ہونے والے ان کھیلوں سے کیا ہے جہاں گلیڈی ایٹرز کے مقابلے اور جانوروں کے شکار عوامی تماشے کے طور پر پیش کیے جاتے تھے۔ مرحوم سینیٹر جان مکین نے اس کھیل کو ’انسانی مرغ بازی‘ سے تشبیہ دی تھی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ نے ایک مکمل دائرہ طے کر لیا ہے اور ہم دوبارہ اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں تشدد کو شان دار اور حب الوطنی کا مظہر سمجھا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کو اعلیٰ اور باوقار چیزوں کو بھونڈے اور سطحی تماشوں میں بدلنے میں خاص مہارت حاصل ہے، بشرطیکہ اس سے انہیں اور ان کے خاندان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ اس معاملے میں بھی مفادات اور بدلے کی سیاست کے ایک پیچیدہ جال نے ہمیں موجودہ صورت حال تک پہنچایا ہے۔
2024 میں ٹرمپ نے سی بی ایس کی مالک کمپنی ’پیراماؤنٹ‘ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سی بی ایس کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو دیے گئے انٹرویو کی غیرمنصفانہ تدوین کی گئی۔
سی بی ایس کا مؤقف تھا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا، بلکہ صحافتی روایات کے مطابق انٹرویو کو طوالت کم کرنے اور وضاحت پیدا کرنے کے لیے ایڈٹ کیا گیا تھا۔
پیراماؤنٹ اور سی بی ایس نے بعد میں اپنا مؤقف بدل لیا اور 16 ملین ڈالر میں مقدمہ طے کر لیا۔ یہ رقم مستقبل میں قائم ہونے والی ٹرمپ لائبریری کے لیے مختص کی گئی۔ پس منظر میں پیراماؤنٹ اور ’سکائی ڈانس میڈیا‘ کے مجوزہ انضمام کی منظوری کا معاملہ موجود تھا، جسے ٹرمپ انتظامیہ کی منظوری درکار تھی۔
سی بی ایس کی جانب سے مقدمہ نمٹانے کے بعد 8.4 ارب ڈالر مالیت کے اس انضمام کو حکومتی منظوری مل گئی۔
نئی وجود میں آنے والی کمپنی پیراماؤنٹ-سکائی ڈانس میڈیا کے سربراہ ’ڈیوڈ ایلیسن‘ کے پاس یو ایف سی کے نشریاتی اور سٹریمنگ حقوق کئی برسوں کے لیے خصوصی طور پر موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹرمپ کے یو ایف سی کے مالک ڈینا وائٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ وہ سال ہے جب امریکی قوم اپنی جمہوریت کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن منائے گی۔ یہی سال صدر ٹرمپ کی 80 ویں سالگرہ کا بھی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ صدر کی سالگرہ قومی سالگرہ پر غالب آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ کی 250ویں سالگرہ کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر لیا ہے۔
جب ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کا آغاز کیا تو امریکہ کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے لیے پہلے ہی ایک منصوبہ موجود تھا۔ انہوں نے ان منصوبوں کو ترک کر کے اپنا ’فریڈم 250 کمیشن‘ قائم کیا۔ نائب صدر جے ڈی وینس کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا اور پوری انتظامیہ کو تقریبات کے انعقاد میں شامل کر لیا گیا۔
یہ صورت حال 1976 کی دو صد سالہ تقریبات سے بالکل مختلف ہے، جب شہری تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور عام لوگ خود کو جشن کا حصہ محسوس کرتے تھے۔ اس موقع پر جاری ہونے والے یادگاری سکوں پر صدر جیرالڈ فورڈ کی تصویر شامل نہیں تھی۔
فن اور موسیقی کی دنیا کے بڑے بڑے ناموں نے جوش و خروش سے ان تقریبات میں حصہ لیا اور جشن منایا۔
واشنگٹن کے کینیڈی سینٹر کے ساتھ ٹرمپ کی جانب سے اپنے نام کو جوڑنے کے یکطرفہ اقدامات کے باعث معروف فنکاروں اور موسیقاروں نے وہاں اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے زیرِ اہتمام موسیقی کی تقریبات کا بھی بائیکاٹ کیا ہے۔
واشنگٹن کے نیشنل مال میں چار جولائی کے ہفتے کے آخر میں منعقد ہونے والی کنسرٹ سیریز بکھرتی جا رہی ہے۔ اس پر صدر ناراض ہوئے اور فنکاروں کے عدم تعاون کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ وہ ’ تیسرے درجے کے فنکاروں کی پرفارمنس کی بجائے تاریخ کے عظیم ترین صدر کی ایک بڑی تقریر پیش کریں گے، جسے اپنے عروج کے دور کے ایلوس سے بھی زیادہ سامعین حاصل ہوتے ہیں۔‘
چاپلوس اور خوشامدی افراد کے ایک ایسے حلقے میں گھرے ہوئے، جو اپنی صلاحیت کے بجائے صدر سے وفاداری کے لیے مشہور ہیں، ٹرمپ کے قریبی مشیروں میں کوئی ایسا نہیں جو ان کی خود ستائی پر اعتراض کرے یا ان کے بدلتے ہوئے مؤقف اور آراء سے اختلاف کرنے کی جرأت کرے۔
رپبلکن رہنما اور سابق نائب صدر ڈین کوائل کے ایک وقت کے چیف آف سٹاف بل کرسٹل نے ’دی بُل ورک‘ میں وائٹ ہاؤس میں یو ایف سی کے انعقاد پر لکھا: ’میرا خیال ہے کہ یہ تقریب ہمارے عہد کی روح کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ آخرکار یہ بھونڈی ہے، پرتشدد ہے، تجارتی ہے، نمائشی ہے، بے ذوق ہے اور ایک ایسی جگہ کی بے حرمتی کرتی ہے جسے کبھی احترام اور حفاظت کے لائق سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے۔‘
ایس۔ امجد حسین یونیورسٹی آف ٹولیڈو میں سرجری اور علومِ انسانی کے ایمیریٹس پروفیسر ہیں۔
یہ تحریر اس سے قبل دی بلیڈ میں شائع ہوچکی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
