پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ نے ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیت لیا

سرمد کھوسٹ کی جنوری 2020 میں ریلیز ہونے والی نئی فلم ’زندگی تماشا‘ نے ایشیا کے سب سے معتبر بشان فلم فیسٹیول میں 'کم جے سُک' ایوارڈ حاصل کر لیا۔

سرمد کھوسٹ کی نئی فلم ’زندگی تماشا‘ نے ریلیز سے قبل ایشیا کے سب سے معتبر بشان فلم فیسٹیول میں 'کم جے سُک' ایوارڈ حاصل کر لیا۔

’زندگی تماشا‘ جنوری 2020 میں پاکستان کے سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

جنوبی کوریا کے شہر بشان میں ہفتے کو منعقد ہونے والے 24 ویں بشان فلم فیسٹیول میں کھوسٹ کی فلم 'زندگی تماشا' اور بھارتی ہدایت کار پردیپ کورباہ کی فلم ’مارکیٹ‘ کو مشترکہ طور پر اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایوارڈ کسی بھی پاکستانی فلم کو پہلی بار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے قونصلر شفیق حیدر نے کھوسٹ فلمز کی جانب سے ایوارڈ وصول کیا۔

کم جے سُک ایوارڈ بشان فلم فیسٹیول میں 2017 میں متعارف کروایا گیا تھا، جو فیسٹیول کے بانی آنجہانی کم جے سُک کے نام پر ہے۔

کم جے سُک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے وقت میں ایشیا میں ٹیلنٹ کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اس سال فیسٹیول میں دنیا کے 85 خطوں سے 299 فلموں کی نمائش کی گئی جن میں 118 فلموں کے ورلڈ پریمیئرز بھی شامل تھے، جن کو ایک لاکھ 89 ہزار افراد نے دیکھا۔  

فلم ’زندگی تماشا‘ کی کہانی ایک شوقیہ نعت خواں کے گرد گھومتی ہے جو اندرون لاہور کا رہنے والا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والےعارف حسن نے یہ کردار نبھایا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عارف حسن نے بتایا کہ یہ فلم معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے حوالے سے بنائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عارف حسن نے بتایا فلم میں ان کا کردار نعت خواں راحت خواجہ کا ہے، جوشوقیہ نعتیں پڑھتے ہیں اور اپنے بھائی کے ساتھ ایک چھوٹی سے سٹیٹ ایجنسی چلاتے ہیں۔

راحت خواجہ ایک عام مگر خوش رہنے والے انسان ہیں۔ فلم میں ان کی اہلیہ کا کردار ٹی وی اور تھیٹر کی مشہور اداکارہ سمعیہ ممتاز نے ادا کیا۔

فلم میں دکھایا گیا کہ ان کی اہلیہ کسی بیماری کی وجہ سے بستر پر ہیں اور خود سے اٹھ کر کچھ نہیں کر سکتیں اسی لیے راحت خواجہ گھر اور باہر سبھی کام خود کرتے ہیں۔

عارف حسن کا کہنا ہے 1999 میں انہوں نے پہلی بار اپنے دوست حسن زیدی کی فلم 'رات چلی ہے جھوم کے' میں کام کیا تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اپنے دوست مظہر زیدی کی فلم 'گرداب' میں بھی ایک چھوٹا سا کردار نبھایا جبکہ وہ ایک، دو تھیٹر ڈراموں میں بھی کام کر چکے ہیں، مگر ’زندگی تماشا‘ میں وہ پہلی بار مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

فلم کو ملنے والے ایوارڈ کے حوالے سے عارف حسن کہتے ہیں ’اس فلم کو جنوبی کوریا میں ہونے والے ایشیا کے سب سے بڑے بشان فلم فیسٹیول میں بھیجا گیا تھا۔ وہاں فیچر فلم کی کیٹگری میں 93 فلمیں پیش ہوئیں جن میں آٹھ فلمیں ایوارڈ کے لیے منتخب ہوئیں جن میں پاکستان کی 'زندگی تماشا'، کم جے سُک ایوارڈ کے لیے نہ صرف نامزد ہوئی بلکہ اس نے ایوارڈ جیت بھی لیا۔‘

ان کا کہنا ہے یہ ایوارڈ کسی بھی پاکستانی فلم کو پہلی بار ملا ہے۔

’فلم کا ورلڈ پریمیئر بشان فلم فیسٹیول میں ہوا، اس کے علاوہ تین سکریننگز بھی ہوئیں جس کے بعد فلم کے حوالے سے سوال جواب ہوئے اور کورین افراد نے اپنی مقامی زبان میں ہم سے سوال کیے جو میرے لیے ایک مزے دار تجربہ تھا۔‘

عارف کا کہنا ہے، ’یہ ایوارڈ ملنا ہمارے ملک کے لیے فخر کا باعث ہے جیسا کہ ہمارے کام کو آرٹ کے اتنے بڑے لیول پر سراہا گیا ہے۔‘

عارف کے مطابق انہیں سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب وہاں اس فلم کا نام لیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ فلم پاکستان سے ہے۔’وہاں بھارتی اور ایرانی فلمیں بھی تھیں، جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ان کی فلمیں بہت اچھی ہوتی ہیں۔ ان سب میں ہماری فلم کو ایوارڈ ملنا ہمارے لیے باعث خوشی اور فخر کا باعث ہے۔

انہوں نے بتایا وہ کراچی میں رہتے ہیں اور اردو سپیکنگ ہیں اس لیے ایک لاہوری پنجابی کے کردار میں خود کو ڈھالنا تھوڑا مشکل تھا۔

ان کے خیال میں ایسا نہیں تھا کہ انہیں پنجابی نہیں آتی مگر وہ اندرون لاہور کی روایتی پنجابی نہیں بول سکتے تھے اور اسے سیکھنے کے لیے سرمد کھوسٹ کے علاوہ فلم کی مصنف نرمل بانو نے بھی مدد کی۔

عارف حسن نے یہ بھی بتایا کہ یہ بہت بڑے بجٹ کی فلم نہیں تھی۔ فلم میں فیشن ماڈل ایمان سلمان نے راحت خواجہ کی بیٹی کا کردار ادا کیا جبکہ علی قریشی بھی فلم کا حصہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم