’بے گھر‘ لفظ کا استعمال بند کرنا کیوں ضروری؟

حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم انسانی شناخت کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے اور لوگوں کو ان کی ظاہری صورتحال سے ہٹ کر نہیں دیکھتے، لوگوں کی بڑی تعداد مستحکم رہائش گاہوں کے تحفظ سے محروم رہے گی۔

(پکسابے)

ذرا ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جس میں آپ کی شناخت صرف اس بات سے جڑی ہو کہ آپ کس قسم کے گھر میں رہتے ہیں۔

ایک ایسی دنیا جہاں لوگ اس جگہ سوتے ہوں جو عوامی مقامات ہوں، جہاں ایک ہی کمرے میں کئی افراد رہتے ہوں یا وہ ایک بستر کو بار بار استعمال کرتے ہوں اور جہاں ان کی نسل، سیاسی نظریات، صنف اور جنس سے زیادہ ان کی رہائش گاہیں اہم ہوں۔

یہ ایک عجیب خیال ہے جو انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جو انسانوں کی شناخت ان چیزوں کی بنیاد پر کرتا ہے جو ان کی ملکیت ہوں۔

اس کے باوجود برطانیہ میں ایسے زندگی بسر کرنے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

گذشتہ دس سال میں عوامی مقامات پر سونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس میں 2008 سے 2018 تک 169 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد جو عارضی طورپر کہیں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں ان کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک مستقل ٹھکانہ نہ ہونے کا بوجھ زیادہ سے زیادہ لوگوں پر چھایا ہوا ہے اور ہم ایسے تمام افراد کے لیے ایک ہی اصطلاح ’ بے گھر افراد‘ استعمال کرتے ہیں۔

برطانیہ میں بے گھر افراد کے مسئلے سے نمٹنے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ کچھ بہت اہم نکات جیسے مزید گھر تعمیر کرنا، کرائے داری پر سخت شرائط اور اصلاحات اور سزا پر مبنی فلاحی نظام اس کے اہم موضوعات ہیں لیکن یہ پالیسیاں صرف عوامی حمایت سے ہی حقیقت میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔

یہ اہم سوال اس بحث کی بنیاد بنتا ہے کہ ایسے رہنے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے؟ دنیا کا چھٹا امیر ترین ملک اس بات پر نالاں کیوں نہیں کہ سخت گرمی میں کنٹینرز میں زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے؟

اس مسئلے کا ایک حصہ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں کیسے بات کرتے ہیں اور کیسے لکھتے ہیں۔ ماہر معاشریات رچرڈ جینکنز نے اپنی کتاب ’سوشل آیئڈینٹٹی‘ میں لکھا کہ کچھ شناختیں ’آقا کی حیثیت‘ رکھتی ہیں۔

یہ ایسی طاقت ہے جو لوگوں کی کم اہم خصوصیات اور ان کی وابستگیوں سے بالا ہے۔ کسی کو بے گھر قرار دینا ان کی معاشی صورتحال کی فیصلہ کن حیثیت بیان کرتا ہے۔

در حقیقت تمام لوگ انفرادی طور پر پیچیدہ اور الگ ہوتے ہیں۔ میں ایک ایرانی شخص سے مل چکا ہوں جو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں اور ہوسٹل میں رہتے ہیں۔

ایک طلاق یافتہ خاتون جو ایک عارضی رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور شاعری کرنے سے عشق کرتی ہیں۔ ایک اٹھارہ سالہ نوجوان جو صحافی بننے کے خواب دیکھتے ہیں لیکن ان کے گھر والوں نے انہیں نکال دیا۔

یہ سب ہی اپنی موجودہ حالت سے زیادہ کے اہل ہیں لیکن پھر بھی ایک ہی جیسے قرار دیے جائیں گے اور یہ اپنی محرومیوں کے حوالے سے ایک جیسی قسمت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی مصنف کیتھلین آرنلڈ اپنی کتاب ’ہوم لیس نیس، سٹیزن شپ اینڈ آئیڈینٹٹی‘ میں بیان کرتی ہیں کہ معاشی حیثیت اپنے آپ میں ایک شناخت بن چکی ہے۔

سب سے کم خوراک حاصل کرنے والے افراد ’سیاسی طور پر بے شعور، غیر ذمہ دار، دوسروں پر انحصار کرنے والے سمجھے جاتے ہیں۔‘

2017 میں ’ہوم لیس چیریٹی کرائیسس‘ کی ایک رپورٹ بھی اسی تاثر کی تصدیق کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بہت سے افراد ’بے گھر لوگوں کو متاثرین یا درانداز کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنی بدقسمتی یا غلطیوں سے بے گھر ہوئے ہیں۔‘

کسی پُل کے نیچے رہنے والے انسان کو نظر انداز کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے اگر آپ اس کی حالت کا ذمہ دار اس کے اپنے فیصلوں کو قرار دے دیں۔ جبکہ وہ لوگ جو پیسے والوں کے حق میں فلاحی نظام کو غلط طرح سے استعمال کرتے ہیں اور امیر افراد کے لیے رہائشی سکیمیں تعمیر کرتے ہیں ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔

اپنی 1993 کی کلاسک ڈاؤن اینڈ آؤٹ ان پیرس اینڈ لندن کے لیے جارج اورویل کئی مہینوں تک برطانیہ کی گلیوں میں رہے تھے۔ وہ ایک ڈراؤنے نتیجے پر پہنچے تھے کہ ’پیسہ نیکی کی سب سے بڑی آزمائش بن چکی ہے۔ اس امتحان میں بھکاری ناکام ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔‘

بدقسمتی سے اورویل کے لکھے یہ الفاظ 80 سال بعد بھی یہی ثابت کر رہے ہیں کہ پیسہ آج بھی اس معاشرے میں نیکی کی پیمائش سمجھا جاتا ہے۔

آپ اس کو دیکھنا چاہتے ہیں تو دائیں بازو کے میڈیا میں دیکھیں کہ وہ جو سرکاری فوائد حاصل کر رہے ہیں ہمارے وزیر اعظم کو تمام تر مسائل، سچ کے ساتھ ان کے کمزور تعلق اور عوام کے پیسے کو ضائع کرنے کے باوجود کیسے دیکھتے ہیں۔

بطور معاشرہ ہم ابہام کا شکار رہتے ہیں۔ جب لوگ آسانی سے سمجھ آنے والے کیٹگری میں آجاتے ہیں تو سب سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ لوگوں کو بے گھر قرار دینا آسانی سے ایک بڑے مسئلے کو سمیٹ دیتا ہے لیکن یہ ان کی تحقیر بھی کرتا ہے اور انسانوں کو محض ایک معاشی حیثیت سے بیان کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم انسانی شناخت کی پیچیدگیوں کو نہیں سمجھتے اور لوگوں کو ان کی ظاہری صورتحال سے ہٹ کر نہیں دیکھتے، لوگوں کی بڑی تعداد مستحکم رہائش گاہوں کے تحفظ سے محروم رہے گی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ