نئے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ کے سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں تیل کے ذخائر 1980 کی دہائی کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
امریکی محکمہ توانائی نے کہا ہے کہ جمعے تک سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں 29 کروڑ 87 لاکھ بیرل تیل باقی رہ گیا تھا۔
آخری مرتبہ امریکی تیل کے ذخائر 30 کروڑ بیرل کی سطح سے نیچے 1980 کی دہائی کے اوائل میں گرے تھے۔ اس وقت امریکہ 1970 کی دہائی میں اوپیک کے عرب رکن ممالک کی جانب سے امریکہ پر عائد کی گئیں تیل کی پابندیوں کے ردعمل میں اپنے ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کر رہا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں اس وقت اس کمی کی پیش گوئی کی تھی جب حکام نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کا آئندہ 120 دن کے دوران ذخائر سے 18 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔
اس تیل کی ریلیز کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی تیل کی منڈی میں خلل پیدا ہونے کے خدشے کے باعث دی گئی تھی۔ یہ جنگ فروری کے اختتام پر شروع ہوئی تھی۔
گذشتہ کئی ماہ کے دوران اس جنگ کے باعث پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور مستقبل قریب میں نمایاں کمی کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی وفاقی حکومت نے تیل کے ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل ریلیز کیا ہو۔
2022 میں صدر جو بائیڈن نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد ذخائر سے 18 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کی منظوری دی تھی۔ اس وقت روسی حملے کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔
پٹرولیم تجزیاتی ادارے ’گیس بڈی‘ کے سربراہ پیٹرک ڈی ہان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں کمی کا سلسلہ مزید چند ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے، جب تک منظور شدہ تیل کا اجرا مکمل نہیں ہو جاتا۔
امریکی محکمہ توانائی کے ایک ترجمان نے جولائی میں سی این بی سی کو بتایا تھا کہ سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کو محفوظ طریقے سے چلانے کے لیے درکار تیل کی کم از کم مقدار تقریباً سات کروڑ بیرل ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں محکمہ خارجہ کے بین الاقوامی توانائی امور کے خصوصی ایلچی رہنے والے ڈیوڈ گولڈوین نے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش نہیں کہ امریکی تیل کے ذخائر ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
انہوں نے اس وقت کہا تھا: ’مجھے ذخیرے کے استحکام یا ضرورت پڑنے پر دوبارہ اس سے تیل نکالنے کی ہماری صلاحیت کے حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔‘
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ سے قبل امریکی سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں تقریباً 41 کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل موجود تھا۔
تاہم مئی میں جاری ہونے والی امریکی احتساب کے دفتر کی ایک رپورٹ کے مطابق سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو کی کارکردگی کو اس کے پرانے ہوتے بنیادی ڈھانچے سے خطرات لاحق ہیں۔
ادارے کے مطابق دسمبر 2025 تک سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو میں موجود تیل کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے کو مختلف تعمیراتی اور زیر زمین ذخیرہ گاہوں میں جاری کام کے باعث فوری طور پر نکالا نہیں جا سکتا تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ ذخیرے میں موجود تیل کا ایک حصہ، ریپیڈن انرجی کے جولائی میں شائع کردہ تجزیے کے مطابق کم از کم 10 کروڑ 30 لاکھ بیرل، اس وقت قابل رسائی نہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
احتساب دفتر نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’سٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے تیل نکالنے، اس کی ترسیل اور دوبارہ ذخیرہ کرنے کی صلاحیتیں اس وقت محدود ہیں اور مستقبل میں بھی خطرے سے دوچار رہیں گی کیونکہ پرانے بنیادی ڈھانچے کے دیرینہ مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر جاری تعمیراتی کام بھی صورت حال کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔‘
دوسری جانب امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کے حوالے سے اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔
ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت پیر کو 5.1 فیصد اضافے کے بعد 82.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی جبکہ عالمی سطح پر قیمتوں کے معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بھی اسی روز پانچ فیصد اضافے کے بعد 87.72 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
قیمتوں میں یہ اضافہ اس وقت ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایکسیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ صرف ’محدود مذاکرات‘ کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا: ’ہم اسے زیادہ نمایاں نہیں کر رہے۔ ہم ان کے ساتھ صرف محدود مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم صرف ایران کو دیکھ رہے ہیں، جہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس رقم نہیں ہے۔‘
ادھر امریکی آٹوموبائل ایسوسی ایشن کے مطابق پیر کو امریکہ بھر میں پٹرول کی اوسط قیمت 4.0091 ڈالر فی گیلن رہی۔
یہ قیمت ایک روز قبل کی 4.0121 ڈالر فی گیلن کی اوسط قیمت سے معمولی کم ہے تاہم ایک ماہ قبل کی 3.8835 ڈالر فی گیلن اور ایک سال قبل کی 3.1394 ڈالر فی گیلن کی اوسط قیمت کے مقابلے میں یہ اب بھی کہیں زیادہ ہے۔
© The Independent