پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں کتنی گرمجوشی آئی ہے اس کا اندازہ مجھے اپنے حالیہ ایک سفر کے دوران ہوا۔
میں سفر کرتے ہوئے ٹرانزٹ جدہ یا ریاض سے لیتی ہوں کیونکہ مجھے بطور خاتون یہ شہر اور ان میں موجود ائیر پورٹ بہت محفوظ لگتے ہیں۔ ویسے بھی دنیا کے جو حالات ہیں اس میں سفر کرنا ہی ایک بہت مشکل کام بن گیا ہے۔ اس لیے زیادہ تر سیاح محفوظ مقامات پر سفر کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور روٹ بھی وہ ہی اختیار کرتے ہیں جو محفوظ ہو۔
سعودی عرب میں خواتین خود کو اس لیے محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ وہاں قوانین پر عمل درآمد سخت ہے۔ میری سفر کے دوران کوشش ہوتی ہے کہ ریاض یا سعودی ائیر لائن سے سفر کیا جائے۔ دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں اس کی نشستیں اچھی ہیں، دام مناسب ہیں، سکرینز موجود ہیں اور دوران سفر وائی فائی چل رہا ہوتا ہے۔ ان کی اکانامی بھی بزنس کلاس سے کم نہیں۔ میں ہرا پاکستانی پاسپورٹ لے کر جب جدہ امیگریشن کاونٹر پر گئی تو سوچا کہ شاید ابھی سمارٹ واچ، جیولری اور جوتے سب اتاروا کر سکیورٹی پروٹوکول کے مطابق گزرنا ہو گا۔
پر وہاں موجود آفسر نے میرے ہاتھ میں پاسپورٹ دیکھ کر کہا ’سسٹر گو‘۔ مجھے سمجھ نہیں آیا جانے کے لیے کیوں کہہ رہا ہے۔ کیا مجھ سے کوئی سوال نہیں ہوں گے اور خاتون اہلکار تلاشی نہیں لیں گی۔ اس نے پھر کہا: ’پاکستان! گو سسٹر گو ٹو لاونج۔‘ اس ردعمل سے میں اور میری بہن خوش گوار حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ جتنی دیر جدہ میں قیام رہا اچھا رہا اور میں تو ان کی ترقی دیکھ کر حیران رہ گئی۔ اعلی میزبانی، لذیذ کھانا، خوش اخلاق عملہ اور تمام برینڈز موجود کسی سیاح کو اور کیا چاہیے ہوتا ہے۔ اب جب بھی دوبارہ جانا ہو گا تو عمرہ ادائیگی کے بعد میں ریاض اور دیگر مقامات پر سیاحت کی غرض سے جاؤں گی۔
ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب بدل گیا ہے۔ ان کی ترقی، جدت اور سہولتیں دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جس طرح سے سعودی حکومت ہر سال عمرہ اور حج زائرین کی میزبانی کرتی ہے، وہ بھی قابل تعریف ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں حالیہ گرمجوشی کی بڑی وجہ مکہ دفاعی معاہدہ ہے جو تعلقات کو نیا موڑ دے رہا ہے۔
میں ایک عام شہری ہوں۔ میں نے بھی اس کا ایک چھوٹا سا اثر محسوس کیا تو سوچا قارئین کو ضرور بتاتی چلوں۔ پاکستان کا عالمی امیج یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ ہم نے بہت دہشت گردی سہی ہے بیرونی اندرونی خطرات کا سامنا کیا ہے۔ پر 2025 کے معرکہ حق میں پاکستان کی جیت اور ایران امریکہ کے درمیان ثالثی نے ہماری شبہہ تبدیل کر دی ہے۔ خاص کر امیگریشن کاونٹرز پر پاکستانیوں کو خوش گوار حیرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے ملک کو امن کا داعی اور ثالثی کرانے والا ملک کہا جا رہا ہے۔ امید ہے ان تمام چیزوں کے اثرات جلد پاکستانی معیشت پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
1947 سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستی کا آغاز ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد ہی دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے۔ شاہ عبدالعزیز اور شاہ فیصل کے دور میں دونوں ممالک دفاعی طور پر بھی قریب آگئے یہاں تک کہ عرب اسرائیل جنگ میں پاک فضائیہ کے پائلٹس نے حصہ لیا۔ یہ اس وقت تو خفیہ مشن تھا جس کی تفصیلات کو بعد میں پبلک کر دیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی پائلٹ سیف الاسلام اور عبدالستار علوی نے اسرائیل کے طیاروں کو تباہ کیا۔1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شاہ فیصل کی آمد نے دونوں ممالک میں مزید دوستی اور قربت پیدا کی۔ اسلام آباد میں شاہ فیصل مسجد اور شاہراہ فیصل ان کے دور کا ہی تحفہ ہے۔ اس دوران صرف دفاعی معاہدے نہیں ہوئے، ثقافتی، تعلیمی، سیاحتی اور معاشی معاہدے بھی ہوئے۔ نومبر 1979 میں خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تو اس وقت پاکستانی فوج نے سعودی فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کیا تھا اور زائرین کو بازیاب کروایا اور حرم پاک کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔
اس کے بعد خلیجی جنگ میں بھی پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہا۔ جب ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان اقتصادی پابندیوں کی زد میں تھا تو اس وقت سعودی عرب تیل کی صورت میں پاکستان کی مدد کو آیا۔ سابق صدر پرویز مشرف جب شریف خاندان کو سزا دینے چاہتے تھے تو سعودی عرب ان کے خاندان کو باحفاظت نکال لے گیا۔ یہ خاندان نو سال وہاں جلاوطنی میں رہا۔ 2005 میں پاکستان میں شدید زلزلہ آیا تو اس وقت بھی سعودی عرب پاکستان میں امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش رہا۔
شاہ عبداللہ کے دور میں بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی رہے۔ پاکستان میں ان کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔ ان کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ پاکستان کی سلامتی سعودی عرب کی سلامتی ہے۔ 2015 سے 2024 تک دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاو آیا۔ تاہم 2025 کے بعد سے وہ ہی گرمجوشی نظر آرہی ہے جو شاہ فیصل کے دور میں تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان فوجی مشقیں بھی ہوتی ہیں تاکہ دونوں مل کر دفاعی قوت میں اضافہ کریں۔ ستمبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک دفاعی معاہدہ ہوا۔ اکتوبر میں اقتصادی تعاون فریم ورک کا معاہدہ ہوا اور 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ ہوا۔
حال ہی میں مکہ کے قریب ڈرون کے موجودگی کے بعد پاکستانی عوام میں بھی تشویش پائی گئی۔ تمام پاکستانی مکہ اور مدینہ کی سلامتی کو لے کر بہت حساس اور جذباتی ہیں۔ نئے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ وہ ماضی میں سعودی فوج میں میجر جنرل کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ سکیورٹی، دفاعی امور اور سفارت کاری کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے برونیل یونیورسٹی لندن سے ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ امید ہے ان کی آمد سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ایک طرف ان کے پاس فوج کا تجربہ ہے اور دوسری جانب وہ ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں بھی ماہر ہیں۔
سعودی عرب میں 26 لاکھ سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ ان کی کمائی پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ کر رہی ہے۔ اس ہی طرح پاکستان میں موجود سعودی عرب کی آرمکو، سعودی پاک، سامبا بینک، وافی، فلائی ناس اور السعودیہ ائیر لائن کام کر رہے ہیں، جس میں پاکستانی بھی ملازمت کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ائیر ریاض نے بھی پاکستان سے اپنا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اب جبکہ خطے میں ایران، اسرائیل، یمن اور عالمی طاقتوں میں کشمکش بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف پاک سعودی اتحاد دونوں ممالک اور خطے کے عوام کے لیے استحکام کی ضمانت ہے۔ اگر دونوں ممالک اس ہی طرح دفاع سرمایہ کاری اور عوامی رابطے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو یہ عالمی امن کے لیے امید کی کرن بھر کر ابھرے گا۔
