جب انسان کسی مشکل میں ہوتا ہے تو بہت بار وہ اپنی اس مشکل کا اظہار ہی نہیں کر پاتا کہ وہ کسی تکلیف، پریشانی یا دکھ میں مبتلا ہے۔
بعض لوگ بہت خود دار ہوتے ہیں وہ مدد لینے سے کتراتے ہیں۔ کچھ بہت حساس ہوتے ہیں وہ دوسروں سے مدد مانگے کی ہمت نہیں کر پاتے۔ وہ سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، اگر سب کو پتہ چل گیا تو کیا ہو گا؟ اس خوف و پریشانی میں انسان فیصلہ نہیں لے پاتا۔
انسان جذبات کا مرکب ہے۔ محبت، نفرت، دھوکے، بہادری، بزدلی، دشمنی، دوستی اور ہمدردی جیسے ایسے بہت سے جذبات اس میں فطری طور پر شامل ہیں۔ کبھی بدی اس پر غالب آجاتی ہے تو کبھی نیکی اس کی زندگی کا راستہ بناتی ہے۔
زیادہ تر انسان معصوم ہی ہوتے ہیں اور یہ ان انسانوں کا نشانہ بن جاتے ہیں جو برے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی انسان کسی بھی وقت مشکل میں پھنس سکتا ہے، کسی ایسی صورت حال کا سامنا کر سکتا ہے جو اس کے لیے دکھ تکلیف شرمندگی خوف کا باعث بن سکتی ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں ایسی بہت سی ہیلپ لائنز موجود ہیں جہاں لوگ راز داری سے اپنے ذہنی، جسمانی، جذباتی اور معاشی مسائل بتا سکتے ہیں۔ ان کو کونسلنگ کے ذریعے مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ سوشل سرویسز، محکمہ پولیس اور دیگر ادارے عوام کی مدد میں لگے رہتے ہیں۔ جس سے بہت سے مسائل جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہاں تو دعا کی جاتی ہے کہ ’اللہ ہمیں ہسپتال، کچہری اور تھانوں سے بچائے۔‘ ہمارے ہاں جب کوئی مشکل میں ہوتا ہے تو بہت سے لوگ تو اس لیے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ ہم کیوں اس مصیبت میں پڑیں۔ ہم کیوں مدد کریں یا اپنے وسائل کا استعمال کریں۔ یہ تو شکل سے لگ رہا ہے پیسے مانگ لے گا۔ آج کل ساتھ دینے مدد کرنے کا جذبہ معدوم ہو گیا ہے۔
پہلے لوگ مل کر رہا کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ دوست احباب کے سکول کالجز اور گلی محلوں میں بڑے بڑے گروپ ہوا کرتے تھے۔ سب غمی خوشی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے تھے۔ عید تہوار مل کر مناتے تھے۔ پر اب ترقی کی دوڑ نے لوگوں کو بظاہر ایک دوسرے سے دور کر دیا۔ اب تو ایک ہی گلی میں رہنے والو کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ ساتھ بنی دیوار کا مکین کون ہے۔ کیا اس کے پاس روٹی کھانے کو پیسے ہیں کیا اس کی بیماری میں اس کی عیادت کرنے کے لیے کوئی موجود ہے۔
معاشرہ اتنی تیزی سے ترقی کر رہا ہے کہ بہت سے انسان اور انسانیت پیچھے رہ گئی ہے۔ اسلام آباد ایک جدید شہر ہے۔ بلند عمارتیں، دلکش سڑکیں، حسین نظارے، اعلی برینڈز کی موجودگی اور قیمتی گاڑیاں ایسا لگتا ہی نہیں کہ اس شہر میں کوئی مسائل ہیں۔ اگر ہیں جو اشرافیہ کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ یہاں بھی غربت ہے، آلودگی ہے، گرین کور ختم کر دیا گیا ہے۔ صحت کے مسائل ہیں، رہائش کا مسئلہ ہے، صاف پانی اور پانی کی متواتر فراہمی نہیں ہے اور اب تو سٹریٹ کرائم بھی جنم لے رہے ہیں۔ غربت، بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پر کسی کی توجہ ہی نہیں کہ تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے، طالب علم اور ان کے والدین تعلیمی اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ جو خوش نصیب پڑھ گئے وہ ڈگریاں لیے ہاتھ میں پھر رہے ہیں لیکن میرٹ پر نوکریاں نہیں ہیں۔
اس ہی شہر میں ہسپتال میں چودہ بچے جل کر خاکستر ہو گئے لیکن کوئی ذمہ دار مستعفی نہیں ہوا۔ یہاں طرز حکمرانی کا مزاج اور معاشرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس شہر میں پردیسی حکومت کے لیے آتے ہیں اور پھر اپنے اپنے دیس کو نکل جاتے ہیں۔ اس لیے یہ جگہ مسائلستان بن چکی ہے۔ انڈر پاس تو خوب بن رہے ہیں لیکن شہری بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
لائبہ کے دل میں کچھ کر دکھانے کا جنون تھا۔ وہ ایک لائق طالبہ تھی۔ اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتی تھی۔ کیا یہ حکومت، وزارت تعلیم، جامعات اور سفارت خانوں کا فرض نہیں کہ وہ طالب علموں کو آگاہی دیں۔ معلومات کی کمی کی وجہ سے بچے انسانی سمگلرز اور ایجنٹس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔
ایک ٹویٹ کرنے پر ایف آئی اے، نیکا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان کی ناک تلے ایسے گروہ، گروپ، کمپنیاں سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ اتنی بڑی رقم، اپنے ماں باپ کی جمع پونجی چھن جانے کے بعد کس اذیت کا شکار تھی یہ تو اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے آپ سے باتیں کرتی، روتی اور گم صم وہ مقتل کی طرف قدم بڑھا رہی تھی۔ کسی نے اس کی دبی چیخیں نہیں سنیں، اس کی مدد نہیں کی اس کو یقین نہیں دلایا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔
اگر ہمارے ملک میں قانون و انصاف عام ہوتا تو لائبہ کو مدد مل جاتی اور وہ فراڈ کرانے والے ایجنٹ کو گرفتار کراو کے اپنے ماں باپ کی جمع پونجی دوبارہ حاصل کر لیتی۔ پر ایسا نہیں ہوا۔ ہمارے ملک میں جرم ہونے کے بعد متاثرہ فریق سے ہی کہا جاتا کہ قسمت کا لکھا مان کر چپ کر جاو۔
لائبہ کی کسی نے بروقت مدد کی ہوتی، کسی نے اس کی بات سنی ہوتی۔ ہمارے ملک میں اچھی جامعات ہوتیں، ڈگری کا حصول اور اس کی تصدیق آسان ہوتی۔ پاکستانیوں کو ویزوں کے حصول میں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو آج شاید لائبہ زندہ ہوتی۔ ہمارے نئی نسل سے خواب چھین لیے گئے ان کو بس اب اپنا مستقبل پردیس میں نظر آتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ اس دوڑ میں ہمارے بچے کبھی لانچوں سے مردہ ملتے ہیں، کبھی سمندر برد ہو جاتے ہیں تو کبھی صحراؤں میں ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ تو کبھی وہ پنکھے سے جھول جاتے ہیں۔
لائبہ گولڈ میڈلسٹ تھی وہ ایک اچھی زندگی پر مکمل حق رکھتی تھی لیکن جعل ساز اس کی زندگی سے کھیل گئے۔ والدین کرائے پر رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی جمع پونجی لگا کر اس ایجنٹ کو دی کہ ان کی بیٹی ہاروڈ میں تعلیم حاصل کرے۔ اس ایجنٹ نے لاکھوں روپے لینے کے بعد کہا کہ تمہاری سفارت خانے میں اپائنٹمنٹ منسوخ ہو گی ہے۔ لائبہ نے جب اپنے کاغذات کی چھان بین کروائی تو اس کو پتہ چلا کہ یہ کاغذات جعلی ہیں۔ وہ اس چیز سے دل برداشتہ ہو کر گھر سے نکلی اور اپنی جان لے لی۔ اس کے خواب اور اس کے والدین کی جمع پونجی ایک فراڈ کی نظر ہو گئی۔ شاید امرا کے لیے اسی نوے لاکھ روپے بہت بڑی رقم نہ ہوں لیکن غریب کے لیے یہ اس کی زندگی بھرکی کمائی ہوتی ہے۔
اس نے اپنے آخری پیغام میں کہا کہ میرے والد کو اس فراڈ کا نہ بتانا وہ مر جائیں گے۔ کاش اس کو کسی نے یہ بھی کہا ہوتا کہ تمہارے یوں چلے جانے سے بھی وہ زندہ درگور ہو جائیں گے۔ کاش کے کسی نے لائبہ کی قانونی طور پر مدد کی ہوتی، کاش کسی نے اس کو حوصلہ ہمت دی ہوتی، کاش کہ کسی ماہر نفسیات نے اس کو اس مسئلے سے نکلنے کے لیے صلاح دی ہوتی۔ پر دھوکہ، دکھ، تکلیف اس کو پہلے ہی نگل گئے۔
ہمارے بچے اب بھی محفوظ نہیں ہیں ایسے جعل ساز جگہ جگہ بیٹھے ہوئے اور ہمارے بچوں کا مستقبل نگلنے کے لیے تیار ہیں۔ جب تک اس ملک میں قانون کی بالا دستی نہیں ہو گی اور اصل جمہوریت نہیں ہو گی ہماری نئی نسل محفوظ نہیں۔
یہ تحریر مصنفہ کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔