پاکستان فوج نے منگل کو ایک بیان میں بتایا کہ اس نے ہائپرسونک بیلسٹک میزائل فتح ٹو کے ایکسٹینڈڈ رینج (ای آر) والے ورژن کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق یہ میزائل جدید نیویگیشن اور ایویونکس نظام سے لیس ہے۔
پاکستان نے اگست 2025 میں راکٹ فورس کمانڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد روایتی میزائل جنگ میں آپریشنل تیاری اور رابطہ کاری بہتر بنانا ہے جبکہ جوہری صلاحیت رکھنے والے نظام الگ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے تحت رہتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
راکٹ فورس کمانڈ کو علاقائی سکیورٹی کشیدگی، بالخصوص مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی مختصر لیکن شدید لڑائی کے تناظر میں پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ ہائپرسونک بیلسٹک کے ایکسٹینڈڈ رینج والا یہ فتح ٹو میزائل اپنے منفرد پرواز کے راستے اور سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت کی بدولت زیادہ درستگی کے ساتھ اہداف کو نشانہ بنانے اور دشمن کے میزائل دفاعی نظام کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق فتح ٹو کے ایکسٹینڈڈ رینج والے میزائل سے پاکستان فوج کی دور تک مار کرنے اور دشمن کے دور واقع اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
میزائل کا تجربہ آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر، فوج کے سینیئر افسران اور سائنس دانوں اور انجینیئرز نے دیکھا۔
بیان کے مطابق آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے کمانڈر نے سائنس دانوں اور انجینیئرز کی لگن اور تکنیکی مہارت کو سراہا۔
صدر اور وزیراعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور مسلح افواج کے سربراہان نے فتح ٹو میزائل کے توسیع شدہ رینج والے ورژن کے کامیاب تجربے پر سائنس دانوں اور انجینیئرز کو مبارک باد دی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان فوج نے چھ اکتوبر کو بھی مقامی طور پر تیار کیے گئے فتح-4 کروز میزائل کے توسیع شدہ ورژن کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔
پاکستان آرمی کی راکٹ فورس کمانڈ کا حصہ فتح-4 کم بلندی پر زمین کی ساخت کے مطابق پرواز کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
اس صلاحیت کو ’ٹیرین ہیگنگ‘ کہا جاتا ہے، جس سے میزائل کو دشمن کے فضائی دفاع اور میزائل روکنے والے نظام سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
فتح کروز میزائل سیریز پاکستان کے مقامی میزائل تیاری کے پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل تیاری اور اہداف کو درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔
پاکستان فوج نے گذشتہ سال ستمبر میں بتایا تھا کہ اس میزائل کی رینج 750 کلومیٹر ہے۔