کہیں می ٹو موومنٹ مذاق نہ بن جائے

معاملہ جب سیاسی ہو جائے تو انصاف پر سودا ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی میں جنسی ہراسانی کے معاملے کو جس سیاسی انداز سے اٹھایا گیا وہ بجائے تریاق کہ خود زہر بن گیا۔

ضروری ہے کہ جنسی ہراسانی سے تحفظ کے قانون سے ابہام کو دور کیا جائے۔

میں دو ماہ سے اس شش و پنج میں مبتلا تھی کہ کیا کوئی ایسی تحریر لکھنی چاہیے جس میں جنسی ہراسانی سے تحفظ کے قوانین کے غلط استعمال  پر بات ہو۔ مجھے نامناسب لگا کہ میں کچھ بھی ایسا لکھوں جو کہ جنسی ہراسانی کا شکار خواتین کی جدوجہد پر منفی اثر انداز ہو۔ پھر ایک روز میرے فون کی گھنٹی بجی، لاہور کے ایک کالج کے استاد نے مجھے اپنی اور اپنے ساتھی اساتذہ  کی بپتا سنائی۔

کراچی چند ماہ قبل جانا ہوا تو جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کا بھی رخ کیا۔ علم ہوا کہ یہاں تو حصول علم سے ہٹ کر سیاست کا بازار گرم ہے۔ اساتذہ میں گروپنگ ہےاور چونکہ نیوز میڈیا میں کام کرنے والے بہت سے صحافی اسی شعبہ ابلاغ عامہ سے فارغ التحصیل ہیں اس لیے یہاں کی اندرونی چپقلش میں میڈیا کے کچھ دوست بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ان دنوں یہ خبریں گرم تھیں کہ شعبہ ابلاغ عامہ کے دو استادوں پر طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ جنسی ہراسانی ہوئی یا نہیں میں اس کیس کی میرٹ پر بحث نہیں کرتی مگر ملاحظہ ہو کہ یہ معاملہ خود لڑکیوں نے نہیں بلکہ تحریک انصاف یوتھ ونگ کے رہنما اور یونیورسٹی کے طالب علم طہماس علی نے اٹھایا۔ گورنر ہاوس سندھ سے سیاسی وابستگی رکھنے والا یہ طالب علم تین مضامین میں فیل جبکہ شعبہ تعلقات عامہ میں اساتذہ کی تقرریوں  پر خاصا متحرک بھی تھا۔ معاملہ جب انکوائری کمیٹی میں آیا تو کچھ لڑکیاں پیچھے ہٹ گئیں۔

قصہ مختصر یہ ان دو میں سے ایک استاد نے خود پر لگنے والے الزامات کے خلاف کیس ہر فورم پر لڑا یہاں تک کہ الزام لگانے والا طالب علم طہماس علی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ پیمرا نے اساتذہ کے خلاف خبریں چلانے پر دو نجی چینلز سے معافی مانگنے کا بھی کہا ہے۔ الغرض جنسی ہراسانی جیسے نہایت سنجیدہ معاملے کو ایک سیاسی مقصد کے لیے اچھالا گیا جس کا نقصان ان اساتذہ کی عزت و شہرت کو ہوا۔ میڈیا ٹرائل میں فیصلے سنا دیئے گئے اور معاملے کو متنازع بنا کر کاری ضرب ’می ٹو موومنٹ‘ پر لگائی گئی۔

معاملہ جب سیاسی ہو جائے تو انصاف پر سودا ہوتا ہے۔ جامعہ کراچی میں جنسی ہراسانی کے معاملے کو جس سیاسی انداز سے اٹھایا گیا وہ بجائے تریاق کہ خود زہر بن گیا۔ عمومی رائے یہ بن گئی کہ جنسی ہراسانی کا الزام یونیورسٹی کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔ یہ الزام اساتذہ کے درمیان چلنے والی اندرونی سیاست کا ایک آلہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

ایسا ہی کچھ لاہور کے مشہور تاریخی کالج محمدن اینگلو اورینٹل (ایم اے او کالج) میں ہو رہا ہے۔ جنسی ہراسانی کو اندرونی سیاست کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کالج میں انگلش شعبے کے ایک لیکچرر اپنے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس سے کافی دلبرداشتہ تھے۔ وہ گذشتہ ہفتے دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ ان کے بعض رفقا کو اس موت پر خودکشی کا شبہ ہے۔ کالج میں انکوائری کمیٹی کو لکھے گئے اپنے ایک مبینہ خط میں جواں سال استاد نے کہا کہ اگرچہ جنسی ہراسانی کے اس الزام میں کمیٹی نے انہیں بےگناہ قرار دے دیا ہے لیکن اس جھوٹے کیس نے ان کی کالج، اساتذہ اور طالب علموں میں عزت ختم کر دی ہے جبکہ ان کی گھریلو زندگی بھی تباہ ہوگئی ہے۔

اسی کالج میں ایک سینیئر خاتون استاد اور فلاسفی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے درمیان کالج کے انتظامی معاملے پر مبینہ طور پر زبانی تکرار کے بعد جنسی ہراسانی کا کیس بن گیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ ایک اور لیکچرر پر بھی کچھ عرصہ قبل ایسی ہی نوعیت کا ایک کیس بنا تھا۔

میری کالج کے مختلف اساتذہ سے بات ہوئی۔ سب مرد اساتذہ جنسی ہراسانی کے قانون کے غلط استعمال سے خائف تھے۔ ایک استاد کا کہنا تھا کہ وہ کلاس روم میں اب اپنی شاگرد بچیوں کی جانب متوجہ ہونے سے بھی کتراتے ہیں کیونکہ عموماً ایسے ہی الزام لگتے ہیں کہ ٹیچر کی نظریں ٹھیک نہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر تمام مرد اساتذہ کی شکل میں بھیڑیئے ہی نظر آتے ہیں تو بہتر ہے خواتین اور مردوں کے تعلیمی ادارے الگ کر دیے جائیں۔

میں نے جنسی ہراسانی کے خلاف بننے والے قوانین کی بات کی کہ کیسے طعنوں تشنوں، گندے اشاروں، بری نظروں اور بدنیتوں کا شکار خواتین اپنا دفاع کر رہی ہیں۔ میری وکالت سنی تو وہی استاد گویا ہوئے کہ یہ معاملہ بالکل بلاسفیمی کے قانون کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کب بحیثیت استاد ہمارا ڈانٹنا کسی بچی کو ہراسانی لگنے لگے، کب کسی خاتون شاگرد کی تعریف گلے پڑ جائے۔ یہ ڈر ایک طرف اور کب کس بچی کو کون ہمارے خلاف استعمال کر لے یہ ڈر ایک طرف۔

کالج کے سربراہ ڈاکٹر فرحان عبادت کا موقف بھی وزنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی طالبہ اگر جنسی ہراسانی کا معاملہ اٹھائے گی تو کالج انتظامیہ اس پر انکوائری اور کارروائی کرنے کی پابند ہے۔ چاہے الزام جھوٹ ہو یا سچ دونوں صورتوں میں بحیثیت سربراہ معاملے کی تحقیق کرنا لازمی ہے ورنہ تادیبی کارروائی خود ادارے کے سربراہ کے خلاف ہوتی ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جنسی ہراسانی سے متعلق قواعد آٹھ سال پہلے ہی آ گئے تھے جس میں اس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو جینڈر نیوٹرل اور استاد شاگرد کے رشتے کو اعتبار سے جوڑا۔ تاہم تدریسی اداروں میں جنسی ہراسانی سے تحفظ کی گائیڈ لائن کا اطلاق خاصا مشکل ہے۔ مثلاً ایچ ای سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق ایک استاد کا شاگرد کو کسی اسائنمنٹ یا ریسرچ یا امتحان میں نمبرز پر بات چیت کے لیے اپنے کمرے میں بلانا بھی جنسی ہراسانی کے زمرے میں آسکتا ہے تاہم ماسٹرز، ایم  فل، پی ایچ ڈی میں تو تحقیق کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ ایک محقق اور اس کے نگران استاد کو آپس میں بات کرنا پڑتی ہے۔ استاد کے کمرے میں جانا پڑتا ہے۔ لیب میں ساتھ کام کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ پی ایچ ڈی کے طالب علموں کو تو یونیورسٹی کے علاوہ بھی اپنے استاد سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔ اب اگر جنسی ہراسانی سے تحفظ کی گائیڈ لائنز دیکھیں تو یونیورسٹی لائف کے یہ تمام امور ہی متنازع لگنے لگتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نو سال پہلے بننے والا قانون ’کام کی جگہوں پر خواتین کا جنسی ہراسانی سے تحفظ‘ تعلیمی اداروں کا احاطہ نہیں کر پاتا۔ دفتری پیشہ وارانہ ماحول اور تدریسی ماحول میں فرق ہوتا ہے۔ دفتر میں اپنی خاتون ساتھی کو ڈانٹنا، ان کی کارکردگی پر تنقید کرنا یا انہیں ناکام قرار دینا ناقابل قبول ہے یہ جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک ہے۔ مگر درسگاہوں کی تو بنیاد ہی اس امر پر ہے کہ استاد اپنے شاگرد کو پرفارمنس کی بنیاد پر پاس یا فیل کرسکتا ہے، سرزنش کرسکتا ہے، کلاس سے آوٹ کر سکتا ہے، اچھے نمبر دے سکتا ہے، یہاں تک کہ اچھی طالبہ کی اکیڈمک پرفارمنس کی تعریف کرسکتا ہے۔ مگر یہی تمام ایکشن اگر کسی بدنیتی سے کیے جا رہے ہیں تو انہیں آپ جنسی ہراسانی کے زمرے میں لاسکتے ہیں۔ اب اس خراب نیت کو ایک طالبہ ثبوتوں سے کیسے ثابت کرے گی؟ یہ ایک الگ ابہام ہے۔

مشفق استاد کا اپنے شاگرد سے بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے، لیکن چند کمین فطرت اس پیشے کو بھی بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں سے طالبات کی ویڈیوز بنانے کا سکینڈل تو ابھی سامنے آیا ہے، کتنے ہی واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ اپنے سرکاری کالج میں اسلامیات ٹیچر کلاس میں آتے ہی اپنی شرٹ کے اوپری تین بٹن کھول دیتے تھے اور جب تک کلاس ختم نہ ہو جاتی وہ اپنی چھاتی کے بالوں پر انگلیاں پھیرتے رہتے۔ لڑکیوں نے ان کی کلاس لینا چھوڑ دی تھی۔ یہ سن 2003 کی بات ہے۔ اس وقت اگر جنسی ہراسیت کے حوالے سے اتنا شعور ہوتا تو لڑکیاں ضرور آواز اٹھاتیں، مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔

می ٹو کی تحریک نے جہاں ہراساں ہونے والی خواتین کو آواز دی ہے وہیں اس کے غلط استعمال کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔ جنسی ہراسانی کے واقعات کو جان بوجھ کر متنازع بنا دیا جاتا ہے۔ ان کیسز کی آڑ لے کر ملزم کے پیشہ وارانہ مخالفین خوب سیاست چمکاتے ہیں۔ آخر میں لڑکی کو انصاف ملے نہ ملے معاملہ متنازع ہو کر کہیں بیچ میں اٹک جاتا ہے۔

ضروری ہے کہ جنسی ہراسانی سے تحفظ کے قانون سے ابہام کو دور کیا جائے۔ ایچ ای سی یا کوئی بھی اعلیٰ تعلیمی ادارہ جنسی ہراسگی سے تحفظ کی گائیڈ لائنز کو فائلوں میں دبا کر نہ بیٹھے، گاہے بگاہے اساتذہ اور طالب علموں کے درمیان اس موضوع پر بات ہونی چاہیے۔ می ٹو موومنٹ کی آڑ میں اپنے ایجنڈے چلانے والوں کو سامنے لانا ہوگا تاکہ اصل مسئلہ دھندلا نہ جائے اور می ٹو موومنٹ ایک مذاق بن کر نہ رہ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ