لاڑکانہ کا میلہ اور مولانا کا دھرنا

شریف خاندان اور پیپلز پارٹی کو اب بھی مولانا کے سیاسی عزائم کا انجام دھندلا نظر آتا ہے۔ وہ کسی تاریک گلی میں داخل نہیں ہونا چاہتے۔

مولانا سیاسی تنہائی سے نکل کر اپوزیشن سیاست میں مرکزی کردار کی حیثیت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں (جے یو آئی)

مجھے مولانا فضل الرحمٰن کے اس طرح بپھرنے، جنگ کے اعلان اور موجودہ سیاسی افراتفری سے اپنے آبائی شہر لاڑکانہ کا میلہ یاد آتا ہے۔

ہر فصل کٹنے پر شہر کی گھاس منڈی کے پیچھے میدان میں یہ میلہ لگتا۔ موت کا کنواں، لوگوں کا ہجوم، ایک پہیے والی سائیکل پر کرتب، رنگ برنگے بڑے بڑے جھولے، ہری، پیلی پنی والی عینکیں، بچے بڑے سب مصروف اور گہما گہمی۔ بیچ میدان میں لکڑیوں سے بنا گول دائرہ یعنی رِنگ یا اکھاڑہ، رِنگ ماسٹر کے ہاتھ میں ہنٹر اور خونخوار شیر کے کرتب۔

تیسرا دن۔۔۔ میلے کا آخری دن۔۔۔ سب بچے شیر کے کرتب دیکھنے میں مصروف۔۔۔ یکدم ہنٹر لگتے ہی شیر بے قابو۔۔۔

سرکس تتر بتر، خوف کا سماں۔۔۔ بھگدڑ۔

مجھے ان دنوں مولانا فضل الرحمٰن سرکس کے اُس زخمی سرکش شیر کی طرح لگتے ہیں۔

سال 2013 کے انتخابات سے سیاسی طور پر محدود، تحریک انصاف کے ہاتھوں سیاسی تنہائی کا شکار، خیبرپختونخوا میں شکست خوردہ۔ مولانا فضل الرحمٰن ان محرومیوں اور تنہائیوں کی وجہ اسٹیبلشمنٹ سے دوری سمجھتے ہیں ورنہ مولانا نے بیشتر سیاسی زندگی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہم آہنگی، اقتدار میں شرکت داری اور سانجھے داری میں گزاری۔ گویا جس طرح سرکس کے شیر کی زندگی رِنگ میں گزرتی ہے۔

سیاسی حریفوں یعنی بی بی اور نواز شریف دونوں  کے ادوار میں مولانا اقتدار کے ساتھ جڑے رہے۔ جنرل مشرف کی فوجی بغاوت کے بعد اقتدار میں آنا، نائن الیون کا واقعہ۔ مولانا نے ملا عمر اور اسامہ بن لادن کو بھی ہیرو بنایا۔

میں اُن دنوں بی بی سی لندن سے کوریج کے سلسلے میں پشاور آیا ہوا تھا۔

نمک منڈی سے قصہ خوانی بازار تک امریکہ مخالف مظاہرے۔۔۔ غیرملکی صحافیوں کا مولانا کے گرد مغربی دنیا مخالف ہیڈ لائنز کے لیے گھیرا ڈالنا۔۔۔

اسی امریکہ مخالف فضا میں مولانا نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر متحدہ مجلس عمل کے نام سے اتحاد بنایا۔ جسے پشتون قوم پرست رہنما ملا ملٹری الائنس پکارتے تھے۔

نہ صرف مولانا نے سابق صوبہ سرحد میں حکومت بنائی بلکہ طالبان کا نظام نافذ کرنے کی پالیسیاں بھی بنائیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی پر پابندی، موسیقاروں کے محلے ڈبگری میں آرٹسٹوں پر سختیاں، طبلے اور ہارمونیم کی نمائش پر پابندیاں۔

مولانا نے اقتدار کی سیاست کی۔ زیرک، تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ بہت چالاکی سے سیاسی طور پر دو ٹوپیاں پہنتے ہیں۔ ایک پارلیمانی سیاست کی جس میں وہ جمہوریت کی بالادستی چاہتے ہیں اور دوسری اپنے حلقے یعنی مدارس کے نظام میں، جنوبی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وہ اسلامی نظام نافذ کرنے کے نعرے بلند کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکی لیکس کے مطابق امریکی سفیر این پیٹرسن سے وزیراعظم بننے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے سیاسی حلقوں میں شریعت کا نظام نافذ کرنے پر چاہنے والوں کو اکٹھا رکھنا چاہتے ہیں۔ بپھرے ہوئے مولانا اپنی موجودہ احتجاجی تحریک میں دونوں کارڈ استعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔

مولانا چاہتے کیا ہیں؟

مولانا اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کی حکومت کے مابین ہم آہنگی یا اتحاد میں دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں، اپنی کھوئی ہوئی سپیس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حکومت کا معاشی مسائل میں گھرا ہونا، سمت کے تعین میں لڑکھڑانا، شریف خاندان، زرداری اور پیپلز پارٹی کا دیوار سے لگا ہونا، اس سارے ماحول میں مولانا اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کو باور کرا رہے ہیں کہ وہ قبائلی علاقوں اور خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کی بڑھتی ہوئی ’پریشان کن‘ مقبولیت کے سامنے سیاسی دیوار بن سکتے ہیں۔

مولانا اپنی ذاتی ملاقاتوں میں اشارے دے رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ رابطے کیے ہیں۔ ان سے اسلام آباد میں دھرنا نہ دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ لیکن مولانا کے بقول ماضی میں جنرل ضیا نے پی این اے تحریک والوں کے ساتھ وعدہ پورا نہ کیا اور 11 سال تک حکومت کی۔ 

جنرل مشرف نے مولانا کے ساتھ وردی اتارنے کی بات کی لیکن وہ وعدے، وعدے ہی رہے۔ مولانا نے ان ذاتی ملاقاتوں کے ذرائع کے مطابق مطالبے رکھے ہیں، عمران خان مستعفی ہوں، قومی حکومت کی تشکیل ہو اور کسی قابلِ قبول شخصیت کو وزیراعظم بنایا جائے۔ مولانا کے یہ مطالبے نانگا پربت کی چوٹی سَر کرنے کے مترادف ہیں۔

حکومت تو گر نہیں سکتی، افراتفری میں کولیٹرل ڈیمج ہو سکتی ہے۔ وسیم اکرم پلس یعنی عثمان بزدار اور خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان اس کولیٹرل ڈیمج کی نذر ہوسکتے ہیں۔ 

حکومت کا اقتدار باریک دھاگے سے جڑا ہوا ہے، اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کے لیے عاجزی دکھانا پڑے گی۔ مولانا سیاسی تنہائی سے نکل کر اپوزیشن سیاست میں مرکزی کردار کی حیثیت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اس ساری تحریک میں مولانا جہاں کسی کو مزید مضبوط کریں گے، وہاں اپنی سیاست کے لیے محدود طاقت بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

شریف خاندان اور پیپلز پارٹی کو اب بھی مولانا کے سیاسی عزائم کا انجام دھندلا نظر آتا ہے۔ وہ کسی تاریک گلی میں داخل نہیں ہونا چاہتے۔ دونوں جماعتیں دھیرے دھیرے قدم رکھنا چاہتی ہیں، کچھ پانا بھی چاہتی ہیں اور کچھ کھونا بھی نہیں چاہتی ہیں۔

مولانا کا بپھرنا۔۔۔ سیاسی افراتفری۔۔۔ مجھے تو میرے بچپن کا میلہ یاد آتا ہے۔ شیر کا طیش میں آنا، رنگ سے بھاگ جانا، میلے میں بھگدڑ۔

اگلے برس جب فصل کٹنے کے بعد میرے آبائی شہر لاڑکانہ میں میلہ لگا، وہی گہما گہمی، وہی شیر جس نے میلے کو تتر بتر کر دیا تھا، واپس رِنگ میں کرتب دکھانے میں مصروف۔

مجھے مولانا اُس شیر کی طرح لگتے ہیں۔ وہ سیاسی دائرے میں واپس نظر آتے ہیں۔ لیکن مزید سیاسی طاقت کے ساتھ ۔۔۔ ن لیگ مجھے میلے کے موت کے کنویں میں گھری نظر آتی ہے اور پیپلز پارٹی ایک پہیے کی سائیکل پر سوار۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر