شمالی کوریا کے جہاز کی ملکیت امریکہ کو مل گئی

نیو یارک کی ایک عدالت نے امریکی تحویل میں موجود شمالی کوریا کے ایک مال بردار جہاز کی ملکیت امریکہ کو دینے کا فیصلہ دے دیا ہے جسے عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر قبضے میں لیا گیا تھا۔

نیو یارک کے شمالی ڈسٹرکٹ کےیو ایس اٹرنیز آفس  کی جانب سے ریلیز کی گئی  جنوبی کوریا کے  بحری جہاز ’وائز آنسٹ‘ کی تصویر (اے ایف پی فائل)

نیو یارک کی ایک عدالت نے امریکی تحویل میں موجود شمالی کوریا کے ایک مال بردار جہاز کی ملکیت امریکہ کو دینے کا فیصلہ دے دیا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق اس جہاز کو عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر قبضے میں لیا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 17 ہزار 61 ٹن وزنی یہ ’وائز آنسٹ‘ نامی جہاز پابندیوں کی خلاف ورزی کے بعد قبضے میں لیا گیا شمالی کوریا کا پہلا جہاز تھا۔

گذشتہ سال قبضے میں لیے جانے کے وقت اس جہاز پر تیس لاکھ ڈالر کا کوئلہ لدا ہوا تھا اور یہ انڈونیشیا کی سمندری حدود میں موجود تھا۔ جہاز کو بعد میں امریکی حکام کے سپرد کر دیا گیا تھا۔

محکمہ انصاف کی جانب سے سامنے لائے جانے والے نیو یارک کی عدالت کے جاری کردہ حکم کے مطابق ضبط شدہ جہاز کو واشنگٹن کے حوالے کر کے اس معاملے کو ختم کیا جائے۔

امریکی کوسٹ گارڈ کے مطابق جہاز کی فروخت کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ اسی مہینے کے اوائل میں کوسٹ گارڈ نے بتایا تھا کہ جہاز کو عدالت کے حکم پر نیلامی کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ امریکی سموا میں پاگو پاگو پر لنگر انداز یہ جہاز نامعلوم قیمت پر نامعلوم خرید کنندہ کی جانب روانہ کیا جا چکا ہے۔

امریکی طالب علم اوٹو وارمبئیر، جو شمالی کوریا میں کومے میں تھے اور جنہیں مرنے سے کچھ عرصہ قبل ہی پیانگ یانگ نے رہا کیا، اور پادری کم ڈونگ شک جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ انہیں 2000 میں شمالی کوریا میں قید کر کے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا، کے اہل خانہ نے شمالی کورین جہاز کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی،  لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کیا ان دونوں خاندانوں کو اس نیلامی سے کسی قسم کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ سوموار کے عدالتی حکم میں عدالت نے کہا تھا کہ دونوں خاندانوں نے اپنی درخواستوں کے معاملے کو امریکہ کے ساتھ ’حل ‘ کر لیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محکمہ انصاف کے بیان میں محکمے نے وارمبئیر خاندان کا شکریہ ادا کیا کہ ’انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنا مقدمہ واپس لے لیا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ عدالت کے فیصلے نے جہاز کو ’مجرمانہ سکیم‘ میں مزید استعمال ہونے سے روک دیا ہے۔

قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان ڈیمرز کا کہنا تھا: ’قرقی کا حکم وائز آنسٹ کے پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے شمالی کوریا کے بڑے جہاز کے طور پر اس کا کرئیر ڈبو دے گی۔‘

سالوں سے سمندر حدود میں جاری رہنے والی امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کھیلے جانے والے چوہے بلی کے کھیل میں یہ پہلا جہاز تھا جس کو امریکہ نے قبضے میں لیا تھا۔

اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے جہازوں کے نام بدلنے، مختلف جھنڈے لگانے اور ٹریکنگ ڈیوائس بند کرنے جیسے طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔ پیانگ یانگ نے اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے ’ ناخوشگوار نتائج ‘ کی دھمکی دی تھی۔

اپنے جوہری اور میزائل پروگرامز کی وجہ سے شمالی کوریا اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل قراردودوں کے تحت مختلف پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

شمالی کوریا نے فروری میں صدر ٹرمپ اور شمالی کورین رہنما کم جونگ ان کے درمیان ہنوئی میں ہونے والی ملاقات میں بھی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ ملاقات بغیر نتیجہ ختم ہو گئی تھی تب سے ہی جوہری مذاکرات بھی جمود کا شکار ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا