بغدادی کو ہلاک کرنے کی کارروائی، تصاویر اور ویڈیو جاری

ویڈیو میں نصف درجن کے قریب امریکی فوجیوں کو اُس احاطے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جسے بیرونی دیواروں کی مدد سے محفوظ بنایا گیا تھا۔ امریکی فورسز نے ان دیواروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے جاری کی گئی  تصویر میں امریکی فورسز کو ابوبکر البغدادی کے کمپاؤنڈ کی طرف پیش قدمی کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ (اے ایف پی)

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے خصوصی فورسز کے اُس آپریشن کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کر دیں، جس کے دوران دہشت گرد تنظیم داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو شام میں ہلاک کیا گیا۔

ویڈیو میں نصف درجن کے قریب امریکی فوجیوں کو اُس احاطے کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جسے بیرونی دیواروں کی مدد سے محفوظ بنایا گیا تھا۔ امریکی فورسز نے ان دیواروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو البغدادی کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ داعش رہنما اپنی جان لینے سے قبل رو رہے تھے۔ سرنگ میں موجود البغدادی نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ بعد میں امریکی خصوصی فورسز نے سرنگ کا ملبہ ہٹاتے ہوئے ان کی لاش کو نکال کر اس کی شناخت کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ خصوصی فورسز کی کارروائی میں دشمن کے چھ جنگجو مارے گئے تھے جبکہ 11 بچوں کو مکان سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ آپریشن کے دوران مبینہ طور پر دو بچے بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی حملے کے بعد جنرل فرینگ مکینزی نے کہا کہ ’اس آپریشن کی منصوبہ بندی بڑی صفائی کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس سے امریکہ کی بین الاقوامی سطح پر رسائی کی صلاحیت اور داعش کو تباہ کرنے کے ہمارے غیرمتزلزل عزم کا اظہار ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ آپریشن حقیقی معنوں میں اداروں کے درمیان رابطے کے نتیجے میں کی گئی کوشش تھی، اس لیے میں امریکی حکومت میں ہر سطح پر اپنے شراکت داروں کو سراہتا ہوں۔‘

امریکی حملہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے ٹھیک چند ہفتے بعد کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ شمالی شام سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکہ کے اتحادی کردوں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے تشویش لاحق ہو گئی تھی جنہوں نے داعش کے خلاف لڑائی میں امریکی فوج کی مدد کی تھی۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کے حوالے سے ہونے والی امریکی کارروائی کے دوران لی گئی تصاویر (اے ایف پی)


اطلاعات کے مطابق اس امریکی آپریشن میں کم ازکم جزوی طور پر کرد قیادت میں شامی ڈیموکریٹک فورسز(ایس ڈی ایف) نے مدد کی تھی۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ایس ڈی ایف نے بنیادی کردار ادا کیا۔

ایس ڈی ایف کمانڈر جنرل مظلوم عابدی کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ’انہوں نے، اُن کے لوگوں نے اور ان کے خفیہ ذرائع نے اس تمام معاملے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ بہت اہم کردار ہے۔ کوئی اس معاملے میں ایس ڈی ایف کی اہمیت کو کم نہ کرے۔‘

امریکی حملے کے محض چند روز بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ممکنہ طور پر داعش کی سربراہی سنبھالنے والے البغدادی کے ’جانشین نمبر ایک‘ کو بھی مار دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’ابھی ابھی تصدیق ہوئی ہے کہ امریکی فوج نے البغدادی کے پہلے نمبر پر جانشین کو بھی مار دیا، جن کے بارے میں غالب امکان تھا کہ وہ داعش کے سربراہ بنیں گے۔ اب انہیں مارا جا چکا ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کتے کی بھی تعریف کی تھی جو البغدادی کے خلاف آپریشن میں زخمی ہو گیا تھا۔ امریکی صدر ٹوئٹر پوسٹ میں یہاں تک چلے گئے کہ انہوں نے کتے کو مذاق میں اعزاز دے ڈالا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا