میڈیکل کالج میں آخری دن، یادیں اور آنسو

میڈیکل کالج میں پہلے دن سوچتے تھے کہ اگلے پانچ سال کیسے گزریں گے، اب سوچ رہے ہیں کہ پانچ سال اتنی جلدی کیسے گزر گئے؟

(اے ایف پی)

تو لیجیے جناب، آج داستان اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ میڈیکل کالج کا پانچ سال کا سفر آج اختتام پذیر ہوا۔ اس کالج میں آخری دن بھی گزر گیا۔ کالج کے یہ پانچ سال ایک عجب سی داستان تھی، جو نشیب و فراز سے مزین تھی۔

میڈیکل کالج کا سفر دو نومبر2014 سے شروع ہوا تھا اور آج دو نومبر2019 کے دن انجام کو پہنچا۔ مجھے آج بھی نومبر کا وہ دن یاد ہے جب ہمارا اس کالج میں پہلا دن تھا۔ ہم سے کالج کے پرنسپل اور وائس پرنسپل اور دیگر پروفیسروں کا تعارف کروایا گیا، آج جب ہم کالج کلیرنس کروانے گئے تو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پانچ سال کا سفر تو پلک جھپکتے ہی کہیں گزر گیا۔

کالج کے پہلے دن یہ احساسات تھے کہ یہ عرصہ کیسے گزرے گا، آج جب کالج میں جب آخری دن تھا تو یوں لگ رہا تھا کہ یہ پانچ سال اتنی جلدی گزر کیسے گئے؟

لیکن پانچ سال پہلے کے نومبر اور آج کے نومبر میں بڑا فرق ہے۔ نومبر2014  میں کوئی دوست نہیں تھا، اور نومبر2019  میں فیملی جیسے دوست ہیں، جو کہ زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

میڈیکل کالج کے پانچ سال ہوتے ہی ایسے ہیں، خوشیوں، لڑائیوں اور یادوں سے بھرپور۔ ہر دن کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو ساری عمر کے لیے یادوں کا حصہ بن جاتا ہے۔ 

کالج کے جھگڑے، روزانہ کی لڑائیاں، گروپنگ یہ تو پانچ سال ساتھ چلتے ہی رہتے ہیں، لیکن افسوس تب ہوتا جب آپ کو احساس ہوتا کہ آج کے دن کے بعد ایسا نہیں ہو گا۔ 

دوستوں کا اکٹھے باہر جانا، بنک مارنا، دوست کی غیر موجودگی میں اس کی جگہ رکھنا، لالہ کے کیفے میں اکٹھے ناشتہ کرنا، ڈھیر ساری پروکسی لگانا، کالج کے ٹورز اور فنکشن، یہ سب جو یادوں میں محفوظ ہو چکے ہیں، ان سب خوشیوں کا آج آخری دن تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کلاس (2014-2019)  عجیب ہے۔ اس کا ہر فرد دوسرے سے منفرد ہے۔ یہ کلاس مسلسل تین سال سے کلاس آف دی ایئر بنتی چلی آ رہی ہے۔ کالج کے ہر فنکشن میں یہ کلاس فل انرجی سے ساتھ حصہ لیتی رہی ہے تو وہی تعلیم میں بھی اس کلاس نے ہمیشہ اچھے رزلٹس دیے ہیں۔ یہ کلاس اگر لڑائیوں کی وجہ سے مشہور ہے تو اس کے سانجھا پن بھی قابل رشک ہے۔ 

ہم نے کھبی سوچا نہیں تھا کہ دو نومبر2014  سے شروع ہونے والا سفر جب دو نومبر2019  کو ختم ہو گا تو ہم اتنے اداس ہوں گے۔ یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان پانچ سالوں میں ایسے دوست ملیں گے جن کے بنا ہم رہنے کا سوچ بھی سکیں گے۔ ان کے ساتھ ایسی یادیں بنیں گی جو ساری زندگی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرتی رہیں گی۔

میڈیکل کالج کے ان پانچ سالوں میں کچھ افسردہ لمحات بھی آئے۔ کچھ بہت ہی اچھے دوست ساتھ چھوڑ گئے، کچھ نے راستہ بدل لیا۔ آج بھی ان کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ بیتے پل آج بھی یاد آتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اس کلاس کا حصہ رہیں گے۔ 

یہ پانچ سال کا سفر بہت ہی منفرد تھا، ہر جگہ اس کلاس نے اپنی وحدت برقرار رکھی۔ کچھ غلط فہمیاں بھی ہوئیں ہوں گی لیکن خوشیاں اور یادیں ان کا کسی نا کسی حد تک ازالہ کر ہی دیتی ہیں۔ 

ان پانچ سالوں میں بے شمار یادیں بنیں۔ کالج لان میں بیٹھ کر سارے معاملات حل کیے۔ فنکشن ارینج کیے۔ گویا اپنی طرف سے اس سفر کو خوبصورت بنانے کی ہر ممکن کوشش کی، میرے خیال میں ہم اس میں کچھ کامیاب بھی ٹھہرے۔
کالج کے آج آخری دن ہم سبھی پرانی باتوں کو یاد کر کے مسکرا رہے تھے وہی غمگین بھی تھے کہ ان دوستوں کے بنا چھٹا سال کیسے گزرے گا؟ کیا ہم دوبارہ ایسے اکٹھے ہوں گے، ایسا ہنسی مذاق کریں گے؟ ایک گروپ بنا کر ایک دوست کو ذلیل کریں گے؟ کیا ایک بندہ ہمیں ٹریٹ دیا کرے گا؟ جب بھی ان سوالوں کا سوچو تو اداسی کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور ان سوالوں کا جواب ابھی تک ہم ڈھونڈ سکے۔

کہتے ہیں کہ کالج کے دوست، ساری عمر آپ کا ساتھ نبھاتے ہیں۔ ہم سب پرامید ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سوچتے ہیں کہ جن کے ساتھ پانچ سال اکٹھے گزارے تھے، ان کے بنا اگلا سال کیسے گزرے گا، ہم سب سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں لیکن کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔ 

آج کالج کے آخری دن ہم سب دوست نہایت افسردہ تھے، وہ درد الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آج کالج کے آخری دن، جب سارے دوست باہر کھانا کھانے گئے تو ایک عجب سی خاموشی تھی، شاید یہ ساتھ چھوٹنے کا غم تھا۔ جب ہم ایک دوسرے کو گلے ملے تو آنسوؤں کی لڑی آنکھوں سے رواں تھی۔ شاید ہم اسی وجہ سے انسان ہیں کیونکہ ہم احساسات رکھتے ہیں۔ سب ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔ہم ہمیشہ یوں ہی ملتے رہیں گے۔ یادیں بناتے رہیں گے۔ 

کالج کی ان یادوں کا بوجھ بڑا وزنی ہے۔ ہمیں امید ہے ہم ان یادوں کو یونہی سنبھال رکھیں گے۔۔جب کبھی زندگی کوئی نیا راستہ اختیار بھی کریں۔ یہ یادیں ہماری ہمسفر رہیں گی اور ہمیں ہنساتی رہیں گی۔ 

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ کلاس 2014-2019 کو کامیاب کرے، ان سب کو اچھا ڈاکٹر بنائے، ان سب کے سارے خواب پورا کرے، ان کو زندگی کے ہر مقام پر ترقی دے اور ان کو ہر خوشی سے نوازے۔

(مضمون نگار یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور میں فائنل ائیر ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں، بلکہ تھے)

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس