پشاور: راہ چلتی کے ساتھ ’کال گرل‘ جیسا سلوک کیوں؟

پولیس کا کہنا ہے کہ ہر ماہ شہر میں خواتین کو تنگ کرنے کے تین چار واقعات ان کے علم میں آتے ہیں تاہم خواتین زیادہ تر ایسے واقعات کو رپورٹ نہیں کرتیں۔

خیبر پختونخوا کے گلی کوچوں اور بازاروں میں خواتین ویسے ہی کم دکھائی دیتی ہیں، اُس پر  ہراسانی کی وجہ سے یہ تعداد مزید کم ہو جاتی ہے۔(اے ایف پی)

’میں اس کو دیکھ کر تیز قدم اٹھانے لگی، لیکن وہ بدستور گاڑی میں میرا پیچھا کرتا رہا، راستہ تقریباً خالی تھا۔ جو اِکا دُکا لوگ تھے بھی وہ اس تماشے سے بیگانے نظر آرہے تھے۔ میں نے سفید چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ پیروں میں چپل اور لان کا ایک عام سا سوٹ پہنا ہوا تھا۔ بظاہر میرا حلیہ ایک عام گھریلو خاتون کا تھا۔ لیکن خدا جانے اس کو کہاں سے لگا کہ میں ایسی لڑکی ہوں جس کو پیشکش کی جا سکتی ہے۔ اس نے ڈرائیونگ سیٹ سے مجھے (موبائل) نمبر پکڑانے کی کوشش کی اور پھر کہنے لگا، جگہ ہے میرے پاس۔‘

’کیا !!! کیا کہا تم نے؟ صبر کرو ابھی تمہیں مزہ  چکھاتی ہوں۔ اس کی بے ہودہ بات سن کر مجھ میں نہ جانے کہاں سے اتنی ہمت آئی کہ میں نے فوراً اس کی گاڑی کا شیشہ توڑنے کا تہیہ کر لیا اور پھر جیسے ہی میں پتھر اٹھانے کے لیے جھکی، وہ رفو چکر ہوگیا۔ ‘

یہ کہانی پشاور کے ایک پوش علاقے میں رہنے والی نوجوان خاتون کی ہے۔ جنہوں نے پشاور کے گلی کوچوں اور بازاروں میں خواتین کے ساتھ ہونے والے واقعات پر اپنی ذاتی روداد انڈپینڈنٹ اردو کو سنائی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات اور واقعات میں شاید پشاور کوئی واحد شہر نہیں جہاں خواتین کو ایسے حالات کا سامنا ہے۔

لیکن انہیں حیرانی اس بات کی تھی کہ جب خواتین پشتون اقدار کا پاس رکھتے ہوئے ایسا لباس زیب تن کرتی ہیں جو عین پشتون معاشرے کے مزاج کے مطابق ہو تو پھر بھی گھر سے باہر ان کے ساتھ ایک ’کال گرل‘ کی طرح کا سلوک کیوں کیا جاتا ہے۔

پشاور کی ایک اور خاتون ش۔ب بتاتی ہیں کہ اس صوبے میں خواتین کا جینا پہلے بھی اتنا آسان نہیں رہا ہے لیکن ان کے خیال میں پہلے اس معاشرے میں کچھ اقدار تو تھیں جو کہ ان کے خیال میں اب روبہ زوال ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ہم خواتین سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ہم خود کو سو پردوں میں چھپا کر رکھیں۔ گھر سے نہ نکلیں۔ کبھی مذہب تو کبھی پشتون ولی کی آڑ لے کر خواتین پر ہر طرح کا جبر روا رکھا جاتا ہے۔ شاید ہمارے مسائل تمام پاکستان کی خواتین سے زیادہ منفرد اور گھمبیر ہیں۔‘

خواتین کے ساتھ گھر سے باہر پیش آنے والے ہراسانی کے واقعات سے متعلق ہم نے مختلف مکتبہ فکر اور شعبوں کی خواتین سے جب بات کی تو اکثریت نے انکشاف کیا کہ پشاور کا کوئی بھی علاقہ ہو، ایک اکیلی خاتون کو چلتے ہوئے ہر پانچ منٹ کے اندر کسی نہ کسی انداز سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ ان میں موبائل نمبر پھینکنا، جملے کسنا اور گھورنا سب سے عام ہے۔

ایک نوجوان خاتون ج- ر کا کہنا ہے کہ اکثر ٹیکسی ڈرائیور بھی اکیلی خاتون کو ایسی عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے انہیں کسی جسم فروش خاتون کا گمان ہو رہا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’دراصل اس صوبے میں ابھی تک یہ ذہنیت ہے کہ کوئی خاتون گھر سے اکیلی نہیں نکل سکتی۔ اگر اکیلی ہے تو ضرور کوئی چکر ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی موضوع کو لے کر بعض ٹیکسی ڈارئیور حضرات سے بھی بات ہوئی کیونکہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ جو ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیور ہیں یہ سب دیکھتے ہیں، سب جانتے ہیں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور شاہ زیب خان نے بتایا کہ انہیں دو جسم فروش خواتین نے درخواست کی تھی کہ رات کو انہیں مختلف مقامات پر لے جایا کریں۔ ’اس کام کے لیے وہ مجھے ہر رات ڈھائی ہزار روپے دینے کے لیے تیار تھیں۔ میں شاید یہ پیشکش قبول نہ کرتا لیکن مجھے تجسس نے گھیر لیا کیونکہ میں خود بھی ان کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ بہت جلد مجھے علم ہوا کہ ان لوگوں کی زندگی کس طرح ہوتی ہے اور ان کو ہائر کرنے والے لوگوں میں کس قسم کے لوگ شامل ہیں۔‘

ایک نوجوان نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’جسم فروش خواتین کے شکاری مرد عام خواتین پر بھی کال گرل کا گمان کرلیتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ایک تو یہ دھندہ بہت عام ہے اور دوسری بات یہ کہ جسم فروش خواتین بھی اکثر عام خواتین کی طرح لباس پہنتی ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ عام گھریلو خواتین بھی اس کی زد میں آگئی ہیں اور ان کا گھر سے نکلنا مشکل  ہوگیا ہے۔

پشاور میں واقع ایک غیر سرکاری ادارے  نے جسم فروشی کے حوالے سے ڈیٹا شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق پشاور میں صرف 18 سال سے کم عمر جسم فروش لڑکیوں کی تعداد 500 سے زائد ہے، تاہم ادارے کے مطابق انہوں نے اس پر مزید تحقیق اس لیے چھوڑ دی کہ سرکاری ادارے انہیں سماجی مسائل پر ڈیٹا فراہم کرنے پر تنگ کرتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان اداروں کے مطابق ایسا ڈیٹا دینے سے ملک اور صوبے کی بدنامی ہوتی ہے۔

جب اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے ایک معروف سماجی کارکن قمر نسیم سے بات کی گئی تو انہوں نے بھی اس کی تائید میں کہا کہ جب بھی کسی سماجی مسئلے کو اجاگر نہیں کیا جاتا، اس پر ریسرچ نہیں ہوتی تو اس سے دوسرے سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس وقت خیبر پختونخوا میں ایک بھی ایسی تنظیم نہیں ہے جو جسم فروشی پر ڈیٹا فراہم کرے، سیکس ورکرز کے مسائل پر بات کرے، انہیں تحفظ فراہم کر سکے اور نہ صرف جسم فروشی کی وجہ سے پیدا ہونے والے دوسرے مسائل کو اجاگر کرسکے بلکہ اس رحجان کے بڑھنے کے اصل محرکات پر ریسرچ کر سکے۔ اس سے یہ ہوگا کہ حکومت ان مسائل پر ایکشن لے کر ٹھوس اقدامات کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین