والد کی نافرمانی پر طالبان کے ہاتھوں نوجوان ہلاک

وزیرستان کے محمد ایوب اپنے بیٹے کو طالبان کے پاس نصیحت کروانے  لے کر گئے تھے کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرے۔

 یہ قتل 35 سال سے موجود ایک ایسے مدرسے کے طلبہ نے کیا جسے افغان مولوی مولانا آغا جان چلا رہے ہیں اور حکومت پاکستان کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔(اے ایف پی/فائل فوٹو)

ضلع جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں افغانستان کے رہائشی آغا جان کے ایک اسلامی مدرسے میں داڑھیاں اور لمبے لمبے بال رکھنے والے طلبہ نے ایک 16 سالہ لڑکے پر تشدد کرکے ہلاک کر دیا ہے۔ پولیس نے مدرسے پر چھاپہ مار کر چھ ملزمان کو مبینہ طور پر گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔

پولیس ایس ایچ او عثمان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وانا بازار سے کوئی تین کلومیٹر دور وچہ خوڑ میں یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب افغانستان سے تعلق رکھنے والے محمد ایوب نامی اپنے بیٹے کو مدرسے کے طالبان کے پاس لے گئے اور کہا کہ اسے نصیحت کریں کہ یہ والدین کی نافرمانی نہ کرے اور والدین جو بات بتائیں اس پر عمل کرے۔

مدرسے کے طالبان نے والد کے سامنے ان کے بیٹے عصمت اللہ عرف بٹ شنواری سے کہا کہ وہ والدین کی نافرمانی نہ کریں ورنہ ان کو سزا دی جائے گی۔ عصمت اللہ نے طالبان کو جواب دیا کہ وہ اس نصیحت کے بغیر بھی والدین کی قدر کرتے ہیں وہ نافرمان نہیں ہیں اور انہیں خود اس کا احساس ہے۔

پولیس کے مطابق اس دوران اسلامی مدرسے سے دونوں باپ بیٹا گھر کی طرف لوٹ گئے۔ باپ گھر کے اندر چلا گیا اور بیٹا گھر سے کچھ فاصلے پر ایک بارانی نالے میں دھوپ سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ مذکورہ مدرسے کے مسلح طالبان پہنچ گئے اور لڑکے کو کلاشنکوف کے بٹوں سے مارنا شروع کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تم اپنے والد کے نافرمان ہو اور ہماری بات بھی نہیں مانتے۔ لڑکے کو شدید زد و کوب کرنے کے بعد مسلح طالبان واپس مدرسے میں چلے گئے اور لڑکے کو زخمی حالت میں وہاں چھوڑ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شنواری کے مطابق دن دو بجے طالبان نے ان کے بیٹے کو مارا تھا اور وہ چھ بجے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ بہت زیادہ افسردہ ہیں اور ان کو دکھ پہنچا ہے کہ طالبان نے ان کے بیٹے کو ہلاک کر دیا ہے۔‘ عصمت اللہ کے والد محمد ایوب شنواری نے بتایا کہ ’وہ طالبان کے پاس لڑکے کو صرف نصیحت کروانے لے گئے تھے، ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ انہیں جان ہی سے مار ڈالیں۔‘

اس واقعے کے بعد ایس ایچ او عثمان کی سربراہی میں پولیس کی بھاری نفری نے مدرسے پر چھاپہ مارا اور مبینہ طور پر قتل کے اس واقعے میں ملوث چھ ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا تاہم ایک ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

پولیس نے ملزمان سے تفتیش شروع کر دی ہے۔  گرفتار ہونے والے ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ فرار ہونے والا ملزم افغانستان سے مہمان آیا تھا جس کا تعلق مسلح شدت پسند طالبان سے بتایا جاتا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والے ملوث ملزمان کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے اور ہلاک ہونے والا بھی شنواری قومیت کا افغانی شہری لڑکا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ مدرسے میں پڑھنے والے طلبہ کے افغان جنگجو طالبان سے گہرے رابطے ہیں اور اس مدرسے سے فارغ ہونے والے اکثر طلبہ جنگجو طالبان میں شامل ہوتے ہیں۔

 پولیس کی جانب سے جاری ہونے والے گرفتار ملزمان کی تصویروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مدرسے میں پڑھنے والے نوجوان مدرسے کے طلبہ کم اور جنگجو زیادہ نظر آ رہے  ہیں۔ گرفتار ہونے والے تمام ملزمان کی داڑھیاں اورلمبے لمبے بال بھی جنگجو طالبان جیسے لگ رہے ہیں۔

مقامی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ مدرسہ 35 سال سے ایک افغان مولوی مولانا آغا جان چلا رہے ہیں اور اس کا حکومت پاکستان کے پاس کوئی ریکارڈ نہیں اور یہ بغیر کسی رجسٹریشن کے چل رہا ہے۔

ایک سرکاری افسر کے مطابق اس مدرسے میں 260 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں اور تمام کے تمام کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدرسے کے اردگرد تین سو سے زیادہ گھروں میں آفغان مہاجرین آباد ہیں جن کو مقامی لوگوں نے کرائے پر مکانات دے رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وانا میں آباد افغان مہاجرین صرف وانا میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں کاروبار کرتے چلے آ رہے ہیں اور افغان انقلاب کے بعد یہاں آباد ہو گئے ہیں۔

اس واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے کئی سوال اُٹھا دئیے ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ 35 سال سے کیسے ایک غیر ملکی اسلامی مدرسہ پاکستان کے اندر چل رہا ہے؟  دوسرا یہ کہ ایک اسلامی مدرسے میں اسلحہ کہاں سے آ گیا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ والد اپنے بیٹے کو نصیحت کے لیے کیوں طالبان کے پاس کیوں لے گئے؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ  طالبان کا خوف لوگوں کے ذہنوں میں اب بھی بدستور موجود ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ قبائلی اضلاع میں اس جیسے کئی اسلامی مدرسے موجود ہیں جن میں صرف افغانستان سے تعلق رکھنے والے طلب علم تعلیم حاصل کرتے ہیں اوراساتذہ بھی افغانستان سے بتائے جاتے ہیں، جن کا حکومت پاکستان کے پاس کنٹرول تو درکنار، کوئی ریکارڈ تک نہیں ہے۔   

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان