قانون سازی بذریعہ صدارتی فرامین

حکومتی وزرا اس صورت حال کا الزام حزب اختلاف پر لگاتے ہیں جبکہ اپوزیشن حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت بین بین ہے۔ اقتدار میں آتے ہی حزبِ ایوان نے مخالف پارٹیوں کے ساتھ جو معاندانہ رویہ روا رکھا ہے اس کی مثال خال خال ہی ملتی ہے۔

جب حکمران جماعت کے پاس پارلیمان میں قابل اعتماد اکثریت نہیں ہوتی تو دفعہ 89 کا سہارا لینا عام ہو جاتا ہے۔  (تصویر:قومی اسمبلی فیس بک پیج)

نوآبادیاتی آقاؤں کی لاتعداد علتوں میں سے ایک، جسے ہمارے نظام نے دل کھول کر تحفظ فراہم کیا ہے، وہ انتظامیہ کو پارلیمان کی جگہ صدارتی فرامین کے ذریعہ قانون سازی کرنے کا اختیار ہے۔

اس اختیار کے استعمال کی دو بنیادی شرائط ہیں۔ اولاً قومی اسمبلی اجلاس میں نہ ہو اور ثانیاً صدر مطمئن ہوں کہ حالات ایسے ہیں کہ فرمان کا اجرا ناگزیر ہے۔ آئین کی دفعہ 89 نے صدر کو اتنی بڑی صوابدید ودعیت کرتے ہوئے اس کا استعمال صرف کسی ایسی ہنگامی صورت حال تک محدود رکھا ہے جہاں مطمع نظر واضع طور پر عوامی مفاد ہو۔ تاہم اگر ماضی میں جاری کردہ صدارتی فرامین کا جائزہ لیا جائے تو اس طرح کی ہنگامی صورت حال شاذ و نادر ہی پیدا ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس دفعہ کا استعمال زیادہ تر بدمعاملگی پر ہی مبنی رہا ہے۔

اکثر متنازع قانون سازی یا اپوزیشن جماعتوں اور بعض اوقات اپنے ہی حلیفوں کو قائل کرنے کی مشکلات سے بچنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب حکمران جماعت کے پاس پارلیمان میں قابلِ اعتماد اکثریت نہیں ہوتی تو دفعہ 89 کا سہارا لینا عام ہو جاتا ہے۔ آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی بدترین مثال اُس وقت سامنے آتی ہے جب مقصد صرف ایک طبقے خصوصاً حکمران جماعت کو فائدہ دینا یا مخالف جماعتوں کو نشانہ بنانا ہو۔

مذکورہ بالا فہرست میں سے کوئی بھی یا تمام وجوہات حکومت وقت کی اُن کوششوں کے پیچھے کارفرما ہوسکتی ہیں جن کا مشاہدہ حال ہی میں کیا گیا۔ اس ماہ کے شروع میں حکومتی پارٹی نے نو صدارتی فرامین قوانین کی صورت میں پارلیمنٹ سے منظور کروائے۔ اس کے علاوہ پہلے سے جاری کردہ تین آرڈیننس کی مدت میں مزید چار ماہ کے لیے توسیع بھی کروائی گئی۔ یہ تمام کارروائی اپوزیشن کے سخت احتجاج کے دوران انتہائی عجلت میں کی گئی۔ مذکورہ اجلاس کے صدر، ایوان کے نائب سپیکر نے اپوزیشن ارکان کی ایک نہ سنی اور انہیں مجوّزہ قوانین پر رائے زنی کے بنیادی حق سے محروم رکھا۔ صدارتی فرمان کا متنازع راستہ اختیار کرکے حکران جماعت نے صریحاً پارلیمنٹ کا حقِ قانون سازی پامال کیا۔

ان نو فرامین میں قومی اہمیت اور دور رس نتائج کے حامل قوانین، جیسے کہ قانونِ احتساب میں ترامیم، تحفظ مخبر درون خانہ، بےنامی بیوپار، جائیداد سے متعلق حقوق نسواں اور پاکستان میڈیکل کمیشن بل وغیرہ شامل تھے۔ سب سے اہم اور متنازع آرڈیننس قومی احتساب کے قانون میں مجوزہ ترامیم کا بل تھا جس کے تحت پانچ کروڑ روپے یا اُس سے زائد کی بدعنوانی کے الزام میں ملوث قیدی کو جیل میں صرف ’سی کلاس‘ ملے گی۔ قدرتی طور پر حزب اختلاف یہ سمجھتی ہے کہ یہ آرڈیننس ان کے رہنماؤں کو، جو اس وقت پابند سلاسل ہیں، براہ راست نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

حکومتی ہتھکنڈوں سے مجبور ہو کر بالآخر حزبِ اختلاف نے اپنے آئینی مطالبات منوانے کے لیے ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی۔ نتیجتاً حکومت نے تمام آرڈیننس واپس لے لیے ہیں۔ اب متعلقہ کمیٹیاں مجوزہ بلوں پر بحث کرنے کی مجاز ہوں گی جس کے بعد قواعد و ضوابط کے تحت قوانین پارلیمان میں پیش کیے جائیں گے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر حکومتی جماعت شروع سے ہی یہ اصولی طریقہ اپنا لیتی لیکن اتنی فہم و فراست اقتدار کے ایوانوں میں دستیاب ہوتی تو آج عوام کی زندگی اتنی تلخ نہ ہوتی! 

اسمبلی میں اس طرح کی متنازع روش نے ایوان میں موجود حکومتی پارٹیوں کے نمائندگان کی قانون سازی کرنے کی صلاحیت پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ اگست 2018 میں معرض وجود میں آنے کے بعد سے اسمبلی میں ہمارے بیشتر مقنّنین نے حزب اختلاف کو دھمکیاں دینے اور اپنے ہر دلعزیز وزیر اعظم کے دفاع میں گلا پھاڑ پھاڑ کر لمبے چوڑے اور بے تکے بیانات دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ وہ پچھلے حکمرانوں کو بدعنوان ثابت کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں صبح و شام مصروف نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر حکمران جماعت کے چند نا پختہ و حواس باختہ ممبران کے بے سرو پا اور منطق سے عاری بیانات کی وجہ سے ایوان کا ماحول کشیدگی کا شکار ہے۔

مخالف پارٹیوں کے ممبران کا رویہ بھی کوئی زیادہ قابلِ ستائش نہیں ہے۔  ان پیچیدگیوں کی وجہ سے پارلیمان کےدونوں ایوانوں میں ابھی تک  کوئی خردمندانہ و پُرمغز بحث دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ ایوان میں ہر روز کثیر تعداد میں کرسیاں خالی دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کورم ہی پورا نہیں ہوتا۔ ان غیر سنجیدہ حالات میں قانون سازی کا ترجیحی طریقہ شومئی قسمت سے آرڈیننس ہی رہ جاتا ہے۔

لیکن پی ٹی آئی کے رہبرِ اعلیٰ کے قانون سازی کے بارے میں جیّد خیالات سن کر پارٹی کی ترجیحات پر حیران ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ گذشتہ دسمبر میں اپنے ایک شاندار بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے یہ کہہ کر کہ پارلیمنٹ میں حکمران جماعت کی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کی جائے گی، آرٹیکل 89 کی شرائط میں ایک مضحکہ خیز شرط کا اضافہ کر دیا۔ پارلیمانی لیڈر کے اس انوکھے بیان نے نہ صرف آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائیں بلکہ پارلیمنٹ کی توہین کا سامان بھی مہیا کیا۔ اسمبلی میں حالیہ واقعات اسی مطلق العنان اور ناعاقبت اندیش سوچ کے عکاس ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انصاف پسندی کے تقاضوں کے پیشِ نظر یہاں پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کی حکومت پہلی حکومت نہیں ہے جس نے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کا وطیرہ اپنایا ہے۔ پچھلی حکومتوں نے بھی یہ آسان رستہ اختیار کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھی۔ مشرف دور میں بارھویں قومی اسمبلی کی مدت کے دوران 121 صدارتی فرامین جاری کیے گئے جبکہ پارلیمنٹ نے صرف 50 قوانین بنائے۔ اس کے برعکس ہندوستان میں 2015-2009 کے دوران پندرھویں پارلیمنٹ نے 179 قوانین بنائے جبکہ صرف 25 صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے۔ چندے بہتری کے باوجود 2013-2008 اور 2018-2013 کی اسمبلیوں میں بھی آرڈیننس کے ذریعے پارلیمان کی قانون سازی کا حق سلب کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔ جولائی 2018 کے عام انتخابات کے بعد پہلے پارلیمانی سال میں پارلیمنٹ نے فقط سات بل منظور کیے جب کہ اتنے ہی صدارتی آرڈیننس جاری کیے گئے جس سے حکومت کی قانون سازی میں غیر سنجیدگی کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ۔

حکومتی وزرا اس صورت حال کا الزام حزب اختلاف پر لگاتے ہیں جبکہ اپوزیشن حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ حقیقت بین بین ہے۔ اقتدار میں آتے ہی حزبِ ایوان نے مخالف پارٹیوں کے ساتھ جو معاندانہ رویہ روا رکھا ہے اس کی مثال خال خال ہی ملتی ہے۔ اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے کوتاہ راہی کا رستہ اپنانے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ پارلیمان میں جمہوری روایات کو فروغ دے تاکہ منتخب نمائندے ایوان میں عوام کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔ بلا شبہ قانون سازی ایک سست رو عمل ہے۔ عجلت میں بنائے گئے قوانین میں اکثر نقائص پائے جاتے ہیں لیکن پارلیمان کی کمیٹیوں میں بحث مباحثے کے بعد منظور شدہ قوانین زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔

 جمہوریت کا تقاضا ہے کہ بہتر طریقے سے قانون سازی کی خاطر حکومت ایوانِ بالا میں دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھائے اور اگر ضرورت ہو تو مجوزہ قانونی مسودوں میں ردوبدل کرے تاکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیے قابل قبول بنایا جا سکے۔ پاکستان جیسے وفاق میں دونوں ایوانوں میں اتفاقِ رائے ہونے سے وفاق کو تقویت ملے گی۔ اپوزیشن کو بھی قانون سازی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے خاص طور جہاں موضوع عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ہوں۔ حکومت کی طرف سے پیش کردہ تمام مسودات کو ہمیشہ منفی نظر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جمہوری روایات کے فروغ اور قانون سازی میں ہمہ گیر شمولیت کے لیے آئین میں سے دفعہ 89 کو نکالنا لازم ہے۔ اس سے سیاسی جماعتوں میں ہم آہنگی اور برداشت کی اہم خصوصیات فروغ پائیں گی۔ پاکستان میں ایسی صورت حال نہیں ہے کہ معمول کے قوانین سے نمٹائی نہ جاسکے اور اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو بھی جاتی ہے تو دیگر ممالک کی طرح پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانا ناممکن نہیں ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروی ہے کہ پالیسی پر عمل درآمد کے تمام لوازمات قائم رہیں اور سیاستدانوں اور سرکاری اداروں کو ان کی ریخت و تاراج کا موقع نہ ملے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ