جعلی اکاؤنٹس بنانے والوں نے پارٹی اکاؤنٹس کو ’بے نامی‘ پیسے کا وسیلہ بنادیا: افتخار درانی

وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے مطالبات اور دعوؤں کے جواب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹس کی کچھ تفصیلات شیئر کردیں۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی  (تصویر: افتخار درانی ٹوئٹر اکاؤنٹ)

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف الیکشن کمیشن میں دائر فارن فنڈنگ کیس اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کی جانب سے کیس کی جلد از جلد سماعت کے مطالبے اور دعوؤں کے جواب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے پارٹی اکاؤنٹس کی کچھ تفصیلات شیئر کردیں۔

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر نے پارٹی میں اندرونی کرپشن اور سیاسی فنڈنگ سے متعلق قوانین کے غلط استعمال پر 2014 میں چیئرمین عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن میں غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق کیس دائر کیا تھا۔

اپنی درخواست میں اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا تھا کہ  پی ٹی آئی کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز آف شور کمپنیوں کے ذریعے جمع کیے گئے اور انہیں ’ہنڈی‘ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجا گیا جب کہ ان اکاؤنٹس کو الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹس میں بھی مخفی رکھا گیا۔

گذشتہ دنوں انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں اکبر ایس بابر نے بتایا تھا کہ ’فارن فنڈنگ کا معاملہ 2011 میں سامنے آنے کے بعد ہم نے کوشش کی کہ پارٹی کے اندر جسٹس وجیہہ الدین احمد کی سربراہی میں ایک کمیٹی اس کی تحقیق کرے۔ میرے الزامات تھے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرپشن میں ملوث ہے۔ لیکن اس سلسلے میں پارٹی کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا جس کے بعد میں نے نومبر 2014 میں یہ کیس دائر کیا۔ اس کیس میں مجھے چار سال لگے اور الیکشن کمیشن نے 24 حکم نامے جاری کیے جن میں تحریک انصاف کو مالی معاملات کی تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کیس کئی سال سے زیرِ التوا ہے۔ اکبر ایس بابر کہتے ہیں کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو ہی اس کیس کا فیصلہ کرنا چاہیے کیوں کہ وہ پانچ سال سے اس کیس کو دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب دو روز قبل اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ جس پر  الیکشن کمیشن نے ہدایت کی تھی کہ اسکروٹنی کمیٹی فارن فنڈنگ کیس کو جلد نمٹائے۔

اسی تناظر میں وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے آج ایک ٹویٹ کی، جس میں مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے رہبر کمیٹی کو ’رہزن کمیٹی‘ کے نام سے پکارا اور لکھا: ’ تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کے مقدمے کی حقیقت کیا ہے اور رہزن کمیٹی کے دعوؤں میں کتنی صداقت ہے، حنیف عباسی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے کی روشنی میں خود دیکھ لیجیے۔ فیصلے کا متن حاضر ہے!‘

حنیف عباسی کے کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ پی پی او کے آرٹیکل (3)6 اور آئین کے آرٹیکل (3) 17 کے تحت کسی سیاسی جماعت کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کرے۔

افتخار درانی نے ایک اور ٹویٹ بھی کی، جس میں انہوں نے حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں  مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی  کے اکاؤنٹس کی کچھ تفصیلات شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’قومی خزانے پر نقب زنی کرکے جعلی اکاؤنٹس کا جال بننے والے بھلا پارٹی اکاؤنٹس کے ذریعے چوری کا پیسہ ٹھکانے لگانے کا موقع کیسے ضائع کرسکتے تھے۔جعلی اکاؤنٹس کی طرح انہوں نے یہاں بھی قوم کو مایوس نہیں کیا اور  پارٹی اکاؤنٹس کو ’بے نامی‘ پیسے کی ریل پیل کا وسیلہ بنا چھوڑا۔ تفصیلات پیش خدمت ہیں!‘

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فرخ حبیب نے بھی الیکشن کمیشن میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر امریکا اور برطانیہ سے غیرقانونی فنڈنگ حاصل کرنے کے الزام کے تحت درخواست دائر کر رکھی ہے، جس پر الیکشن کمیشن کی جانب سے دونوں جماعتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے نمائندوں کو 26 اکتوبر کو علیحدہ علیحدہ الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان