’تاریخ کی سب سے بڑی چوری‘: چور کیا کیا لے گئے؟

جرمنی کے ڈریسڈن عجائب گھر میں ہونے والی چوری کو تاریخ میں نوادرات کی ’سب سے بڑی چوری‘ کہا جا رہا ہے جس میں چور ایک ارب یورو تک کے قدیم زیورات لے اڑے۔

پولیس عجائب گھر کی عمارت سیل کر کے پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا کیا چوری ہوا ہے (اے ایف پی)

جرمنی کے ڈریسڈن عجائب گھر میں ہونے والی چوری کو تاریخ میں نوادرات کی ’سب سے بڑی چوری‘ کہا جا رہا ہے جس میں چور ایک ارب یورو تک کے قدیم زیورات لے اڑے۔

جرمن اخبار بلڈ (Bild) کے مطابق چوروں نے پیر کو علی الصبح ڈریسڈن گرین والٹ عجائب گھر کی بجلی کاٹ دی۔ اخبار نے کسی ذریعے کا حوالہ دیے بغیر کہا ہے کہ چور کھڑکی کے راستے عجائب گھر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

پولیس عجائب گھر کی عمارت سیل کر کے پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا کیا چوری ہوا ہے۔ ترجمان مارکولاسکے نے کہا: ’ہم نے کسی چور کو شناخت نہیں کیا اور نہ ہی اب تک کسی کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

چوری شدہ نوادرات کی مالیت 50 کروڑ یورو (42 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ) سے زیادہ پائی گئی تو تاریخ میں یہ نودرات کی سب سے بڑی چوری ہوگی۔

مشتبہ افراد کار میں سوار ہو کر جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے تاہم سی سی ٹی وی کیمرے نے ان کی ریکارڈنگ کر لی ہے۔

جرمن اخبار نے لکھا ہے کہ چوروں نے زیادہ تر زیورات، ہیرے اور جواہرات چوری کیے جبکہ گلدانوں اور پینٹینگز جیسی بڑی اشیا چھوڑ دیں۔ اخبار نے مشتبہ افراد کو ’واضح طور پر چھوٹے لوگ‘ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خیال کیا جا رہا ہے کہ عجائب گھر کے قریب واقع آگسٹس پل پر آدھی رات کو لگنے والی آگ بجلی کی بندش سے جڑی ہوئی ہے۔

جرمن ریاست سیکسونی کے وزیراعظم میکائل کریشمیر نے کہا ہے کہ چوری کی واردات پوری ریاست کے لیے دھچکہ ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’صرف آرٹ کا ریاستی خزانہ نہیں لوٹا گیا بلکہ ہم سیکسونی کے مکینوں کو لوٹا گیا ہے۔ عجائب گھر کے بغیر سیکسن باشندوں کو نہیں سمجھا جا سکتا۔‘

جرمن وزیر داخلہ رولینڈ ووئلر نے رپورٹروں کو بتایا کہ ’یہ جرمنوں کے ثقافتی ورثے کے لیے تلخ دن ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پولیس مقدمے کی تحقیقات کے لیے پہلے ہی ٹیم تشکیل دے چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ثقافتی خزانہ واپس لانے اور چوروں کو پکڑنے کے لیے ہم سے جو بن پڑا کریں گے۔‘

عجائب گھر میں موجود نوادرات جرمنی کے علاقے سیکسونی کے شہزادے اگست دا سٹرونگ نے ایک جگہ اکٹھے تھے۔ یہ شہزادہ بعد میں پولینڈ کا بادشاہ بنا۔

عجائب گھر کے سب سے زیادہ مقبول نوادرات میں 41 قیراط ڈریسڈن کا ’سبز رنگ کا ہیرا‘ شامل ہے جو چوری کے وقت وہاں موجود نہیں تھا۔ یہ ہیرا نیویارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ کو ادھار دیا گیا ہے۔

ڈریسڈن عجائب گھر کے دوسرے نوادرات میں میز جتنا 18ویں صدی کے ہندوستانی شاہی دربار کا مجسمہ شامل ہے جو سونے، چاندی، انیمل قیمتی پتھروں اور موتیوں سے تیار کیا گیا ہے۔

1701 کے زمانے کا ایک کافی سیٹ بھی نوادرات میں شامل ہے جو شاہی جیولر جوہن میلچیور کی ملکیت تھا۔ سیٹ کے برتن آرام کرتے ننھے فرشتوں کی تصاویر سے مزین ہیں۔

گرین والٹ کا عجائب گھر دوسری عالمی جنگ میں اتحادی طیاروں کی بمباری میں محفوظ رہا لیکن سوویت فوج نے اسے جنگ میں ہاتھ لگنے والا مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا۔ 1958 میں سوویت حکومت نے لوٹے گئے نوادرات ریاست سیکسونی تاریخی دارالحکومت ڈریسڈن کے عجائب گھر کو واپس کر دیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ