مریخ کے پتھر اب زمین پر آئیں گے

اس پیچیدہ سفر کو ’مریخ سیمپل ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد مریخ سے آدھا کلو وزنی پتھر واپس زمین پر لانا ہوگا۔

کار جتنے حجم کی یہ گاڑی جیزیرو کریٹر نامی قدیم دریا کے قریب مریخ کے شمالی حصے میں اتاری جائے گی۔ (تصویر:ناسا/ جے پی ایل- کال ٹیک)

ناسا اور یورپی سپیس ایجنسی (ای ایس اے) کے درمیان ایک مشترکہ منصوبے کے تحت مریخ کے پتھر زمین پر لانے کے لیے ایک خلائی گاڑی بھیجے جانے کا فیصلہ زیرِ غور ہے۔

سات ارب ڈالر لاگت کے اس منصوبے کو ناسا حکام کی حمایت حاصل ہو چکی ہے اور رواں ہفتے ای ایس اے کے رکن ممالک کی بھی اس منصوبے پر اپنی رائے دینے کا امکان ہے۔ اس پیچیدہ سفر کو ’مریخ سیمپل ریٹرن‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد مریخ سے آدھا کلو وزنی پتھر واپس زمین پر لانا ہوگا۔ اس منصوبے کے طوالت دس سال ہو گی۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ مشکل ترین کوشش صرف اسی صورت میں فائدہ دے سکتی ہے اگر مریخ کے کچھ مخصوص حصوں سے تفصیلی جائزہ حاصل کرنے کے لیے پتھر زمین پر لائے جائیں۔ اس تجزیے سے یہ اخذ کرنے میں مدد ملے گی کہ کیا ماضی میں مریخ پر زندگی پائی جاتی تھی یا نہیں۔ اس منصوبے پر عمل کے لیے کم سے کم تین بھاری راکٹس زمین سے لانچ کیے جائیں گے، اس کے علاوہ دوسرے سیارے سے بھی تاریخ میں پہلی بار راکٹ لانچ کیا جائے گا جس کا مقصد مریخ سے حاصل کیے گئے پتھروں کو زمین پر واپس لانا ہوگا۔

کیلی فورنیا میں واقع ناسا جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے صف اول ایم ایس آر منصوبہ ساز برائن میوری ہیڈ نے سائنس میگزین کو بتایا: ’یہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کسی انسان کو خلا میں بھیجا جانا۔‘ زندگی کے ارتقا سے متعلق پتھروں کے استعمال کے علاوہ ماہرینِ ارضیات اس بات کو بھی جاننے کی کوشش کریں گے کہ سرخ سیارے پر ماضی میں ماحول کیا تھا اور اس کی سطح پر پانی بھی موجود تھا جیسے کہ زمین پر ہے۔ یہ سارا منصوبہ مریخ پر موجود 2020 روور مشن کے ساتھ کام کرے گا جو جولائی میں لانچ کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کار جتنے حجم کی یہ گاڑی جیزیرو کریٹر نامی قدیم دریا کے قریب مریخ کے شمالی حصے میں اتاری جائے گی۔ ایک اندازے کے مطابق یہ دریا چار ارب سال پرانا ہے۔

چھ پہیوں والی یہ گاڑی جدید سازوسامان سے لیس ہوگی۔ یہ گاڑی اس خطے کی چٹانوں پر سرخ سیارے پر مقیم خلائی جرثوموں کی موجودگی کا جائزہ لے گی جو کسی زمانے میں یہاں پائے جاتے تھے۔ مریخ سیمپل ریٹرن منصوبے کے تحت یہ گاڑی چٹانوں میں کھدائی بھی کرے گی جہاں تحقیقی مقاصد کے لیے ٹیوبز دفنائی جائیں گی جو کہ بعد میں وہاں سے نکالی بھی جا سکتی ہیں۔

2028 میں ایک اور گاڑی بھیجی جائے گی جو ان سیمپلز کو ڈھونڈ کر انہیں ایک راکٹ میں لوڈ کرے گی۔ جس کے بعد یہ راکٹ مریخ کی سطح سے لانچ کیا جائے گا جو کہ زمین کے مدار میں سیٹلائٹ کے ذریعے چھوڑا جائے گا۔ یہ سیمپلز امریکی ریاست اوٹاہ کے صحرائی حصے میں 2031 میں گرائے جائیں گے۔ منصوبے پر یورپی سپیس ایجنسی کی جانب سے دس سال کے دوران دیڑھ ارب پاؤنڈ یعنی ایک ارب 29 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس