’یونیورسٹی میں عبایا اور شلوار قمیض پہنیں ورنہ جرمانہ ہوگا‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرکاری یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کو مخصوص لباس نہ پہننے پر جرمانے اور کلاس سے نکالنے کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

(اے جے کے یونیورسٹی ویب سائٹ)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی نے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ یونیورسٹی کے مقررہ ڈریس کوڈ کے مطابق لباس نہ پہننے کی صورت میں انہیں نہ صرف کلاس میں نہیں بیٹھنے دیا جائے گا بلکہ جرمانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔

'یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر‘ کے شعبہ کیمسٹری کی جانب سے جاری ایک نوٹس میں اس شعبہ کے طلبہ کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ یونیورسٹی کے ڈریس کوڈ کی سختی سے پابندی کریں۔

نوٹس میں طالبات کو سر ڈھانپنے اور عبایا پہننے جبکہ دیگر طلبہ کو شلوار قمیض، ڈریس پینٹ اور شرٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم ان ملبوسات کے کسی خاص رنگ یا ڈیزاین کا تعین نہیں کیا گیا۔ اس ڈریس کوڈ کا اطلاق اسی ہفتے شروع ہونے والے سیمسٹر سے ہو گا۔

شعبہ کیمسٹری کے نوٹس بورڈ پر آویزاں ہدایت نامے میں درج ہے کہ: ’اسلامی اقدار کے تابع بنائے گئے یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کے قوانین کے مطابق طلبہ کو ڈریس کوڈ کی پابندی کرنا لازمی ہو گی۔‘

طلبہ و طالبات کو خبردار کیا گیا ہے کہ ’سیمسٹر نومبر 2019 سے ڈریس کوڈ کی باپندی نہ کرنے کی صورت میں روزانہ کی بنیاد پر جرمانہ کے علاوہ کلاس/ ڈیپارٹمنٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہ ہو گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر کی رجسٹرار ڈاکٹر عائشہ سہیل نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس نوٹس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ نوٹس محض ایک ڈریس کوڈ ہے صرف کیمسٹری شعبہ کے سربراہ نے جاری کیا ہے۔‘ 

اس سوال پر کہ کیا ڈریس کوڈ کا اطلاق اساتذہ پر بھی ہو گا؟  ان کا جواب نفی میں تھا۔

ڈاکٹر عائشہ نے ’مصروفیات‘ کی وجہ سے مزید کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا تاہم یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر طاہر راٹھور کے بقول یہ ڈریس کوڈ 2011 میں یونیورسٹی کی سینڈیکٹ سے منظور شدہ ہے اور یونیورسٹی کے پراسپکٹس میں تفصیلی اندراج کے علاوہ اسے ہر سال نوٹس بورڈ پر بھی آویزاں کیا جاتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اس ڈریس کوڈ پر اس سے پہلے بھی عمل ہوتا رہا ہے، طاہر راٹھور نےکہا کہ، ’اس طرح کی ہدایات پر عمل کروانا صرف یونیورسٹی کے اختیار میں نہیں۔ اس میں والدین اور معاشرے کا تعاون بھی چاہیے ہوتا ہے۔‘

تاہم یونیورسٹی کے طلبہ کا ایک گروپ طاہر راٹھور سے متفق نہیں۔ ان کے بقول اس سے قبل یونیورسٹی نے کبھی طلبہ و طالبات کو کوئی مخصوص لباس پہننے یا حلیہ اختیار کرنے کی ہدایت نہیں کی۔ ان کے بقول ’معاشرتی یا مذہبی اقدار‘ کے نام پر کوئی مخصوص لباس پہننے پر مجبور کرنا طلبہ و طالبات کے حقوق سے متصادم ہے۔

’کسی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ کیا پہنے اور کیسا حلیہ اختیار کرے۔‘

شعبہ قانون کی ایک طالبہ نے بتایا کہ یونیورسٹی میں زیادہ تر طالبات اپنی مرضی سے عبایا، روائتی کشمیری گاؤن، سکارف، چارد یا حجاب پہنتی ہیں۔ تاہم انہیں مجبور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کوئی مخصوص لباس پہنیں۔

’آج تک یونیورسٹی کیمپس میں کسی ایسے طالب علم یا طالبہ کو نہیں دیکھا گیا جس کا لباس قابل اعتراض ہو۔‘

کیا اس ڈریس کوڈ کا اطلاق باقی شعبوں اور دوسرے کیمپس پر بھی ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں طاہر راٹھور نے کہا کہ ’تمام شعبوں اور کیمپس کے لیے ڈریس کوڈ یکساں ہے۔‘

یہ نوٹس جاری کرنے والے شعبہ کیمسٹری کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمان سے کئی کوششوں کے باوجود بات نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں چند روز قبل ایک سرکاری کالج کے پروفیسر اظہر عباس کو جینز پہن کر کالج جانے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر تعلیم کی جانب سے سرزنش کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس