'کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ'

صدر عارف علوی نے تقریر کرنا شروع کی تو وزیراعظم عمران خان نے انہیں ٹوکا اور نشست سے کھڑے ہو کر خطاب کرنے کو کہا۔

'کیا کوئی ایسی کتاب ہے جو صدر اور وزیراعظم کو سکھا سکے کہ بطور صدر اور وزیراعظم کیا رویہ رکھنا ہے۔'  فوٹو: عمران خان آفیشل - فیس بک

’کھڑے ہو جاؤ، کھڑے ہو جاؤ،‘ یہ وہ الفاظ تھا جو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے صدر پاکستان عارف علوی کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی موجودگی میں کہے۔

صدر پاکستان عارف علوی کے بائیں جانب بالترتیب سعودی ولی وعہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان تشریف فرما تھے۔ صدر عارف علوی نے جب تقریر کرنا شروع کی تو اپنی نشست پر ہی موجود رہے جس پر وزیراعظم عمران خان، جن کے منہ میں ابھی تک نوالہ موجود تھا، نے انہیں ٹوکا اور نشست سے کھڑے ہو کر خطاب کرنے کو کہا۔

یہ دلچسپ امر ہے کہ صدر کا عہدہ وزیراعظم کے عہدے سے بڑا ہوتا ہے۔

صدر پاکستان اور وزیراعظم کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

صحافی اور فلمساز ثناء بچہ نے سوال پوچھا کہ کیا کوئی ایسی کتاب ہے جو صدر اور وزیراعظم کو سکھا سکے کہ بطور صدر اور وزیراعظم کیا رویہ رکھنا ہے تا کہ ہم اس شرمندگی سے بچ سکیں کہ وزیراعظم کھانا کھا رہے ہیں اور صدر پاکستان ولی عہد کے اعزاز میں تقریر کرنے کے لیے خود کھڑے نہیں ہو سکتے، انہیں بتانا پڑتا ہے۔ 

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم کی دوران ملازمت تربیت جاری ہے۔

معروف صحافی مطیع اللہ جان نے وزیراعظم کی جانب سے صدر کو کھڑے ہونے کے کہنے کو سرکاری قوانین (چین آف کمانڈ) سے مشابہت دی جس کے مطابق صدر وزیراعظم کی تجویز (ایڈوائس) پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھا:

مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آپ کا مہمان کھانا نہ شروع کرے تب تک آپ کو کھانا شروع نہیں کرنا چاہیے اور جب وہ کھانا ختم کر دے تو آپ کو بھی کر دینا چاہیے۔

سینئیر صحافی طلعت حسین نے وزیراعظم کے کھانا چباتے ہوئے بات کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ کیا ایسے کھانا ضروری ہے کہ جیسے کل نہیں آئے گی؟

صحافی نائلہ عنایت نے لکھا کہ ان [صدر عارف علوی] کو ہر وقت ہدایات کی ضرورت ہوتی ہے۔

عیسیٰ نقوی نے ویڈیو پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف سابق صدر ممنون حسین کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ