اویغور مسلمانوں کی حمایت پر چین نے فٹبال میچ کی کوریج روک دی

اوزل نے گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر چین کی جانب سے اویغور مسلمانوں کے خلاف رکھے جانے والے ناروا سلوک پر سخت تنقید کی تھی تاہم ان کے کلب آرسنل نے خود کو ان کے بیان سے دور رکھا تھا۔

اوزل نے سوشل میڈیا پر چین کی جانب سے اویغور مسلمانوں کے خلاف رکھے جانے والے ناروا سلوک پر سخت تنقید کی تھی (اے ایف پی)

چین کے سرکاری براڈکاسٹر سی سی ٹی وی نے مبینہ طور پر آرسنل کے ترک نژاد جرمن کھلاڑی مسعود اوزیل کی جانب سے سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کی حمایت میں آواز اٹھانے پر پریمیئر لیگ میں آرسنل اور مانچسٹر سٹی کے درمیان میچ کی کوریج روک دی۔

اوزل نے گذشتہ ہفتے سوشل میڈیا پر چین کی جانب سے اویغور مسلمانوں کے خلاف رکھے جانے والے ناروا سلوک پر سخت تنقید کی تھی تاہم ان کے کلب آرسنل نے خود کو ان کے بیان سے دور رکھا تھا۔

انگریزی زبان میں شائع ہونے والے چینی سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ اوزل کے ’جھوٹے‘ بیان کے بعد آن لائن براڈکاسٹر پی پی ٹی وی بھی اس میچ کی کوریج روک سکتی ہے۔

گلوبل ٹائمز نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا: ’چین کے سرکاری سی سی ٹی وی نے اتوار کو آرسنل اور مانچسٹر سٹی کے درمیان کھیلے گئے میچ کی کوریج اس لیے روک دی تھی کیوں کہ آرسنل کے سٹار کھلاڑی اوزل نے سنکیانگ کے حوالے سے ’جھوٹا‘ بیان دیا تھا جس سے چین کے شائقین اور فٹبال حکام کو شدید مایوسی ہوئی تھی۔‘

’آن لائن براڈکاسٹر پی پی ٹی وی بھی اس میچ کو نشر ہونے سے روک سکتی ہے۔‘

چین کی فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اوزل کا بیان ’ناقابل قبول‘ ہے اور اس سے چینی فٹبال شائقین کی دل آزاری ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترک نژاد مسلم کھلاڑی اوزل نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں اویغور برادری کو ’جنگی سپاہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بہادری سے ’ظلم و ستم‘ کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے اویغور مسلمانوں کے خلاف چین کے ’کریک ڈاؤن‘ اور اس پر مسلم ممالک کی ’خاموشی‘ پر بھی شدید تنقید کی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ چین نے اویغور نسل کے دس لاکھ افراد کو مقدمے قائم کیے بغیر ہائی سکیورٹی کیمپس میں قید کیا ہوا ہے تاہم بیجنگ ان افراد کے ساتھ بدسلوکی کے دعووں کو مسترد کرتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ پرتشدد مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے لوگوں کو ’ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز‘ میں تعلیم دے رہا ہے۔

چین میں کسی کھیل کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اکتوبر میں نیشنل باسکٹ بال ایسوسی ایشن (این بی اے) کو اس وقت بڑا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا تھا جب ہیوسٹن راکٹس کے جنرل مینجر ڈیرئل مورے نے ایک ٹویٹ میں ہانگ کانگ میں جاری جمہوریت پسند مظاہرین کی حمایت کی تھی جس کے بعد چین نے کلب کی سپانسرشپ اور ٹیلی کاسٹ معاہدہ معطل کر دیا تھا۔

ہیوسٹن راکٹس کے سپرسٹار چینی کھلاڑی یاؤ منگ کی بدولت یہ کلب کسی زمانے میں چین کی ٹیم تصور ہوتی تھی۔ یاؤ منگ نے ملک میں باسکٹ بال کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم اب اس ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں پر مشتمل تجارتی سامان چین کے این بی اے سٹورز پر دستیاب نہیں ہے۔

چین میں باسکٹ بال کی معروف ویب سائٹ ’ہوپو‘ نے ڈیرئل مورے کے بیان کے بعد ہیوسٹن راکٹس کی ایک بھی خبر شائع نہیں کی ہے۔      

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال