سزائے موت پانے والے مشرف دبئی میں کس حال میں ہیں؟

آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کی مرکزی جنرل سیکرٹری مہرین ملک آدم نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے ان کے سرپرست اعلیٰ  کو بہت زیادہ ذہنی دھچکا لگا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی بنائی ہوئی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کی مرکزی جنرل سیکرٹری مہرین ملک آدم نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے ان کے سرپرست اعلیٰ  کو بہت زیادہ ذہنی دھچکا لگا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے معالج نے سزائے موت کی خبر ان سے چھپانے کی ہدایت کی تھی جس کی وجہ سابق صدر کی خراب صحت ہے۔

تاہم مہرین ملک آدم نے کہا کہ نیوز چینلز اور اخبار سے پرویز مشرف کو سنگین غداری کی خصوصی عدالت کے فیصلے کا علم ہو گیا۔ جس سے انہیں بہت زیادہ افسوس ہوا۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی صحت سے متعلق انہوں نے کہا کہ سابق آرمی چیف بہت زیادہ بیمار ہیں۔ یہاں تک کہ وہ چل پھر بھی نہیں سکتے۔

مہرین ملک آدم نے مزید کہا کہ طبیعت خراب ہونے کی صورت میں انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لے جایا جاتا ہے۔

’اس وقت جب وہ یہ انٹرویو دے رہی ہیں تو مشرف صاحب دبئی کی ایک ہسپتال میں موجود ہیں۔ جہاں ان کی کیمو تھراپی کی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دعوی کیا کہ پرویز مشرف کی صحت انہیں اجازت دے تو وہ فوراً پاکستان واپس آئیں گے۔ اے پی ایم ایل کی رہنما نے کہا پرویز مشرف اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں جبکہ ان کا بیٹا اور بیٹی بھی اکثر اوقات آتے ہیں۔

مہرین کا کہنا تھا کہ دبئی میں موجود جنرل پرویز مشرف کے حمایتی اور پارٹی کارکن ان کی رہائش گاہ آتے ہیں اور صحت اجازت دے تو جنرل مشرف ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔

خصوصی عدالت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہرین نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے ملک میں سیاسی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے سلسلے میں تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اس مقدمے سے متعلق حقائق کا علم ہوا اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس متعلق اپنی رائے تبدیل کی۔

 پرویز مشرف کے مستقبل کے لائحہ عمل سے متعلق سوال کے جواب میں مہرین نے کہا کہ اس سلسلے میں ان کے وکلا مختلف امکانات پر غور کر رہے ہیں۔

سزائے موت کے فیصلے کے خلاف احتجاج سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ’ہماری جماعت نے احتجاجی مہم شروع کر دی ہے اور مستقبل قریب میں احتجاج کا مومینٹم بڑھایا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 2010 میں لندن میں رہائش کے دوران آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ خود اے پی ایم ایل کے بانی صدر تھے۔ تاہم 2018 میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد انہیں جماعت کا سرپرست اعلیٰ بنا دیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست