ایل این جی کیس: مفتاح کی ضمانت مگر شاہد خاقان عباسی اندر کیوں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی ہے کہ وہ روزانہ کیس کی تحقیقات کرنے والے نیب افسر کو ٹیلی فون کریں۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل 49 روز نیب کی زیرحراست  رہے(اے یف پی)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کو پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ایل این جی کرپشن کیس میں ضمانت منظور کر لی۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مفتاح اسماعیل کو ضمانت کے دوران ہر روز ایل این جی کرپشن ریفرنس کی تحقیقات کرنے والے قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر کو ٹیلیفون کرنے کی ہدایت کی۔ 
عدالت نے یہ ہدایت نیب کے اس خدشے کے پیش نظر کی کہ ملزم دوران ضمانت بیرون ملک فرار ہو سکتے ہیں۔ 
بینچ کے سربراہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجرم ثابت ہونے تک ہر شخص معصوم ہوتا ہے۔
مفتاح اسماعیل کے وکیل نے آج سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل پر غیر قانونی طریقے سے کنسلٹنٹ کی تقرری کا الزام ہے جبکہ کنسلٹنٹ یو ایس ایڈ نے لگایا تھا۔ 
چیف جسٹس کے دریافت کرنے پر کہ ملزم کا کتنا ریمانڈ لیا گیا تھا؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ 49 روز سے ان کی حراست میں ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ابھی تک ملزم سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ایل این جی کیس میں عبوری ریفرنس دائر کیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔ 
نیب پراسیکیوٹر نےعدالت کو مزید بتایا کہ مقدمے کے گواہوں کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت کے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ایل این جی کیس میں چیئرمین سوئی سدرن کمپنی زہیر صدیقی وعدہ معاف گواہ ہیں اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری پرنسپل اکاؤنٹنگ آفسر ہوتے ہیں اور اگر سیکریٹری نہ چاہے تو کوئی کام نہیں ہوتا۔ 
چیف جسٹس نے مزید پوچھا کہ سیکریٹری نے کہاں لکھا ہے کہ ایل این جی ٹرمینل کے ٹھیکے میں کچھ غلط ہوا؟ 
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ ملزم کی حراست کے دوران کیا پیش رفت ہوئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم ملزم سے کچھ دستاویزات حاصل کی گئی ہیں۔
عدالت نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد مفتاح اسماعیل کو ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔ 
یاد رہے کہ اسی کیس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی ملزم ہیں، جنہیں رواں سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 
تاہم عباسی ابھی تک نیب کی حراست میں ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک ضمانت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ 
عباسی کی قانونی ٹیم کے رکن اور وکیل صہیب احمد کے مطابق سابق وزیر اعظم تو اس کیس کے خاتمے کی بات کرتے ہیں کیونکہ یہ ’ایک جھوٹا اور بے بنیاد ریفرنس ہے‘۔ 
تاہم صہیب احمد کا خیال ہے کہ اب جب ایل این جی کا ریفرنس احتساب عدالت میں دائر ہو چکا ہے اور باقی دونوں ملزمان کی ضمانت بھی ہوگئی ہے تو امکان ہے کہ وہ (شاہد خاقان عباسی) خود بھی ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔
دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے سندھ روشن پروگرام کرپشن کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کی بھی عبوری ضمانت منظور کر لی۔
واضح رہے کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور، خورشید شاہ اور آغا سراج درانی کی بھی حال میں ضمانتیں ہو چکی ہیں۔ 
مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف، صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز بھی ضمانت پر آزاد ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان