مصنوعی ذہانت کا امتحان، چینی کمپنی کی گوگل، مائیکرو سافٹ کو مات

چین کی ٹیکنالوجی جائنٹ بائیڈو نے مصنوعی ذہانت کے ایک مقابلے ’جنرل لینگوئج انڈر سٹینڈنگ ایولوایشن‘ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے ہیں۔

گلوٹیسٹ مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا ٹیسٹ تصور ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ایک مشین کتنے بہتر انداز میں انسانی زبان سیکھ سکھتی ہے

(پکسا بے)

چین کی ٹیکنالوجی جائنٹ کمپنی بائیڈو نے مصنوعی ذہانت کے ایک مقابلے میں گوگل اور مائیکرو سافٹ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

بائیڈو نے، جسے چین کی گوگل کمپنی تصور کیا جاتا ہے، ’جنرل لینگوئج انڈر سٹینڈنگ ایولوایشن‘ (گلو) میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے۔

گلو ٹیسٹ مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا ٹیسٹ تصور ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ایک مشین کتنے بہتر انداز میں انسانی زبان سیکھ سکھتی ہے۔

بائیڈو کا ماڈل ’ایرنی‘ (Enhanced Representation through kNowledge Integration)  پہلا ماڈل ہے جس نے اس ٹیسٹ میں 90 سے زائد نمبر حاصل کرتے ہوئے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور یونیورسٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

گلو ٹیسٹ میں انسان کا اوسط سکور 87.1 ہے اور ایرنی ان 10 مصنوعی ذہانت سسٹم میں شامل ہو گیا ہے جو اس بینچ مارک کو عبور کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرنی نے پچھلے سال ہی تخلیق ہونے والے گوگل کے ماڈل ’برٹ‘ جیسا طریقہ اپنایا ہے۔

ایرنی اور برٹ، یہ دونوں نام بچوں کے مشہور زمانہ سیسمی سٹریٹ کے کرداروں پر رکھے گئے ہیں، جملے کے ہر لفظ کے پچھلے اور اگلے لفظ کا بھی مکمل ترجمہ اور تجزیہ کرتے ہیں تاکہ جملے کا درست مطلب اخذ کیا جا سکے۔

ایرنی ماڈل کو پہلے چینی زبان سمجھنے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور بعد میں اسے انگریزی الفاظ کے لیے استعمال کیا گیا۔

بائیڈو کے ریسرچرز کو پتہ چلا کہ اس طریقے سے ایرنی کا الگورتھم انگریزی سمجھنے میں کہیں آگے ہے۔

بائیڈو ریسرچ کے چیف آرکیٹیکٹ ہاؤ تیان نے سب سے پہلے یہ خبر بریک کرنے والے ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کو بتایا ’جب ہم نے پہلے پہل اس پر کام شروع کیا تو ہمارے ذہن میں صرف چینی زبان کے حروف تھے، لیکن ہمیں جلد ہی سمجھ آ گیا کہ اسے دوسری زبانوں پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔‘

بائیڈو پہلے ہی اس ماڈل کو اپنے سرچ انجن کو بہتر نتائج دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اگلے سال ’ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کانفرنس کے موقعے پر ایک مقالہ پیش ہو گا، جس میں تفصیل سے بتایا جائے گا کہ ایرنی کو گلو ٹیسٹ کے لیے کیسے تیار کیا گیا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی